Sunday, 25 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

انتخابات سے دو دن پہلے اسرائیل کا بڑا فیصلہ: مغربی کنارے سے تمام زمینی گزرگاہیں بند، ہزاروں مزدوروں کا داخلہ معطل

الخلیل کے پرانے شہر کا بازار — فائل تصویر

اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات کے دن مقبوضہ مغربی کنارے سے تمام زمینی گزرگاہیں بند رہیں گی۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی اتوار سے فلسطینی مزدوروں کے اسرائیل میں داخلے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے، جس میں صنعتی علاقے بھی شامل ہیں۔

اسرائیلی فوج نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا کہ سیاسی قیادت نے “یہودیہ و سامریہ اور وادی اردن میں فلسطینی مزدوروں کے داخلے اور اخراج پر پابندی” کی منظوری دے دی ہے۔ یہ وہی علاقے ہیں جنہیں دنیا مغربی کنارے کے نام سے جانتی ہے۔ فوج کے مطابق پابندی انتخابی دن بھر نافذ رہے گی۔

یہ اعلان الخلیل میں فائرنگ کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔ جمعے کو الخلیل کے قریب ایک چیک پوائنٹ پر فائرنگ میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور تین زخمی ہوئے تھے۔ حماس نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، لیکن اس نے فائرنگ کو سراہا۔ اس کے بعد اسرائیلی فوج الخلیل میں داخل ہوئی اور تقریباً دو ہزار فلسطینیوں کو ان کے گھر چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ بے گھر کیے گئے لوگ اس وقت تک واپس نہیں جا سکیں گے “جب تک ہم الخلیل میں حماس کے تمام معاملات نمٹا نہیں لیتے”۔ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے حملے کا “بھاری قیمت” چکانے کا وعدہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ 1967 میں مغربی کنارے پر قبضے کے بعد سے سب سے بڑا آپریشن تیار کر رہے ہیں۔

اسرائیلی فوج کے مطابق جمعے اور ہفتے کے دوران مغربی کنارے کے 40 علاقوں میں کارروائیاں کی گئیں، اور تقریباً 40 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فوجیوں نے رات گئے لاؤڈ اسپیکروں پر انخلا کے اعلانات کیے۔ فلسطینی اتھارٹی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ متاثرہ شہریوں کے تحفظ کے لیے دباؤ ڈالے۔

یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب نیتن یاہو کو منگل کے انتخابات میں سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ اسرائیل کے سب سے طویل عرصے تک وزیر اعظم رہنے والے نیتن یاہو کی سلامتی کے حوالے سے ساکھ کو 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے نے شدید نقصان پہنچایا تھا۔ اب الخلیل کا واقعہ ان کی انتخابی مہم کے بیچوں بیچ آ گرا ہے۔

تجزیہ: گزرگاہوں کی بندش اور مزدوروں پر پابندی صرف انتخابی دن کا انتظامی فیصلہ نہیں۔ مغربی کنارے کے ہزاروں مزدور اسرائیلی معیشت میں کام کرتے ہیں، اور ان کی آمدن پر ہزاروں خاندانوں کا گزارا ہے۔ ایک دن کی بندش بھی ان خاندانوں کے لیے بھاری پڑتی ہے، جبکہ الخلیل میں بے گھر کیے گئے لوگوں کی واپسی کی کوئی تاریخ نہیں دی گئی۔ سوال یہ ہے کہ انتخابات کے بعد یہ پابندیاں نرم ہوں گی یا الخلیل آپریشن ایک طویل فوجی موجودگی میں بدل جائے گا۔ فلسطینی اتھارٹی کی اپیل سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتی راستے اب بھی کھلے ہیں، لیکن زمین پر فیصلے فوج کے ہاتھ میں ہیں۔

آنے والے دنوں میں سب کی نظریں دو چیزوں پر ہوں گی: منگل کے انتخابات کا نتیجہ، اور الخلیل میں بے گھر خاندانوں کی واپسی۔ دونوں کا ایک دوسرے سے گہرا تعلق ہے، اور دونوں ہی مغربی کنارے کے مستقبل کی سمت طے کریں گے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *