Sunday, 25 October 2026
بریکنگ نیوز
سیاست

پی ٹی آئی کا واضح اعلان: خیبر پختونخوا میں نہ کابینہ بدلے گی نہ تنظیمی ڈھانچہ — گنڈاپور اور راجہ کی لفظی جنگ جاری

اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس — فائل تصویر

پاکستان تحریک انصاف نے واضح کر دیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں نہ صوبائی کابینہ میں کوئی تبدیلی ہوگی اور نہ ہی پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے میں۔ پارٹی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ “اگلے حکم تک پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کی صوبائی کابینہ یا تنظیمی ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی”۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پارٹی کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے درمیان سوشل میڈیا پر لفظی جنگ جاری ہے۔ راجہ نے ایک پوسٹ میں “سازشی بیانیے” پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ کچھ ارکان قید رہنما عمران خان یا پارٹی کی سیاسی کمیٹی کی اجازت کے بغیر نئے صوبائی صدر کے نام کا اعلان کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

راجہ نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ 68 پی ٹی آئی منحرف ارکان نئے صوبائی صدر نامزد کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، اور انہوں نے ان ارکان پر الزام لگایا کہ احتجاجی مارچ کے آخری دنوں میں انہوں نے سہیل آفریدی اور ان کی ٹیم سے رابطہ منقطع کر لیا تھا، جس سے ایمرجنسی اور گورنر راج کی راہ ہموار ہوئی۔

گنڈاپور نے جواب میں راجہ پر “مبہم الزامات” لگانے کا الزام لگایا اور کہا کہ ان کے بیانات سے پارٹی ساتھیوں کے بارے میں شکوک پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے ٹویٹس اور آڈیو پیغامات کی ایک سیریز میں راجہ کے لہجے اور انداز پر سخت اعتراض کیا۔

دوسری طرف وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے بھی پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کے اندر موجودہ سیاسی صورتحال اور مستقبل کے لائحہ عمل پر کوئی اتفاق رائے نہیں ہے۔ انہوں نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومتی عزم کا اعادہ بھی کیا۔

پس منظر میں 28ویں آئینی ترمیم کی بحث بھی چل رہی ہے، جسے پیپلز پارٹی کے رہنما نثار کھہرو پہلے ہی “قبل از وقت” قرار دے چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کے پاس آئین میں ترمیم کے لیے درکار دو تہائی اکثریت نہیں ہے۔

تجزیہ: پی ٹی آئی کا یہ نوٹیفکیشن دراصل اندرونی بغاوت کی خبروں کو روکنے کی کوشش ہے۔ جب ایک پارٹی کے سیکریٹری جنرل اور سابق وزیر اعلیٰ کھلے عام ایک دوسرے پر الزام لگائیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اختلاف صرف تنظیمی نہیں، بلکہ قیادت کے اختیار کا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کابینہ بدلے گی یا نہیں — سوال یہ ہے کہ فیصلے کون کرے گا: قید قائد، پارٹی کی سیاسی کمیٹی، یا صوبے کے ارکان؟ جب تک اس سوال کا جواب واضح نہیں ہوتا، ہر نوٹیفکیشن صرف عارضی خاموشی خریدے گا۔ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے سائے تلے یہ کشمکش پارٹی کے مستقبل کے لیے اس کی سب سے بڑی آزمائش بن چکی ہے۔

آنے والے دنوں میں دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ لفظی جنگ بیانات تک محدود رہتی ہے، یا صوبائی اسمبلی کے اندر کسی عملی تبدیلی میں بدلتی ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *