چین کی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک نے ثابت کر دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں پیسہ ہی سب کچھ نہیں — مگر پیسے کے بغیر یہ دوڑ جیتنا بھی ممکن نہیں۔ ہانگژو کی یہ اسٹارٹ اپ، جس نے گزشتہ سال سستے اے آئی ماڈلز سے عالمی منڈیوں میں کھلبلی مچا دی تھی، اب تقریباً 15 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سمیٹنے جا رہی ہے — چین کی تاریخ کی سب سے بڑی نجی فنڈنگ راؤنڈز میں سے ایک۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ڈیپ سیک اپنی تازہ فنڈنگ راؤنڈ مکمل کرنے کے قریب ہے، جس میں موجودہ اور نئے سرمایہ کاروں سے تقریباً 100 ارب یوآن (14.98 ارب ڈالر) حاصل ہوں گے۔ بلومبرگ نے جمعرات کو پہلے یہ خبر دی تھی۔ ذرائع کے مطابق بیٹری بنانے والی کمپنی کیٹل (CATL) اور وی چیٹ کی مالک ٹینسنٹ اس راؤنڈ کے سب سے بڑے سرمایہ کاروں میں شامل ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈیپ سیک نے بات چیت کے دوران اپنا ہدف دو بار بڑھایا — 50 ارب یوآن سے 80 ارب، اور پھر تقریباً 100 ارب یوآن تک۔ یعنی سرمایہ کاروں کی دلچسپی کمپنی کی اپنی توقع سے کہیں زیادہ نکلی۔ رائٹرز کے مطابق فنڈنگ آنے والے دنوں میں مکمل ہو جائے گی، تاہم حتمی تفصیلات ابھی طے نہیں اور تبدیل بھی ہو سکتی ہیں۔ ڈیپ سیک، کیٹل اور ٹینسنٹ نے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
یہ رقم کہاں خرچ ہوگی؟
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ڈیپ سیک نے ستمبر میں CITIC سکیورٹیز کو اسٹار مارکیٹ میں ممکنہ آئی پی او کی تیاری کے لیے مقرر کیا تھا — یعنی یہ فنڈنگ عوامی منڈی میں اترنے سے پہلے کی آخری بڑی تیاری ہے۔ گزشتہ ماہ کمپنی نے اپنا تازہ ماڈل “ڈیپ سیک-V4.1-فلیش” بھی جاری کیا تھا، جو تیز تر جوابات اور بڑے ماڈلز کی جانب ایک قدم ہے۔
امریکی لیبز سے مقابلہ — فاصلہ اب بھی بڑا ہے
یہاں ایک ایماندارانہ موازنہ ضروری ہے۔ بلومبرگ کے مطابق اوپن اے آئی اور انتھراپک نے ہر ایک 100 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری حاصل کر رکھی ہے — ڈیپ سیک کی نئی فنڈنگ اس کے مقابلے میں اب بھی چھوٹی ہے۔ مگر یہ پہلا موقع ہے کہ کسی چینی اے آئی لیب کے پاس اتنی مالی طاقت ہو کہ وہ امریکی فرنٹیئر لیبز سے براہِ راست مقابلے کی بات کر سکے۔
دوسرا اہم نکتہ سرمایہ کاروں کی نوعیت ہے۔ کیٹل اور ٹینسنٹ جیسی بڑی کارپوریشنیں اور ریاستی حمایت یافتہ سرمایہ کار اس راؤنڈ میں شامل ہیں — یہ چین کے اس ماڈل کی عکاسی ہے جہاں ریاست اور نجی شعبہ مل کر ٹیکنالوجی کی دوڑ لڑتے ہیں۔ امریکا میں یہی کردار نجی وینچر کیپٹل ادا کرتا ہے۔ دونوں ماڈلز کی یہ جنگ دراصل اے آئی کے مستقبل کی جنگ ہے۔ چین خلا میں اے آئی کمپیوٹر بھیجنے جیسے منصوبوں پر بھی اربوں خرچ کر رہا ہے — ڈیپ سیک اسی بڑی مہم کا ایک محاذ ہے۔
پاکستان کے لیے اس کا مطلب
پاکستان کے لیے یہ خبر براہِ راست تو نہیں، مگر نظرانداز کرنے والی بھی نہیں۔ ستمبر میں پاکستان کی آئی ٹی ایکسپورٹ 43.5 کروڑ ڈالر تک پہنچی — ملک کا سافٹ ویئر شعبہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ڈیپ سیک جیسی کمپنیوں کے سستے، کھلے ماڈلز پاکستانی اسٹارٹ اپس اور فری لانسرز کے لیے امریکی مہنگے ماڈلز کا متبادل بن سکتے ہیں۔ اے آئی کی دوڑ میں جیتنے والا وہی ہوگا جو سب سے سستی اور بہترین ٹیکنالوجی دے گا — اور یہی وہ میدان ہے جہاں ڈیپ سیک کھیل رہی ہے۔
اب سب کی نظریں 2027 کے متوقع آئی پی او پر ہیں۔ اگر ڈیپ سیک عوامی منڈی میں کامیاب اترتی ہے تو یہ صرف ایک کمپنی کی جیت نہیں ہوگی — یہ اس بات کا اعلان ہوگا کہ اے آئی کی قیادت اب صرف سلیکان ویلی کے ہاتھ میں نہیں رہی۔

قارئین کے تبصرے (0)