پاکستان میں سونے کی قیمت میں تیزی سے گراوٹ جاری ہے۔ آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 24 اکتوبر کو فی تولہ سونا 2,500 روپے سستا ہو کر 4,22,036 روپے پر آ گیا۔ اس کے ساتھ ہی ایک ہفتے میں سونا مجموعی طور پر 18,600 روپے فی تولہ گر چکا ہے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یہ گراوٹ کتنی تیز رہی ہے۔ 10 اکتوبر کو سونا 4,42,036 روپے فی تولہ کی ماہانہ بلند ترین سطح پر تھا۔ اس کے بعد سے قیمت میں 20,000 روپے کی کمی آ چکی ہے، جن میں سے 17,000 روپے کی کمی صرف پانچ مسلسل تجارتی سیشنوں میں ہوئی۔ 10 گرام سونا بھی 2,144 روپے سستا ہو کر 3,61,827 روپے پر آ گیا ہے۔
عالمی منڈی میں بھی یہی رجحان ہے۔ ایک ہفتے میں عالمی سونا 186 ڈالر فی اونس گر کر 3,995 ڈالر پر آ گیا، جو 4,000 ڈالر کی نفسیاتی حد سے نیچے ہے۔ چاندی بھی متاثر ہوئی: عالمی چاندی 6.16 ڈالر گر کر 53.80 ڈالر فی اونس ہو گئی، جبکہ پاکستان میں چاندی 457 روپے کی ہفتہ وار کمی کے بعد 5,858 روپے فی تولہ پر ہے۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ کاروبار سست رہا ہے۔ عالمی بلین کی قیمتوں میں تیز گراوٹ نے مقامی خریداروں کو بھی انتظار کرنے پر مجبور کر دیا ہے — جو لوگ شادیوں کے سیزن کے لیے خریداری کا سوچ رہے تھے، وہ اب مزید کمی کی امید میں رکے ہوئے ہیں۔
دوسری طرف اسٹاک مارکیٹ میں بھی مندی رہی۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا کے ایس ای 100 انڈیکس ایک ہفتے میں 4,045 پوائنٹس یعنی 2.4 فیصد گر کر 1,62,375 پوائنٹس پر بند ہوا۔ یہ مسلسل پانچواں ہفتہ ہے جب انڈیکس گرا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق تیل کی قیمتوں اور خطے کی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔
ایک اور اہم اعداد: پاکستان کی معیشت کا حجم 126.4 کھرب روپے یعنی تقریباً 450.4 ارب ڈالر بتایا گیا ہے، جبکہ مالی سال 2025-26 کی شرح نمو 3.70 فیصد سے کم کر کے 3.65 فیصد کر دی گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 21.5 ارب ڈالر پر برقرار ہیں۔
تجزیہ: سونے کی اس گراوٹ کے دو رخ ہیں۔ خریداروں کے لیے یہ ریلیف ہے — خاص طور پر ان خاندانوں کے لیے جو آنے والے مہینوں میں شادیاں طے کر رہے ہیں۔ لیکن سرمایہ کاروں کے لیے یہ ایک وارننگ بھی ہے: سونا جس تیزی سے چڑھا تھا، اسی تیزی سے گر بھی سکتا ہے۔ 4,000 ڈالر کی عالمی حد ٹوٹنا بتاتا ہے کہ عالمی منڈی میں بھی اعتماد ڈگمگا رہا ہے۔ اسٹاک مارکیٹ کی پانچ ہفتوں کی مسلسل گراوٹ کے ساتھ مل کر یہ تصویر بنتی ہے کہ سرمایہ کار فی الحال خطرہ مول لینے سے گریز کر رہے ہیں۔ آنے والے ہفتے میں اسٹیٹ بینک کے مانیٹری پالیسی فیصلے اور کمپنیوں کے سہ ماہی نتائج مارکیٹ کی سمت طے کریں گے۔
عام آدمی کے لیے سبق سادہ ہے: سونا خریدنے سے پہلے جلد بازی نہ کریں، اور قیمتوں کی روزانہ تبدیلی پر نظر رکھیں — کیونکہ اس مہینے کی تاریخ بتاتی ہے کہ ایک ہفتہ بہت کچھ بدل سکتا ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)