Monday, 26 October 2026
بریکنگ نیوز
سیاست

سندھ میں نیا صوبہ ناممکن: کھوڑو نے آئینی راستہ بند قرار دے دیا

سندھ اسمبلی (فائل تصویر)

لاڑکانہ — پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو نے اتوار 25 اکتوبر کو واضح کر دیا کہ سندھ میں نیا صوبہ بنانا آئینی طور پر ممکن نہیں۔ حلقہ پی ایس 15 میروخان میں کھبر کلہوڑو اور بہادر بھنڈ میں ترقیاتی اسکیموں کے افتتاح کے بعد بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی کی متفقہ قراردادوں نے اس بحث کا راستہ بند کر دیا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب نئے صوبوں کی بحث ایک بار پھر قومی سیاست میں زیر بحث ہے۔

کھوڑو نے اصل میں کیا کہا؟
ان کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی پہلے ہی چھ بار نئے صوبوں کے خلاف قراردادیں پاس کر چکی ہے۔ ان کے مطابق سندھ میں پہلے ہی چھ ڈویژنز موجود ہیں، اور اگر نئے صوبے بننے ہی ہیں تو گلگت بلتستان اور پنجاب سے بنائے جائیں۔ یہ جملہ اس بحث کی سمت بدلنے کی کوشش ہے — سندھ سے توجہ ہٹا کر دوسرے خطوں کی طرف۔

آئین میں نیا صوبہ کیسے بنتا ہے؟
یہ نکتہ کھوڑو کے موقف کی بنیاد ہے۔ آئین کے آرٹیکل 239(4) کے تحت نیا صوبہ بنانے کا اختیار پارلیمنٹ کا نہیں بلکہ متعلقہ صوبائی اسمبلی کا ہے، اور اس کے لیے دو تہائی اکثریت سے قرارداد لازم ہے۔ یعنی اسلام آباد میں بیٹھ کر سندھ کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا — فیصلہ سندھ اسمبلی کے ارکان کو کرنا ہے۔ 3 ستمبر 2026 کو سندھ اسمبلی نے متفقہ طور پر تقسیم کی مخالفت کی قرارداد منظور کی تھی، جسے کھوڑو نے خود پیش کیا تھا اور جس میں یہی جملہ تھا کہ “سندھ ایک ہے اور ایک رہے گا”۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے اس وقت کیا کہا تھا؟
مراد علی شاہ نے اس موقع پر کہا تھا کہ سندھ کے مستقبل کا فیصلہ لاہور میں بیٹھے چند کاروباری افراد نہیں کر سکتے۔ صرف سندھ اسمبلی کے ارکان کو اس کا اختیار ہے۔ کھوڑو کا تازہ بیان اسی موقف کی توسیع ہے، فرق صرف یہ ہے کہ اب وہ اسے لاڑکانہ کے ترقیاتی کاموں کے ساتھ جوڑ رہے ہیں۔

کھوڑو نے بلدیاتی نظام کے بارے میں کیا دعویٰ کیا؟
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت مقامی کونسلوں کو سالانہ 150 ارب روپے سے زیادہ اوکٹرائے ضلع ٹیکس دیتی ہے، اور ہر یونین کونسل کو ماہانہ 10 لاکھ روپے ترقیاتی کاموں کے لیے ملتے ہیں۔ یہ دعویٰ اس دلیل کا حصہ ہے کہ سندھ میں انتظامی تقسیم کی ضرورت نہیں، بلکہ مقامی حکومتوں کو وسائل مل رہے ہیں۔ مخالفین البتہ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ فنڈز کا اعلان اور زمین پر خرچ دو الگ باتیں ہیں۔

یہ بیان کیوں اہم ہے؟
نئے صوبوں کی بحث 101urdu پر 7 اکتوبر کو بھی زیر بحث آئی تھی، جب یہ معاملہ پارلیمنٹ تک پہنچا تھا۔ کھوڑو کا بیان اس بحث میں پیپلز پارٹی کا تازہ اور حتمی لہجہ ہے: وہ اسے آئینی سوال بنا کر بحث کو بند کرنا چاہتے ہیں، نہ کہ سیاسی نعرہ بنا کر جاری رکھنا۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ آئینی راستہ بند ہونے کا مطلب سیاسی بحث کا ختم ہونا نہیں — نئے صوبوں کا مطالبہ پاکستان میں بار بار اٹھتا رہا ہے، اور ہر بار اس کا جواب آئینی حوالوں سے ہی دیا گیا ہے۔

اصل امتحان اب یہ ہوگا کہ کیا یہ بحث پارلیمنٹ کے ایوانوں میں کسی قرارداد یا بل کی صورت اختیار کرتی ہے، یا کھوڑو کے بیان کے بعد یہ صرف بیانات تک محدود رہتی ہے۔ سندھ اسمبلی کی چھ قراردادیں اس وقت تک سب سے مضبوط دیوار ہیں، جب تک کوئی نئی اسمبلی انہیں چیلنج نہیں کرتی۔

مزید پڑھیں: نئے صوبوں کی بحث پارلیمنٹ پہنچ گئی

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *