Saturday, 24 October 2026
بریکنگ نیوز
سائنس و ٹیکنالوجی

کوانٹینم کا نیا کوانٹم ریکارڈ: 10 لاکھ آپریشنز میں صرف 5 غلطیاں — 2029 کے ہدف کی طرف بڑا قدم

آئن ٹریپ چپ — ٹریپڈ-آئن کوانٹم کمپیوٹر کا ہارڈویئر، لیبارٹری کی فائل تصویر

کوانٹم کمپیوٹنگ کی دوڑ میں ایک نیا ریکارڈ قائم ہوا ہے۔ امریکی کوانٹم کمپنی کوانٹینم نے انیس اکتوبر کو اعلان کیا کہ اس کے کمرشل کوانٹم کمپیوٹر ہیلیوس نے کوانٹم ایرر-کریکشن میں 99.9995 فیصد لاجیکل فڈیلٹی حاصل کر لی ہے — یعنی دس لاکھ آپریشنز میں صرف پانچ غلطیاں۔ کمپنی کے مطابق یہ نتیجہ اس کے اپنے ستمبر 2026 کے ریکارڈ سے دس گنا بہتر ہے، اور کسی بھی دوسری ہارڈویئر ٹیکنالوجی پر شائع شدہ بہترین نتیجے — جو گوگل کوانٹم اے آئی کی سپرکنڈکٹنگ مشین کا تھا — سے سو گنا بہتر ہے۔

یہاں ایک وضاحت ضروری ہے، کیونکہ کوانٹم کی خبروں میں اصطلاحات الجھا دیتی ہیں۔ فزیکل کیوبٹ مشین کا اصلی، نازک حصہ ہے — یہ آسانی سے شور اور مداخلت سے غلطی کھا جاتا ہے۔ لاجیکل کیوبٹ کئی فزیکل کیوبٹوں کو جوڑ کر بنایا جاتا ہے، اس طرح کہ ان کی غلطیاں آپس میں متوازن ہو کر منسوخ ہو جائیں — جیسے ایک حساب کو تین مختلف طریقوں سے لگا کر یقینی کیا جائے۔ “لاجیکل فڈیلٹی” کا مطلب ہے کہ یہ محفوظ شدہ معلومات کتنی درست رہتی ہیں۔ اس بار کوانٹینم نے کلر کوڈ نامی ایرر-کریکشن طریقہ استعمال کیا، جس میں ایک لاجیکل کیوبٹ بنانے کے لیے 37 تک فزیکل کیوبٹ لگے — ستمبر میں استعمال ہونے والے ہیلکس کوڈ کے مقابلے میں زیادہ (اس میں 10 لگے تھے)، مگر نتیجہ زیادہ درست نکلا۔ اور اہم بات: یہ دونوں تجربات ایک ہی ہیلیوس ہارڈویئر پر ہوئے — یعنی بہتری محض نئی مشین سے نہیں، بہتر کوڈ سے آئی۔

ہم نے ایک ہی کمرشل ہارڈویئر پر مختلف کوڈ استعمال کر کے تیزی سے غلطیاں دس گنا گھٹائی ہیں — یہ ہمارے ایرر-کریکشن آرکیٹیکچر کی لچک کا ثبوت ہے۔

ڈاکٹر راجیب ہزرا، سی ای او، کوانٹینم

اعداد آگے کی کہانی بھی بتاتے ہیں۔ کوڈ کا فاصلہ (code distance) بڑھانے پر لاجیکل غلطیاں ایکسپونینشل طور پر گھٹیں — ہر درجے کے اضافے پر باقی غلطیاں بارہ گنا کم ہوئیں — اور نتیجے میں لاجیکل کیوبٹ اپنے اجزا سے تقریباً سو گنا بہتر نکلا۔ اسی اندازے کی بنیاد پر کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کا طریقہ 100 لاجیکل کیوبٹوں کے لیے تقریباً تیس ہزار فزیکل کیوبٹوں میں کام چلا سکتا ہے، جبکہ اس کے تجزیے میں سپرکنڈکٹنگ طریقے کو اسی مرحلے کے لیے تقریباً نو لاکھ فزیکل کیوبٹ درکار ہوں گے۔ یہ کارکردگی اب کوانٹینم کے منصوبہ بند اپولو سسٹم کے ہدف کے دائرے میں ہے — ایک یونیورسل فالٹ-ٹولرنٹ کوانٹم کمپیوٹر جسے کمپنی 2029 تک متعارف کرانا چاہتی ہے۔ امریکی سینڈیا نیشنل لیبارٹریز کی کوانٹم پرفارمنس لیب کے شریک ڈائریکٹر روبن بلوم-کوہاؤٹ — جو اس تحقیق میں شامل نہیں تھے — کے الفاظ میں، اس سسٹم کا بڑا ورژن دس لاکھ سے کم فزیکل کیوبٹوں میں مفید حساب کتاب کی مطلوبہ قابل اعتمادی حاصل کر سکتا ہے۔

اب تجزیے کا سوال: یہ خبر کیوں اہم ہے؟ کوانٹم کی دوڑ میں خبریں اکثر “کتنے کیوبٹ” کے گرد گھومتی ہیں، مگر ماہرین جانتے ہیں کہ اصل پیمانہ غلطی کی شرح ہے۔ ایک لاکھ ناقص کیوبٹ کسی کام کے نہیں؛ ہزار درست کیوبٹ دوا، مواد اور خفیہ نگاری کے میدان بدل سکتے ہیں۔ اسی پیمانے پر کوانٹینم کی ٹریپڈ-آئن ٹیکنالوجی — جس میں برقی مقناطیسی میدانوں میں پھنسے ہوئے ایٹم کیوبٹ کا کام کرتے ہیں — گوگل اور آئی بی ایم کی سپرکنڈکٹنگ مشینوں سے آگے نظر آ رہی ہے۔ ٹریپڈ-آئن کی کمزوری رفتار ہے، طاقت درستگی؛ اور فالٹ-ٹولرنس کی طرف بڑھتے ہوئے ہر قدم پر درستگی ہی وہ کرنسی ہے جس کی قدر بڑھتی ہے۔ البتہ توازن کے لیے یہ بھی کہنا ضروری ہے: یہ کمپنی کا اپنا اعلان ہے، اور اسکیلنگ کے اندازے بڑے سسٹموں پر ابھی آزمائے نہیں گئے — سپرکنڈکٹنگ کیمپ کے پاس بھی اپنے ریکارڈ ہیں اور ان کی رفتار کی برتری بھی اپنی جگہ حقیقت ہے۔ پھر بھی، ایک ہی ہارڈویئر پر دو ماہ میں دو مختلف کوڈز سے دس گنا بہتری اس بات کی علامت ہے کہ کوانٹینم کا ایرر-کریکشن آرکیٹیکچر صرف دعوؤں تک محدود نہیں — اور 2029 کا اپولو ہدف اب محض پریزنٹیشن کی سلائیڈ نہیں لگتا۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *