Monday, 26 October 2026
بریکنگ نیوز
پاکستان

سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ راولپنڈی میں انتقال کر گئے

سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ وردی میں سلامی لیتے ہوئے

پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل (ریٹائرڈ) عبدالوحید کاکڑ راولپنڈی میں انتقال کر گئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے پیر 26 اکتوبر کو ان کے انتقال کی تصدیق کی۔ وہ 89 برس کے تھے۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سمیت پاک فوج کے تمام افسران و جوان مرحوم جنرل کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا: “پاک فوج کے سربراہ اور تمام رینکس مرحوم جنرل کی ممتاز فوجی خدمات، قیادت اور پاک فوج کے لیے گراں قدر خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔”

بیان میں مزید کہا گیا کہ پاک فوج غمزدہ خاندان کے غم میں شریک ہے اور دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اہل خانہ کو صبر جمیل دے۔

صدر آصف علی زرداری نے بھی جنرل کاکڑ کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر کی دعا کی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ان کی پاک فوج کے لیے “گراں قدر خدمات” کو خراج عقیدت پیش کیا۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ وہ جنرل کاکڑ کے انتقال پر “گہرے دکھ” میں مبتلا ہیں اور ان کی پاکستان اور پاک فوج کے لیے ممتاز خدمات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے یاد رکھا جائے گا۔ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ مرحوم جنرل اپنی پیشہ ورانہ لگن اور فرائض کی ادائیگی کے انداز کے باعث “ہمیشہ عزت و احترام سے یاد رکھے جائیں گے”۔

عبدالوحید کاکڑ 23 مارچ 1937 کو ژوب، بلوچستان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1956 میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی اور 1959 میں فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ وہ 1965 اور 1971 کی جنگوں میں شریک رہے اور بعد ازاں کوئٹہ میں بارہویں کور سمیت کئی اہم کمان اور اسٹاف عہدوں پر فائز رہے۔

12 جنوری 1993 کو انہیں کئی سینئر جرنیلوں پر فوقیت دے کر آرمی چیف مقرر کیا گیا۔ یہ تقرری اس وقت بھی موضوع بحث بنی، مگر ان کے دور کا سب سے یادگار باب اسی سال کا آئینی بحران تھا۔ صدر غلام اسحاق خان نے وزیراعظم نواز شریف کی حکومت برطرف کر دی تھی اور صدر و وزیراعظم کے درمیان کشمکش طول پکڑ گئی تھی۔

اس تعطل میں جنرل کاکڑ نے مفاہمت کی راہ نکالی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ صدر اور وزیراعظم دونوں اپنے عہدوں سے دستبردار ہو گئے، نئے عام انتخابات کا راستہ کھلا اور بے نظیر بھٹو دوبارہ وزیراعظم بنیں۔ اقتدار پر قبضہ کرنے کے بجائے ملک کو انتخابی عمل کی طرف لوٹانا ان کے دور کی وہ خصوصیت ہے جس کا حوالہ آج بھی دیا جاتا ہے۔ جنوری 1996 میں مدت مکمل ہونے پر وہ ریٹائر ہو گئے۔

یہی وجہ ہے کہ جنرل کاکڑ کا نام پاکستانی تاریخ میں صرف ایک سابق آرمی چیف کے طور پر نہیں، بلکہ نوے کی دہائی کے اس نازک موڑ کے حوالے سے یاد رکھا جائے گا جب فوجی قیادت نے سیاسی تعطل کو مارشل لا کے بجائے ووٹ کے ذریعے حل کرنے کی راہ دکھائی۔ اس وقت ملک میں سول ملٹری تعلقات پر بحث آج بھی جاری ہے، اور 1993 کا وہ فیصلہ اس بحث میں ایک حوالے کی حیثیت رکھتا ہے۔

جنرل کاکڑ کی وفات کے ساتھ نوے کی دہائی کے ٹرائیکا دور کی ایک اہم شخصیت رخصت ہو گئی۔ ان کے انتقال پر فوجی قیادت، سیاسی جماعتوں اور عوامی حلقوں کی جانب سے تعزیت کا سلسلہ جاری ہے۔ آج تہران میں آج کی اہم ملاقات میں بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر شریک ہیں، جو اس بات کی یاد دہانی ہے کہ فوجی قیادت کا کردار آج بھی ملکی و علاقائی سیاست میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے — بالکل ویسے ہی جیسے جنرل کاکڑ کے دور میں تھا۔ اس سے قبل ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی پاک فوج کے کردار سے متعلق اہم وضاحتیں پیش کی تھیں۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *