فالج سے بچ جانے والے مریضوں کے لیے سب سے بڑا خوف دوسرا فالج ہوتا ہے۔ جاپان کی ایک تازہ تحقیق نے اس خوف کے خلاف ایک نیا راستہ دکھایا ہے: فالج کے بعد آٹھ ہفتوں کے اندر دل کی بے ترتیب دھڑکن کا علاج۔ تحقیق کے مطابق جن مریضوں کی دھڑکن جلد معمول پر لائی گئی، ان میں دوسرے فالج یا خون کے لوتھڑے کا خطرہ 44 فیصد کم رہا۔
یہ تحقیق کب اور کس نے کی؟
یہ تحقیق 21 اکتوبر 2026 کو امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی۔ اسے کیوٹو یونیورسٹی کے ڈاکٹر یوئیچی اماناکا اور ان کی ٹیم نے کیا، اور اس کی مالی معاونت جاپان سوسائٹی فار دی پروموشن آف سائنس نے کی۔
دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی کا فالج سے کیا تعلق ہے؟
ایٹریل فیبریلیشن دل کی ایک ایسی کیفیت ہے جس میں دل بے ترتیب اور اکثر بہت تیز دھڑکتا ہے۔ اس بے ترتیبی سے دل میں خون جم سکتا ہے، اور یہ جما ہوا خون دماغ کی شریان میں پھنس کر فالج کا سبب بن سکتا ہے۔ پاکستان میں بھی فالج کے بہت سے مریضوں میں یہی بے ترتیبی پائی جاتی ہے، مگر اس کی باقاعدہ جانچ اکثر نہیں ہوتی۔
تحقیق میں کتنے مریض شامل تھے؟
محققین نے 14,355 ایسے مریضوں کا ریکارڈ دیکھا جن کی اوسط عمر 83 سال تھی اور جو خون کی نالی بند ہونے والے فالج اور ایٹریل فیبریلیشن — دونوں کے ساتھ اسپتال میں داخل ہوئے تھے۔ ان میں سے صرف دو فیصد، یعنی 268 مریضوں کو فالج کے آٹھ ہفتوں کے اندر دل کی دھڑکن درست کرنے والا علاج ملا۔
علاج کے تین طریقے کیا تھے؟
پہلا طریقہ دوا تھا — 206 مریضوں کو دل کی دھڑکن معمول پر لانے والی دوائیں دی گئیں۔ دوسرا طریقہ الیکٹریکل کارڈیو ورژن تھا، جس میں 32 مریضوں کے دل کو ایک ہلکے برقی جھٹکے سے دوبارہ معمول کی دھڑکن پر لایا گیا۔ تیسرا طریقہ کیتھیٹر ایبلیشن تھا — 68 مریضوں میں ایک باریک تار دل تک پہنچا کر اس حصے کو ناکارہ بنایا گیا جو غلط برقی سگنل بھیجتا تھا۔ کچھ مریضوں پر ایک سے زیادہ طریقے بھی آزمائے گئے۔
نتائج کیا نکلے؟
پانچ سال کے دوران جن مریضوں کو جلد علاج ملا، ان میں دوسرے فالج یا خون کے لوتھڑے کا خطرہ صرف 8 فیصد رہا، جبکہ علاج نہ پانے والوں میں یہ خطرہ 14 فیصد تھا۔ مجموعی طور پر جلد علاج سے فالج اور لوتھڑے کا خطرہ 44 فیصد اور ہر وجہ سے موت کا خطرہ 28 فیصد کم پایا گیا۔
ڈاکٹر اماناکا کہتے ہیں: “فالج کے مریضوں کو عام طور پر خون پتلا کرنے والی دوائیں دی جاتی ہیں تاکہ دوسرا فالج روکا جا سکے۔ ہماری تحقیق بتاتی ہے کہ دل کی دھڑکن کا جلد علاج اس کا ایک اور راستہ ہو سکتا ہے، اور فالج کے آٹھ ہفتوں کے اندر اسے شروع کرنے میں لچک بھی موجود ہے۔”
کیا یہ نتیجہ حتمی ہے؟
نہیں۔ یہ ایک مشاہداتی تحقیق تھی، یعنی اس نے صرف تعلق ظاہر کیا ہے — یہ ثابت نہیں کیا کہ جلد علاج ہی نے فالج روکا۔ دوسری بڑی خامی یہ ہے کہ جلد علاج پانے والے مریض صرف 268 تھے؛ اتنی چھوٹی تعداد پر حتمی فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ ڈاکٹر اماناکا خود کہتے ہیں کہ نتائج کی تصدیق کے لیے بڑے گروپوں پر مزید تحقیق ضروری ہے۔
پاکستان کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟
پاکستان میں فالج کا مریض عام طور پر خون پتلا کرنے والی دوا لے کر گھر بھیج دیا جاتا ہے؛ دل کی دھڑکن کی باقاعدہ نگرانی یا کارڈیالوجسٹ سے مشورہ روٹین کا حصہ نہیں۔ یہ تحقیق اسی روٹین پر سوال اٹھاتی ہے — خاص طور پر ان مریضوں کے لیے جن کی دھڑکن بے ترتیب ہو۔ فالج کے خطرے والے عوامل میں ہائی بلڈ پریشر بھی شامل ہے، جس کے گھر اور ڈاکٹر کے پاس مختلف ریڈنگ کے بارے میں ہم نے پہلے بھی لکھا ہے۔ یہاں ایک احتیاط بھی ضروری ہے: تحقیق کے مریضوں کی اوسط عمر 83 سال تھی، جبکہ پاکستان میں فالج نسبتاً کم عمر میں بھی ہوتا ہے، اور کیتھیٹر ایبلیشن جیسی سہولت چند بڑے شہروں تک محدود ہے — دوا اور کارڈیو ورژن البتہ ہر جگہ دستیاب ہیں۔ دماغی بیماریوں پر تحقیق کا سلسلہ بھی جاری ہے، جیسے پارکنسن کے نئے علاج کی حالیہ تحقیق۔ اگلا قدم واضح ہے: فالج کے بعد دل کی دھڑکن کی جانچ کو معمول بنایا جائے — اور مریض خود بھی ڈاکٹر سے اس بارے میں ضرور پوچھیں۔

قارئین کے تبصرے (0)