مائیکروسافٹ کے محققین نے ایک ایسا مصنوعی ذہانت کا نظام تیار کیا ہے جو مریض کی تشخیص ڈاکٹروں کی طرح قدم بہ قدم کرتا ہے — اور پیچیدہ ترین طبی کیسز میں اس کی درستگی جنرل ڈاکٹروں سے دوگنا سے زیادہ نکلی ہے۔ یہ تحقیق 22 اکتوبر کو سائنس جریدے میں شائع ہوئی ہے۔ اسی دوران گوگل کا مصنوعی ذہانت کی شناخت کا نظام بھی خبروں میں رہا ہے۔
اس نظام کا نام ڈائیگنوسٹک آرکسٹریٹر یعنی DxO ہے۔ عام اے آئی ماڈلز مریض کی تمام علامات، لیب رپورٹس اور اسکین ایک ساتھ دیکھ کر تشخیص بتاتے ہیں۔ DxO اس کے برعکس ایک “آرکسٹریٹر” استعمال کرتا ہے جو ماہر ڈاکٹروں کے ایک فرضی پینل کی طرح کام کرتا ہے: پہلے مریض سے سوالات پوچھتا ہے، پھر جسمانی معائنے کی اہم باتیں طے کرتا ہے، پھر ٹیسٹ تجویز کرتا ہے، نتائج دیکھ کر مزید ٹیسٹ مانگتا ہے، اور ہر قدم پر اپنے اندازے اپ ڈیٹ کرتا ہے۔
اعداد حیران کن ہیں۔ نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن کے 304 پیچیدہ کیسز میں DxO نے 83.2 فیصد درست تشخیص کی، جبکہ سرچ اور حوالہ جاتی مواد استعمال کرنے والے جنرل ڈاکٹروں کی درستگی 36.1 فیصد رہی۔ بغیر حوالہ جاتی مواد کے ڈاکٹروں کی درستگی 22.3 فیصد تھی۔ ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے 325 کیسز میں DxO نے 80.3 فیصد درستگی دکھائی، جبکہ ڈاکٹروں کی 46.8 فیصد۔
ایک اور فرق سوالات پوچھنے کے انداز میں تھا۔ DxO نے پہلا ٹیسٹ تجویز کرنے سے پہلے اوسطاً 25.5 سوالات پوچھے، جبکہ ڈاکٹروں نے صرف 5.6۔ لاگت کے لحاظ سے بھی نظام آگے رہا: بغیر بجٹ کی حد کے DxO کی فی کیس اوسط لاگت 5,431 ڈالر رہی، لیکن بجٹ کی پابندی کے ساتھ اس نے 80.9 فیصد درستگی صرف 2,241 ڈالر میں حاصل کی، جبکہ ڈاکٹروں کی اوسط لاگت 4,725 ڈالر تھی۔
مائیکروسافٹ اے آئی کے ہیلتھ یونٹ کے سربراہ ڈاکٹر ڈومینک کنگ نے کہا ہے کہ “کوئی مریض کبھی اپنی علامات کا صاف ستھرا خلاصہ لے کر نہیں آتا” — اور یہی وہ فرق ہے جو اس تحقیق کو پچھلے ٹیسٹوں سے الگ کرتا ہے، جو زیادہ تر کثیر الانتخابی سوالات پر مبنی تھے۔ مائیکروسافٹ اے آئی کے سی ای او مصطفیٰ سلیمان نے اسے “میڈیکل سپر انٹیلی جنس” کی طرف ایک قدم قرار دیا ہے۔
لیکن احتیاط بھی اتنی ہی اہم ہے۔ تحقیق خود کہتی ہے کہ یہ نتائج ایک کنٹرول شدہ، صرف تحریری بینچ مارک سے آئے ہیں۔ یہ موازنہ انفرادی جنرل ڈاکٹروں سے تھا، ماہرین یا ڈاکٹروں کی ٹیموں سے نہیں۔ تحقیق کے تمام مصنفین مائیکروسافٹ کے ملازمین ہیں اور کمپنی میں حصص رکھتے ہیں، اور تحقیق کی مالی معاونت بھی مائیکروسافٹ نے کی ہے۔
تجزیہ: یہ تحقیق ڈاکٹروں کی جگہ لینے کا اعلان نہیں، بلکہ تشخیص کے طریقے پر سوال ہے۔ ڈاکٹر اکثر کم سوالات پوچھ کر جلدی ٹیسٹ کی طرف جاتے ہیں — وقت کی کمی اور دباؤ اس کی وجہ ہے۔ DxO دکھاتا ہے کہ صبر سے پوچھے گئے زیادہ سوالات بہتر تشخیص دے سکتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے، جہاں ماہر ڈاکٹروں تک رسائی محدود ہے، ایسا نظام دور دراز علاقوں میں ابتدائی تشخیص میں مددگار ہو سکتا ہے — بشرطیکہ اسے ماہرین کی نگرانی میں استعمال کیا جائے، نہ کہ ان کی جگہ۔ اصل امتحان کلینک میں ہوگا، لیب کے بینچ مارک میں نہیں۔
اگلا مرحلہ یہ دیکھنا ہے کہ کیا یہ نظام حقیقی اسپتالوں میں، حقیقی مریضوں کے ساتھ، اور ماہر ٹیموں کے مقابلے میں بھی اتنا ہی درست رہتا ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)