Saturday, 24 October 2026
بریکنگ نیوز
صحت

مینوپاز کوئی سست عمل نہیں، پورے جسم کی اچانک تبدیلی ہے: 10 لاکھ خواتین کے 30 کروڑ ٹیسٹوں پر مبنی نئی تحقیق

لیبارٹری میں خون کے ٹیسٹ کے نمونے — طبی تحقیق کی فائل تصویر

اب تک طبی دنیا یہ سمجھتی آئی ہے کہ مینوپاز ایک آہستہ آہستہ ہونے والا عمل ہے — کئی برسوں میں پھیلا ہوا، دھیرے دھیرے آنے والا۔ اب ایک انتہائی بڑے ڈیٹا پر کی گئی تحقیق نے اس تصور کو الٹ دیا ہے۔ اسرائیل کے وائزمَن انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کے سائنس دانوں نے پایا ہے کہ آخری ماہواری کے وقت عورت کا جسم کسی تدریجی تبدیلی سے نہیں، بلکہ اچانک آنے والی ایک جسمانی چٹان سے گزرتا ہے — اور یہ تبدیلی صرف ہارمونز یا زرخیزی تک محدود نہیں، پورے جسم کے نظاموں پر پھیلی ہوتی ہے۔ یہ تحقیق رواں ماہ سائنسی جریدے نیچر میڈیسن میں شائع ہوئی ہے۔

اس تحقیق کا حجم خود اپنی داستان سناتا ہے۔ محققین نے تیس کروڑ سے زائد لیبارٹری ٹیسٹ کے نتائج کا تجزیہ کیا جو دس لاکھ سے زائد خواتین کے تھے — امریکہ اور اسرائیل سے۔ ڈیٹا دو بڑے ذرائع سے آیا: امریکی نیشنل ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن ایگزامینیشن سروے (دو دہائیوں سے زائد پر محیط) اور اسرائیل کے سب سے بڑے ہیلتھ انشورر کلالٹ کے تقریباً بیس سال کے طبی ریکارڈز۔ مینوپاز پر اتنے بڑے ڈیٹا کا تجزیہ پہلے شاذ و نادر ہی ہوا ہے، کیونکہ ان ریکارڈز میں عام طور پر یہ درج نہیں ہوتا کہ کسی خاتون کی آخری ماہواری کس عمر میں آئی۔ اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے ٹیم نے فلکیات سے متاثر ایک نیا حسابی طریقہ بنایا — جس طرح دوربین کی خرابی کو ریاضی سے درست کر کے فلکیاتی تصویر صاف کی جاتی ہے، اسی طرح انہوں نے طبی ڈیٹا کی “دھند” کو دور کیا۔ تحقیق کی قیادت پروفیسر یوری الون کی لیب میں ڈاکٹر گلین پرڈہیم اور یواو ہیوت نے کی۔

اہم نکات — تحقیق نے کیا پایا؟

  • جانچے گئے 90 اقسام کے ٹیسٹوں میں سے 52 میں اچانک تبدیلیاں نظر آئیں — ہڈیوں کی صحت، جگر اور گردوں کے افعال، کولیسٹرول، اینڈوکرائن اور لیپڈ نظام سمیت تقریباً تمام جسمانی نظام متاثر ہوئے۔
  • اسی عمر کے مردوں میں اس طرح کی کوئی اچانک تبدیلیاں نہیں دیکھی گئیں — یعنی یہ محض بڑھاپے کا اثر نہیں، مینوپاز کا اپنا عمل ہے۔
  • مینوپاز ہارمون تھراپی لینے والی خواتین میں یہ تبدیلیاں کم نمایاں تھیں۔
  • سب سے حیران کن: یہ اچانک تبدیلیاں آنے سے پہلے جنسی ہارمونز میں تبدیلیاں مینوپاز سے دس سال سے بھی پہلے تیز ہونا شروع ہو جاتی ہیں — پہلے سوچی گئی مدت سے کئی سال پہلے۔

ہماری تحقیق نے ممکنہ احتیاطی دیکھ بھال کا وقت مینوپاز سے تقریباً دس سال پہلے تک بڑھا دیا ہے۔ اور زیادہ وسیع تناظر میں، یہ طریقہ زندگی کی دیگر بڑی تبدیلیوں — بلوغت، حمل یا بیماری کے آغاز — کو سمجھنے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔

پروفیسر یوری الون، وائزمَن انسٹی ٹیوٹ آف سائنس

یہاں دو احتیاطی نوٹ بھی ضروری ہیں۔ پہلا: یہ ڈیٹا مشاہداتی ہے — یعنی اس سے وابستگیاں معلوم ہوتی ہیں، حتمی وجہ اور اثر کا سلسلہ نہیں۔ دوسرا: ہارمون تھراپی کے ساتھ ہلکی تبدیلیوں کا ربط یہ ثابت نہیں کرتا کہ تھراپی ہی اس کا سبب ہے؛ ہو سکتا ہے کہ اس تھراپی کی منتخب خواتین میں اور بھی فرق ہوں۔ تحقیق کی اصل طاقت یہ ہے کہ اس نے ایک نئی تصویر پیش کی ہے: مینوپاز صرف “ہارمونز کا اترنا” نہیں، پورے جسم کے نظاموں کا اچانک رخ موڑنا ہے۔

اور یہی وہ نکتہ ہے جو پاکستان کے لیے سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہمارے ہاں خواتین کی یہ زندگی کا مرحلہ اکثر بات کرنے کے قابل موضوع ہی نہیں سمجھا جاتا — علامات سامنے آتی ہیں تو انہیں “عمر کا تقاضا” کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے، اور ڈاکٹر سے رجوع اس وقت ہوتا ہے جب ہڈی کا فریکچر، بلڈ پریشر یا کولیسٹرول کا بحران دروازے پر کھڑا ہو۔ یہ تحقیق اس رویے کو چیلنج کرتی ہے: اگر جسمانی تبدیلیاں مینوپاز سے دہائی پہلے شروع ہو جاتی ہیں اور ہڈیوں، جگر اور کولیسٹرول تک پھیلی ہوتی ہیں، تو احتیاط کا وقت بھی وہی ہے — یعنی چالیس کی دہائی میں ہڈیوں کی کثافت، کولیسٹرول اور گردوں کے ٹیسٹ، باقاعدہ ورزش اور متوازن غذا۔ محققین کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کی اکثریت بیماری کے بڑھتے خطرے سے منسلک ہے، اس لیے جلد احتیاطی قدم اٹھانا حقیقی فرق ڈال سکتا ہے۔ یہ کوئی ڈراؤنی خبر نہیں، بلکہ ایک بہتر منصوبہ بندی کا موقع ہے — بس اسے استعمال کرنے کا وقت مینوپاز آنے سے بہت پہلے شروع ہوتا ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *