جمعرات کی دوپہر خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں دہشت گردوں کے خلاف ایک بڑے آپریشن کے دوران فائرنگ کے شدید تبادلے میں کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے ڈی ایس پی سمیت چار پولیس اہلکار شہید ہو گئے، جبکہ جوابی کارروائی میں دو دہشت گرد بھی ہلاک کر دیے گئے۔
خیبر پختونخوا پولیس کے جاری کردہ بیان کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جمعرات کو دوپہر کے وقت کرک کے علاقے چارپارہ میں سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن شروع کیا تھا — ایک ایسے مقام پر جہاں بدھ کی رات دہشت گردوں نے سڑک پر ناکہ بندی قائم کر دی تھی۔ تھانہ خرم کی حدود میں آنے والی چارپیرا روڈ پر قائم اس ناکے کے بعد علاقے میں دہشت گردوں کی سرگرمیوں کے خدشات بڑھ گئے تھے۔
آپریشن کی قیادت ڈی ایس پی بانڈہ اور سی ٹی ڈی کے ڈی ایس پی کر رہے تھے، جبکہ بم ڈسپوزل یونٹ، ڈرون ٹیم، ریسکیو 15 اور ریپڈ رسپانس فورس کے اہلکار بھی اس کارروائی میں شامل تھے۔ پولیس کے مطابق آپریشن کے دوران قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے مشتبہ دہشت گرد کمانڈر قیصر اقبال کے ٹھکانے پر چھاپہ مارا، جہاں فائرنگ کا شدید تبادلہ شروع ہو گیا۔
اس مڈبھیڑ میں سی ٹی ڈی کے ڈی ایس پی عمران الدین خان، لتمبر تھانے کے ایس ایچ او سب انسپکٹر افضل اعوان، ڈی ایس پی کے گن مین کانسٹیبل کاظم اور بم ڈسپوزل یونٹ کے ہیڈ کانسٹیبل امجد نے جام شہادت نوش کیا۔ جوابی فائرنگ میں دو دہشت گرد بھی مارے گئے۔ پولیس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ علاقے میں آپریشن اب بھی جاری ہے اور مزید نفری بھیج دی گئی ہے۔
خیبر پختونخوا پولیس نے اپنے بیان میں شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ “شہید اہلکاروں نے فرض شناسی، بہادری اور عوامی تحفظ کے عزم کی روشن مثال قائم کی ہے” اور ان کی یہ قربانیاں دہشت گردی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے پولیس کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔
خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہدا کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور دہشت گردی کے خلاف عزم مزید مضبوط ہوگا۔ انہوں نے شہدا کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔ صوبائی مشیر اطلاعات سمر ہارون بلور نے بھی شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ یہ قربانیاں ہمیشہ عزت و احترام سے یاد رکھی جائیں گی۔ شہید پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی ہے۔
ابھی تک کسی دہشت گرد گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، تاہم صوبے میں حالیہ تشدد کا الزام عموماً کالعدم تحریک طالبان پاکستان پر عائد کیا جاتا ہے۔ رواں ہفتے یہ دہشت گردی کے خلاف دوسرا بڑا آپریشن ہے — اس سے پہلے گوادر میں دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنایا گیا تھا، جہاں تین دہشت گرد ہلاک اور سات کو گھیرے میں لیا گیا تھا۔
یہ واقعہ کیوں اہم ہے: کرک جنوبی خیبر پختونخوا کی اس پٹی میں آتا ہے جہاں لکی مروت، بنوں اور ٹانک سمیت کئی اضلاع میں دہشت گردی کی لہر ایک بار پھر سر اٹھا رہی ہے۔ بدھ کی رات سڑک پر کھلم کھلا ناکہ بندی قائم کرنا اس بات کی علامت ہے کہ دہشت گرد گروہ اب صرف چھپ کر حملے نہیں کر رہے بلکہ علاقے میں اپنی موجودگی کا کھلا مظاہرہ بھی کر رہے ہیں۔ ایسے میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیے جانے والے آپریشنز پولیس کے لیے ناگزیر تو ہیں، مگر کرک کا یہ واقعہ بتاتا ہے کہ ان کی قیمت بھی بھاری ہے — ایک سینئر سی ٹی ڈی افسر کا شہید ہونا اسی قیمت کا ثبوت ہے۔ صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور اس پر جاری سیاسی بحث کے تناظر میں یہ واقعہ سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک اور کڑا امتحان ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)