Sunday, 25 October 2026
بریکنگ نیوز
کھیل

154 پر 9 وکٹیں، پھر شاداب کا کمال: پاکستان نے انگلینڈ کو ایک وکٹ سے ہرا کر ٹرائی سیریز فائنل میں جگہ بنا لی

قذافی اسٹیڈیم لاہور میں فلڈ لائٹس کے نیچے کرکٹ میچ

لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں اتوار کی شام وہ سب کچھ ہوا جو کرکٹ کو کرکٹ بناتا ہے — ایک ٹیم ہار کے دہانے پر، ایک کھلاڑی اکیلا کھڑا، اور آخری وکٹ پر ایک ایسی شراکت جسے برسوں یاد رکھا جائے گا۔ شاداب خان کی ناقابل شکست 113 رنز کی اننگز نے پاکستان کو 154 رنز پر 9 وکٹیں گرنے کے بعد انگلینڈ کے خلاف ایک وکٹ سے فتح دلا دی اور گرین شرٹس نے ون ڈے ٹرائی سیریز کے فائنل میں جگہ پکی کر لی۔

242 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان نے 47.1 اوورز میں 243 رنز بنا کر میچ 17 گیندیں قبل ختم کیا۔ شاداب 96 گیندوں پر 13 چوکوں اور 5 چھکوں کے ساتھ 113 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔ یہ ان کی پہلی ون ڈے سنچری تھی، اور اس لحاظ سے بھی تاریخی کہ آٹھویں یا اس سے نچلے نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے ون ڈے میں اتنے رنز پہلے کسی بلے باز نے نہیں بنائے تھے۔

میچ کا رخ اس وقت مکمل طور پر انگلینڈ کی طرف تھا جب 33.5 اوورز میں پاکستان کا اسکور 154 رنز پر 9 وکٹیں تھا۔ ڈیبیو کرنے والے رضا اللہ 8 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو اسٹیڈیم میں سناٹا تھا — جیت کے لیے ابھی 88 رنز درکار تھے اور صرف ایک وکٹ باقی تھی۔ وہاں سے شاداب نے حارث رؤف کے ساتھ 80 گیندوں پر 89 رنز کی ناقابل شکست شراکت قائم کی۔ حارث نے 19 گیندوں پر 7 رنز بنائے، مگر ان کی ذمہ داری رنز سے زیادہ یہ تھی کہ شاداب کو اسٹرائیک ملتی رہے — اور آخری لمحے میں 48ویں اوور کی پہلی گیند پر چوکا لگا کر انہوں نے ہی میچ ختم کیا۔

پاکستان کی اننگز کا آغاز ہی تباہ کن تھا۔ گس اٹکنسن نے فخر زمان کو 10 رنز پر آؤٹ کیا، ڈیبیو کرنے والے ہینری کروکومب نے صائم ایوب کو 6 رنز پر چلتا کیا، اور پھر اٹکنسن نے ہی بابر اعظم کو 10 رنز پر بولڈ کر دیا — 6.5 اوورز میں پاکستان 31 رنز پر 3 وکٹیں گنوا چکا تھا۔ سعد بیگ نے 22 گیندوں پر 7 چوکوں کے ساتھ 32 رنز کی تیز اننگز کھیلی اور سلمان علی آغا کے ساتھ 43 رنز کی شراکت بنائی، مگر پھر وکٹیں وقفے وقفے سے گرتی رہیں: حسن نواز 15، عرفات منہاس ایک، سلمان آغا 26 اور کپتان شاہین شاہ آفریدی 4 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ 23.1 اوورز میں اسکور 103 رنز پر 6 وکٹیں تھا، اور پھر 154 پر 9 — یہاں تک کہ شاداب کا کمال شروع ہوا۔

اس سے پہلے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ پاکستان کے حق میں گیا تھا۔ کپتان شاہین شاہ آفریدی نے 4 وکٹیں لے کر انگلینڈ کی بیٹنگ کی کمر توڑ دی — ٹام بینٹن اور جو روٹ شروع میں ہی آؤٹ ہوئے، ہیری بروک صرف ایک رن بنا کر رن آؤٹ ہوئے۔ بین ڈکٹ نے ضرور 111 گیندوں پر 105 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، سیم کرن نے 52 گیندوں پر 42 اور گس اٹکنسن نے 28 گیندوں پر ناقابل شکست 36 رنز بنائے، مگر پوری ٹیم 46.4 اوورز میں 241 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ رضا اللہ اور عرفات منہاس نے دو دو وکٹیں لیں، حارث رؤف نے ایک شکار کیا۔

میچ کا ایک رنگ اور بھی تھا: پاکستانی کھلاڑی گلابی شرٹس میں میدان میں اترے، جو پاکستان کرکٹ بورڈ کی چھاتی کے سرطان سے آگاہی کی مہم کا حصہ تھا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے شاداب کی اننگز پر اپنے سرکاری اکاؤنٹ سے لکھا: “شاداب سپر اسٹار خان! کیا اننگز ہے! یادگار سنچری!” — اور اس شام لاہور کا اسٹیڈیم اس جملے کی گواہی دے رہا تھا۔

یہ جیت محض ایک میچ کی جیت نہیں۔ تین مسلسل فتوحات کے ساتھ پاکستان 6 پوائنٹس کے ساتھ ٹیبل پر سرفہرست ہے اور 31 اکتوبر کو اسی میدان میں ہونے والے فائنل میں پہنچ چکا ہے۔ سری لنکا 2 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، جبکہ انگلینڈ اپنے تینوں میچ ہار چکا ہے۔ پاکستان کا اگلا میچ منگل 27 اکتوبر کو سری لنکا کے خلاف ہے — اور آج کی اننگز کے بعد ٹیم کا اعتماد اس مقام پر ہے جہاں سے ٹورنامنٹ جیتا جا سکتا ہے۔

شاداب خان کی یہ اننگز اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ طویل عرصے بعد ٹیم میں واپس آئے ہیں، اور آٹھویں نمبر پر آ کر میچ بچانا — بلکہ جتوانا — وہ کام ہے جو عام طور پر کسی آل راؤنڈر سے نہیں، کسی لیڈر سے توقع کی جاتی ہے۔ آج شاداب نے دونوں کردار نبھائے: پہلے وکٹیں بچائیں، پھر گیند بازوں پر حملہ کیا، اور آخر میں آخری وکٹ پر ساتھی کو سنبھال کر ٹیم کو فائنل تک پہنچا دیا۔ قذافی اسٹیڈیم میں موجود ہر تماشائی آج رات یہ کہانی گھر لے کر گیا ہے — کہ میچ تب ختم ہوتا ہے جب آخری وکٹ گر جائے، اس سے پہلے نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے پاکستان کا اسکواڈ اور سری لنکا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کی تیاریوں پر ہماری رپورٹ۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *