واشنگٹن — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار 25 اکتوبر کو واضح کیا کہ ایران پر “آج” کوئی حملہ نہیں ہوگا۔ مشی گن میں ایک ریلی کے لیے وائٹ ہاؤس سے روانگی کے وقت صحافیوں کے سوال پر ان کا جواب مختصر تھا: “کیا میں آپ کو یہ بتاؤں گا؟ لیکن جواب نہیں ہے۔ آج کوئی حملہ نہیں ہوگا۔” یہ اعلان ان کے اپنے ایک روز پہلے والے بیان سے بالکل الٹ تھا، جس میں انہوں نے نئے حملوں اور جامع معاہدے دونوں کو ممکن قرار دیا تھا۔
اسی اتوار کو فاکس نیوز کو انٹرویو میں ٹرمپ نے انتخاب کو دو لفظوں میں سمیٹا: “کیا میں ان سے معاہدہ کروں، یا ان کا کام تمام کر دوں؟ یہی واحد سوال ہے۔” یہ جملہ بتاتا ہے کہ واشنگٹن میں فیصلہ ابھی نہیں ہوا — صرف آج کی تاریخ خارج ہوئی ہے، آپشن نہیں۔
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے بارے میں بھی بڑا دعویٰ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اب اس آبی گزرگاہ کو کنٹرول کرتا ہے، اور اس سے گزرنے والی تجارتی آمدورفت جنگ سے پہلے کی سطح سے بھی زیادہ ہے۔ یہ دعویٰ اس لیے اہم ہے کہ دنیا کی تیل تجارت کا بڑا حصہ اسی تنگ گزرگاہ سے گزرتا ہے، اور اس کی بندش یا کشیدگی براہ راست عالمی منڈی اور پاکستان جیسے درآمد کنندگان کی قیمتوں پر اثر ڈالتی ہے۔
سفارتی محاذ پر بھی اتوار کو حرکت رہی۔ واشنگٹن سے مربوط کوششوں کے تحت قطری ثالث تہران میں موجود تھے۔ ایران کے پاکستان میں سفیر نے بتایا کہ تہران نے پاکستانی ثالثوں کے ذریعے پیغام دیا ہے کہ اگر واشنگٹن بحری ناکہ بندی اٹھا لے تو وہ آبی گزرگاہ دوبارہ کھولنے کو تیار ہے۔ تاہم ایرانی پاسداران انقلاب سے منسلک ایک میڈیا ادارے نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کوئی نئی تجویز پیش نہیں کی گئی۔ یہ تضاد خود بتا رہا ہے کہ مذاکراتی چینل کتنا نازک ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی موقف پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا نے خود کو ایک ایسی دلدل میں دھکیل دیا ہے جو اس کی اپنی بنائی ہوئی ہے۔ ایران نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز کے قریب بندر عباس کے پاس ایک ڈرون مار گرایا ہے۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، لیکن یہ ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں جانب بیان بازی میں کوئی کمی نہیں آئی۔
یہ سب فروری 2026 کے آخر میں شروع ہونے والی امریکا اسرائیل جنگ کے تناظر میں ہو رہا ہے، جس کے بعد جنگ بندی اور حتمی امن معاہدے کی طرف ایک یادداشت بھی سامنے آئی تھی۔ اس کے باوجود حملوں، دھمکیوں اور مذاکرات کا چکر جاری ہے۔ ٹرمپ کا “آج نہیں” کہنا ایک روز کی مہلت تو دیتا ہے، مگر اس کے بعد کیا ہوگا، اس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔
پاکستان کے لیے اس کہانی میں دو براہ راست زاویے ہیں۔ ایک، وہ ثالثی کا کردار جس کا ذکر ایرانی سفیر نے کیا۔ دوسرا، تیل اور تجارت — ہرمز میں کوئی بھی نئی کشیدگی پاکستان کی درآمدی قیمتوں اور مہنگائی پر سیدھا اثر ڈالے گی۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد اس معاملے کو محض دور کی جنگ نہیں سمجھ سکتا۔
آئندہ چند دنوں میں اصل امتحان یہ ہوگا کہ کیا قطری ثالثی کوئی ٹھوس تجویز سامنے لاتی ہے، یا “معاہدہ یا مکمل کارروائی” کا یہ دو راستوں والا بیان ایک اور حملے کی تمہید بن جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: آج تہران میں اہم ملاقات: فیلڈ مارشل عاصم منیر اور سعودی وزیر دفاع ایرانی حکام سے مذاکرات کریں گے

قارئین کے تبصرے (0)