امریکی ٹیکنالوجی کمپنی HPE نے اعلان کیا ہے کہ اس کا نیا Spaceborne Computer-4 چاند کی سطح پر مصنوعی ذہانت چلائے گا — اور یہ چاند پر ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ کے باقاعدہ تجربات کرنے والا پہلا نظام ہوگا۔ کمپنی نے 20 اکتوبر 2026 کو ہیوسٹن سے جاری بیان میں بتایا کہ یہ کمپیوٹر ماڈیول خلائی ماحول کے لیے خاص طور پر تیار کیا گیا ہے۔
یہ نظام آسٹرولیب کمپنی کے FLIP روور پر نصب ہو کر چاند پر جائے گا۔ FLIP کا مطلب ہے Flex Lunar Innovation Platform — ایک چھوٹا قمری روور جو مختلف سائنسی آلات لے جانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ مشن ناسا کے کمرشل لنر پے لوڈ سروسز (CLPS) پروگرام کے تحت 2026 کی آخری سہ ماہی میں روانہ ہوگا، اور وویجر ٹیکنالوجیز کا گریفن-1 لینڈر اس روور کو چاند کے جنوبی قطبی علاقے کے قریب اتارے گا — وہی خطہ جہاں مستقبل میں انسانوں کے مستقل اڈے بنانے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔
چاند پر یہ کمپیوٹر تین طرح کے AI کام انجام دے گا: بڑے لینگویج ماڈلز کی retrieval-augmented generation، تصویری تجزیہ (vision inference)، اور LiDAR ڈیٹا کی پروسیسنگ — یعنی روور اپنے اردگرد کے مناظر خود سمجھے گا اور نقشے خود بنائے گا۔ HPE کے مطابق یہ مشن چاند کی سطح پر پہلی بار High-Performance LINPACK اور HPCG بینچ مارکس بھی چلائے گا، جو سپر کمپیوٹروں کی رفتار ناپنے کے عالمی معیار ہیں۔
حیران کن بات اس نظام کا حجم ہے: صرف 249 × 132 × 26 ملی میٹر کا ایلومینیم ڈبہ، وزن محض 1.2 کلوگرام۔ اس میں کم بجلی کھانے والا 64-bit پروسیسر، گرافکس چپ اور KIOXIA کی سالڈ اسٹیٹ میموری نصب ہے، اور یہ لینکس پر چلتا ہے۔ روور کی بیٹری اور سولر سسٹم سے اسے 28 وولٹ بجلی ملے گی۔
HPE کے نائب صدر اور فیلو اسکاٹ ویسٹ کا کہنا ہے: “ستر سال سے زائد عرصے سے HPE کی ایجادات دنیا کے اہم ترین خلائی مشنوں کا ساتھ دے رہی ہیں۔ چاند کی تلاش کا اگلا باب اس بات پر منحصر ہوگا کہ دریافت کے مقام پر ہی ڈیٹا کو بصیرت میں بدلا جا سکے۔ Spaceborne Computer-4 کے ذریعے ہم AI اور ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ کو چاند تک لے جا رہے ہیں۔”
آسٹرولیب کے بانی اور سربراہ جیرٹ میتھیوز نے کہا کہ چاند جدید کمپیوٹنگ کے لیے ایک کٹھن ماحول ہے، اور ان کا FLIP روور اس طرح کے تکنیکی تجربات کے لیے بنایا گیا ہے۔ اسی مشن میں ناسا کا FLUID تجربہ بھی شامل ہوگا جو زمین، چاند اور بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے AI ماڈلز کو آپس میں جوڑنے کی آزمائش کرے گا، جبکہ ڈیلوئٹ کا سائلنٹ شیلڈ نظام سائبر حملوں کی نگرانی کرے گا۔
یہ HPE کے Spaceborne پروگرام کی چوتھی نسل ہے — اس سے پہلے کے نظام بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر بھیجے جا چکے ہیں۔ مگر چاند ایک مختلف چیلنج ہے: وہاں درجہ حرارت میں شدید اتار چڑھاؤ، تابکاری اور گردوغبار ہے۔ اگر ایک عام سا کمپیوٹر وہاں AI چلا سکتا ہے تو مستقبل کے قمری اڈوں کو ہر فیصلے کے لیے زمین سے رابطے کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا — یہی “ایج کمپیوٹنگ” کا اصل خواب ہے۔
یہ دوڑ صرف HPE کی نہیں۔ چین پہلے ہی خلا میں AI کمپیوٹر بھیج چکا ہے اور گوگل کا پراجیکٹ سن کیچر مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹر خلا میں لگانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ کوانٹم چپ نے AI کی ٹریننگ ہفتوں سے دنوں میں کر دی تھی — اب مقابلہ اس بات پر ہے کہ یہ طاقت زمین سے کتنی دور جا سکتی ہے۔ چاند پر AI کا مطلب صرف سائنسی تجربات نہیں؛ یہ قمری معیشت کی بنیاد ہے — کان کنی، تعمیرات اور بالآخر انسانی بستیوں کے لیے خودکار نظام۔ 2026 کی آخری سہ ماہی میں جب گریفن-1 چاند کو چھوئے گا، تو اس کے پیٹ میں رکھا یہ ڈیڑھ کلو کا ڈبہ یہ ثابت کرے گا کہ ذہین مشینیں زمین سے باہر بھی سوچ سکتی ہیں۔

قارئین کے تبصرے (0)