ماسکو میں بدھ کو تیسرا روس افریقہ سربراہ اجلاس شروع ہو رہا ہے، جو 28 اور 29 اکتوبر تک جاری رہے گا۔ یہ 2019 میں سوچی اور 2023 میں سینٹ پیٹرزبرگ کے بعد اس سلسلے کا تیسرا اجلاس ہے، اور اس بار اس کا دائرہ پہلے سے وسیع نظر آتا ہے۔
اہم نکات
- 48 افریقی ممالک کے وفود شرکت کر رہے ہیں، جن میں سے 22 کی نمائندگی ان کے سربراہان مملکت کر رہے ہیں — 2023 کے 17 سربراہان سے زیادہ۔
- اجلاس کی مشترکہ صدارت روسی صدر ولادیمیر پوتن اور برونڈی کے صدر ایوارسٹے ندائشمیے کریں گے، جو اس وقت افریقی یونین کے چیئرپرسن ہیں۔
- اجلاس میں 33 دستاویزات پر دستخط متوقع ہیں، جن میں اقتصادی تعاون کے معاہدے شامل ہیں۔
- ایجنڈے میں تجارت، توانائی، خوراک کی سلامتی، سائنس، ٹیکنالوجی، تعلیم اور مصنوعی ذہانت شامل ہیں، اور 2027 تا 2029 کے لیے شراکت داری کا ایکشن پلان منظور کیا جائے گا۔
کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے اجلاس سے پہلے کہا کہ روس اور افریقی ممالک کثیر قطبی عالمی نظام کی تعمیر میں قدرتی اتحادی ہیں، یعنی ایک ایسا نظام جس میں سیاسی طاقت صرف مغرب تک محدود نہ رہے بلکہ کئی خطوں میں بٹی ہو۔ یہ جملہ ماسکو کے اس پورے بیانیے کا خلاصہ ہے جس کے تحت وہ افریقہ کو مغربی تسلط کے خلاف ایک ہم خیال شراکت دار کے طور پر پیش کرتا ہے۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب روس یوکرین جنگ کے باعث بھاری مغربی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے اور کئی افریقی حکومتوں کو سیکیورٹی معاونت فراہم کر رہا ہے۔ سوویت دور سے چلی آ رہی قربت کو بنیاد بنا کر ماسکو نے افریقہ کو اپنی خارجہ پالیسی کا ایک اہم ستون بنا لیا ہے، اور پوتن کی نوآبادیات مخالف تنقید نے خاص طور پر ساحل کے ان ممالک میں گونج پیدا کی ہے جو کبھی فرانس کی نوآبادیاں تھے۔
شرکاء میں مالی کے صدر اسیمی گوئٹا بھی شامل ہیں، جن کی حکومت جہادی عسکریت پسندوں کے خلاف روسی نیم فوجی دستوں کی مدد لے رہی ہے۔ مالی کی فوجی حکومت 2020 اور 2021 کی دو بغاوتوں کے بعد اقتدار میں آئی، فرانس سے دور ہوئی اور روس کے قریب چلی گئی۔ اس ملاقات کو ماسکو کی افریقہ میں سیکیورٹی شراکت داری کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اجلاس کا ایک حساس پہلو کانگو اور روانڈا کے درمیان کشیدگی ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے وفود ماسکو میں موجود ہیں۔ کانگو کے صدر فیلکس تشیسیکیدی خود شرکت کر رہے ہیں، جبکہ روانڈا کی نمائندگی وزیر اعظم جسٹن نسینگیوموا کریں گے۔ روانڈا کی حمایت یافتہ ایم 23 تحریک نے 2021 میں دوبارہ ہتھیار اٹھانے کے بعد مشرقی کانگو کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا، اور دسمبر میں امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی کے باوجود جھڑپیں وقفے وقفے سے جاری ہیں۔
گھانا کے صدر جان ڈرامانی مہاما نے مغربی دباؤ کے حوالے سے کہا تھا کہ شراکت داریوں کا فیصلہ بیرونی طاقتوں کی مسابقت سے نہیں بلکہ اس سے ہونا چاہیے کہ وہ سرمایہ کاری اور منافع منصفانہ دیں یا نہیں۔ یہ تبصرہ افریقی رہنماؤں کے اس رویے کی عکاسی کرتا ہے جس میں وہ کسی ایک کیمپ کا حصہ بننے کے بجائے ہر شراکت سے ٹھوس فائدہ چاہتے ہیں۔
اقتصادی و انسانی فورم اجلاس کے ساتھ ساتھ چلے گا، جس میں حکومتی عہدیدار، کاروباری رہنما اور ماہرین شرکت کریں گے۔ روس افریقہ میں اپنی سفارتی موجودگی بھی بڑھا رہا ہے — براعظم میں اس کے 48 سفارت خانے ہیں اور لائبیریا میں 49 ویں سفارت خانے کے قیام کا منصوبہ ہے۔ ہر سال ہزاروں افریقی طلبہ روسی جامعات میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، جو نرم سفارت کاری کا ایک خاموش مگر مستقل ذریعہ ہے۔
اس اجلاس کی اصل اہمیت اس کے اعلانات میں نہیں بلکہ اس سوال میں ہے کہ آیا یہ شراکت داری افریقی ممالک کے لیے تجارت، توانائی اور ٹیکنالوجی میں حقیقی سرمایہ کاری میں بدلے گی یا صرف بیانات اور تصویروں تک محدود رہے گی۔ سربراہان کی بڑھتی ہوئی تعداد ماسکو کے لیے ایک سفارتی کامیابی ہے، لیکن افریقی دارالحکومتوں میں اس کا فیصلہ اسی کسوٹی پر ہوگا جس کا ذکر صدر مہاما نے کیا تھا: سرمایہ کاری آئی یا نہیں، اور منافع منصفانہ تھا یا نہیں۔

قارئین کے تبصرے (0)