دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی سعودی آرمکو نے جمعرات کے روز اپنے دھران ہیڈکوارٹر سے عملے کو عمارت خالی کرنے اور گھر سے کام کرنے کی ہدایت کر دی۔ رائٹرز نے چھ باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ ایران سے جنگ شروع ہونے کے بعد کمپنی کے ہیڈکوارٹر کا پہلا انخلا ہے۔
کمپنی نے خبر پر تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔ رائٹرز کے مطابق انخلے کی وجہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی، لیکن یہ حکم ایسے وقت میں آیا ہے جب یمن کے ایران نواز حوثیوں کے حملے سعودی مملکت میں شدت اختیار کر گئے ہیں۔
اسی ماہ کے اوائل میں حوثی حملے نے آرمکو کے ہیڈکوارٹر کو شدید نقصان پہنچایا تھا — عمارت میں لگنے والی آگ کئی منزلوں تک پھیل گئی تھی۔ یہ وہی عمارت ہے جہاں کمپنی کا آپریشنز سینٹر قائم ہے، جو سمندری اور زمینی تیل کے کنوؤں، ریفائنریوں، برآمدی ٹرمینلز اور ہزاروں کلومیٹر طویل پائپ لائنوں کی نگرانی کرتا ہے۔
خبر کے بعد سعودی سٹاک مارکیٹ بھی دباؤ میں آ گئی — LSEG کے اعداد و شمار کے مطابق جمعرات کو سعودی بینچ مارک انڈیکس (TASI) میں 2.5 فیصد گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
یہ انخلا بدھ کی رات کے خونریز حملوں کے ایک روز بعد ہوا ہے۔ دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے تھے — ہلاک ہونے والوں میں ایک سعودی شہری اور ایک بھارتی شہری شامل ہیں۔ دمام دھران سے صرف پندرہ کلومیٹر شمال میں واقع ہے، اور جمعرات کو ایئرپورٹ پر آپریشن بحال ہو کر فضائی ٹریفک معمول پر آ گئی۔
اسی روز سعودی فضائی دفاع نے آرمکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی طرف جانے والے ایک ڈرون کو روک کر مار گرایا — گرنے والے ملبے سے دو افراد ہلاک ہوئے۔ سعودی اتحاد نے جمعرات کو دارالحکومت ریاض اور مقدس شہر مدینہ کے اوپر بھی ڈرون مار گرائے جانے کی تصدیق کی۔ سعودی عرب نے حوثیوں کے میزائل لانچ سائٹس پر جوابی فضائی حملوں کی لہر جاری رکھی ہوئی ہے اور مملکت کی حفاظت کا عزم دہرایا ہے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ پہلے ہی سعودی عرب سے غیر ضروری سفارتی عملے اور ان کے اہل خانہ کی واپسی کا حکم جاری کر چکا ہے، جبکہ برطانیہ نے سعودی شہروں کے فضائی دفاع میں مدد کے لیے اپنے جنگی طیارے تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ کیوں اہم ہے: ہیڈکوارٹر کا انخلا صرف ایک انتظامی قدم نہیں — یہ ریاض کی بڑھتی ہوئی تشویش کا اب تک کا واضح ترین اشارہ ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی تیل برآمد کنندہ کمپنی کا آپریشنز سینٹر خالی کر دینا تیل کی منڈیوں کو بھی پیغام دیتا ہے، جہاں آبنائے ہرمز کے گرد تناؤ پہلے ہی خام تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیل چکا ہے۔ ایران سے جنگ کا یہ دوسرا محاذ اب سعودی شہروں اور بنیادی ڈھانچے کو براہ راست نشانہ بنا رہا ہے، جبکہ واشنگٹن براہ راست فوجی مداخلت سے انکار کر چکا ہے — ایسے میں آرمکو جیسی کمپنی کا دفاعی ردعمل آنے والے ہفتوں کی سمت طے کر سکتا ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)