Thursday, 22 October 2026
بریکنگ نیوز
سیاست

کراچی ایئرپورٹ پر ارکان کی تلاشی کا معاملہ: سینیٹ کمیٹی نے ASF اہلکار کو طلب کر لیا

اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کی عمارت (فائل تصویر)

اہم نکات

  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط و استحقاق نے کراچی ایئرپورٹ پر ارکانِ پارلیمنٹ اور مسافروں کی تلاشی کے دوران ASF اہلکار کے مبینہ نامناسب رویے پر اسے آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا۔
  • سینیٹر سمینہ ممتاز زہری کی تحریکِ استحقاق پر غور — کمیٹی کا موقف کہ تلاشی صرف اس وقت ہونی چاہیے جب سیکیورٹی کا تقاضا ہو۔
  • پاکستان انسٹیٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کے خلاف بھی استحقاق کی کارروائی — شوکاز نوٹسز جاری، ذیلی کمیٹی قائم۔
  • پمز کے ڈائریکٹر کی معذرت قبول کرنے کا فیصلہ؛ وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کے خلاف تحریک ان کی غیرحاضری پر ملتوی۔

اسلام آباد — سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط و استحقاق نے بدھ کے اجلاس میں کراچی ایئرپورٹ پر ایئرپورٹس سیکیورٹی فورس (ASF) کے اہلکار کی جانب سے ارکانِ پارلیمنٹ اور عام مسافروں کی تلاشی کے دوران مبینہ نامناسب رویے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اہلکار کو آئندہ اجلاس میں طلب کرنے کی ہدایت کر دی۔ اجلاس کی صدارت سینیٹر سید وقار مہدی نے کی، جس میں سینیٹرز جان محمد، دوست علی جیسر، سعدیہ عباسی، پلوشہ محمد زئی خان، سمینہ ممتاز زہری، بشریٰ انجم بٹ اور اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔

کمیٹی نے سینیٹر زہری کی پیش کردہ تحریکِ استحقاق پر غور کیا، جس میں ASF اہلکار کے رویے کی شکایت کی گئی تھی۔ انکوائری رپورٹ کے جواب کا جائزہ لیتے ہوئے چیئرمین نے ارکان کو بتایا کہ موصولہ جواب کے مطابق متعلقہ اہلکار کا تبادلہ کسی دوسری جگہ کر دیا گیا ہے۔ اس پر سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ “یہ معاملہ صرف ارکانِ پارلیمنٹ تک محدود نہیں، عام شہریوں سے بھی جڑا ہے” — ان کے مطابق ایسا رویہ منتخب نمائندوں کے بارے میں عوام میں منفی تاثر پیدا کر سکتا ہے۔ سینیٹر زہری نے سوال اٹھایا کہ مسافروں کے سامان کی تلاشی کا اختیار حکام کو کون سی قانونی شق دیتی ہے؛ ان کا موقف تھا کہ تلاشی صرف اس وقت لی جانی چاہیے جب سیکیورٹی کے تقاضے ہوں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ “اہلکار کو طلب کر کے اس کا موقف سنا جائے اور وہ ان اقدامات کا قانونی جواز واضح کرے۔” چیئرمین نے ہدایت کی کہ اہلکار اور متعلقہ افسران کو کمیٹی کے اگلے اجلاس میں طلب کیا جائے۔

یہ اجلاس صرف ASF معاملے تک محدود نہیں رہا۔ سینیٹر بشریٰ انجم بٹ کی تحریک پر پاکستان انسٹیٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن (PIFD) کی وائس چانسلر حنا طیبہ خلیل اور معروف فیشن ڈیزائنرز دیپک پروانی اور سحر سیگل کے خلاف استحقاق کی خلاف ورزی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ سینیٹر بٹ — جو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم کی چیئرپرسن بھی ہیں — کا الزام ہے کہ وائس چانسلر نے پارلیمانی فرائض کی ادائیگی میں معاونت سے انکار کیا، اور الٹا ادارے کے اندر انکوائری کمیٹی بنا کر ایک حاضر سینیٹر کو انٹرویو کے لیے طلب کر لیا گیا۔ کمیٹی نے وفاقی وزیر تعلیم اور سیکریٹری کی غیرحاضری پر ناراضی کا اظہار کیا، یونیورسٹی کی سینیٹ کے ارکان کو شوکاز نوٹسز جاری کرنے کی ہدایت دی، اور معاملے کی مکمل جانچ کے لیے سینیٹر پلوشہ خان کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی قائم کر دی۔

اسی اجلاس میں سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان کی ایک اور تحریک پر پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے ایمرجنسی اینڈ ٹراما سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شرجیل زاہر کے مبینہ ریمارکس کا معاملہ بھی اٹھا — یہ ریمارکس سینیٹر کی جانب سے اسپتال کی خراب صورتحال پر سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد سامنے آئے تھے۔ چیئرمین نے اسپتال کا اچانک دورہ کرنے کی ہدایت کی اور پمز کی جانب سے پیش کی گئی معذرت قبول کر لی۔ البتہ وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کے خلاف مبینہ غیرپارلیمانی رویے کی تحریک ان کی غیرحاضری کی وجہ سے ملتوی کر دی گئی۔

تجزیہ: ایک اجلاس، چار محاذ — پارلیمنٹ اپنا وزن دکھا رہی ہے

استحقاق کمیٹی کا یہ اجلاس معمول کی کارروائی سے بڑھ کر تھا۔ ایک ہی نشست میں ایئرپورٹ سیکیورٹی، ایک وفاقی تعلیمی ادارے کی سربراہ، ایک بڑے سرکاری اسپتال کے ڈائریکٹر اور ایک وفاقی وزیر — چاروں کو ایک ساتھ کٹہرے میں کھڑا کرنا یہ پیغام دیتا ہے کہ پارلیمانی استحقاق محض کاغذی اصطلاح نہیں۔ سب سے زیادہ وزن ASF والے معاملے کا ہے، کیونکہ یہاں سوال کسی ایک اہلکار کے رویے سے آگے کا ہے: مسافروں کی تلاشی کا اختیار قانون سے ملتا ہے یا محض رواج سے؟ سعدیہ عباسی نے بالکل درست نکتہ اٹھایا — یہ لڑائی سینیٹروں کی عزت کی نہیں، ہر اس مسافر کی ہے جو تلاشی کی قطار میں کھڑا ہوتا ہے۔ جوڈیشل کمیشن میں پارلیمنٹ کے بڑھتے ہوئے کردار کے ساتھ یہ رجحان واضح ہو رہا ہے کہ ایوان اپنے ادارہ جاتی اختیار کو سنجیدگی سے لینے لگا ہے۔

دوسری طرف PIFD والا واقعہ ایک مختلف اور زیادہ تشویشناک رخ دکھاتا ہے — ایک حاضر سینیٹر کو ادارے کی اندرونی انکوائری میں طلب کرنا پارلیمانی استحقاق کی کھلی خلاف ورزی کے مترادف ہے، اور کمیٹی کا شوکاز نوٹسز تک جانا اسی لیے ضروری تھا۔ تاہم عبدالعلیم خان کی تحریک کا ان کی غیرحاضری پر ملتوی ہو جانا اس عمل کی حد بھی بتا دیتا ہے: وفاقی وزیر کے سامنے کمیٹی کی گرفت اتنی مضبوط نہیں جتنی ایک ایئرپورٹ اہلکار یا یونیورسٹی انتظامیہ کے سامنے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے حالیہ اجلاسوں میں بھی اداروں کی جوابدہی کا یہی سلسلہ نظر آیا ہے۔

اب سب کی نظریں کمیٹی کے اگلے اجلاس پر ہیں — جہاں ASF اہلکار کو خود حاضر ہو کر بتانا ہوگا کہ مسافروں کی تلاشی کا اختیار اسے کس قانون نے دیا تھا۔ اگر یہ طلبی محض رسمی کارروائی ثابت ہوئی تو کمیٹی کا یہ سارا دبدبہ ایک دن کی خبر بن کر رہ جائے گا؛ اور اگر ٹھوس جوابدہی ہوئی تو یہ ہر ایئرپورٹ پر کھڑے عام مسافر کے لیے بھی ایک نظیر بن سکتی ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *