ایران نے پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کو تہران میں دوٹوک پیغام دے دیا ہے: واشنگٹن سے کوئی مذاکرات اس وقت تک نہیں ہوں گے جب تک تہران کے مطالبات پورے نہیں ہو جاتے۔ صدر مسعود پزشکیان نے منگل کو تہران میں منیر سے ملاقات میں ثالثی کی کوششوں اور علاقائی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا، جس کی خبر ایران کی نیوز ایجنسی نورنیوز نے دی۔
منیر کے ہمراہ وزیر داخلہ محسن نقوی بھی تھے، اور یہ جون کے عبوری امن معاہدے کے بعد ان کا تہران کا پانچواں دورہ ہے۔ ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق تہران پہنچنے پر ان کی پہلی ملاقات وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ہوئی۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے منیر سے ملاقات میں کہا کہ واشنگٹن تہران کا اعتماد اس وقت تک حاصل نہیں کر سکتا جب تک ایران کی سات شرائط پوری نہ ہو جائیں — یہ شرائط ستمبر میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے طے کی گئی تھیں۔ ایرانی ریڈ آؤٹ کے مطابق مطالبات میں امریکی بحری محاصرے کا خاتمہ، ایران کی بندرگاہوں پر پابندیوں کا خاتمہ، تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں کا خاتمہ اور تمام محاذوں پر دشمنی کا خاتمہ شامل ہے۔
قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے بھی منیر سے علیحدہ ملاقات میں یہی پیغام دہرایا۔ انہوں نے اپنے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر لکھا: “کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے جب تک امریکہ اعتماد سازی کے اقدامات نہیں کرتا۔ اس عمل کی شروعات ایران کی تمام شرائط کی مکمل تکمیل سے ہوگی۔” رضائی نے مزید کہا کہ ایران سے افزودہ یورینیم کا ایک گرام بھی باہر نہیں جائے گا — منیر سے ملاقات میں انہوں نے کہا کہ تمام افزودہ جوہری مواد ایران میں ہی رہے گا اور “یہ مواد ایرانی قوم کے گھریلو استعمال کے لیے عظیم اثاثہ اور قومی دولت ہے۔” (پریس ٹی وی)
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ تقریباً ہتھیاروں کے درجے کا یورینیم ملک سے باہر نہیں بھیجا جائے گا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اس ماہ کے شروع میں مطالبہ کیا تھا کہ ایران اپنی افزودگی کی صلاحیت میں “معنی خیز” کمی کرے ورنہ آٹھ ماہ سے جاری جنگ ختم نہیں ہوگی۔ (وینس کی شرط کی تفصیل) ایران اس وقت ساٹھ فیصد تک یورینیم افزودہ کر رہا ہے، جو شہری استعمال سے کہیں زیادہ اور ہتھیار کے لیے درکار نوے فیصد کے قریب ہے — تہران جوہری ہتھیار بنانے کے الزام کی تردید کرتا ہے۔
پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اسلام آباد کی ثالثی سے دونوں فریقوں کے درمیان جون میں ایک عبوری امن معاہدہ طے پایا تھا، مگر چند ہفتوں بعد لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی اور وہ معاہدہ ٹوٹ گیا۔ (منیر کے تہران دورے کی تفصیل) رضائی کے مطابق ساتوں شرائط قطری ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچا دی گئی تھیں، مگر انہوں نے واشنگٹن کے جواب کو “ناکافی” قرار دیا۔
یہ سخت موقف صرف تہران کا پیغام نہیں، پاکستان کی ثالثی کے لیے بھی امتحان ہے۔ ایک طرف واشنگٹن افزودگی کی صلاحیت میں کمی چاہتا ہے، دوسری طرف تہران اپنی شرائط سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں — اور بیچ میں آبنائے ہرمز کی بندش ہے، جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پہلے ہی ایک سو دس ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ چکی ہیں۔ منیر کے اس دورے کا مکمل نتیجہ ابھی سامنے آنا باقی ہے، مگر تہران کا لہجہ بتا رہا ہے کہ امریکہ-ایران تعطل کا راستہ ابھی لمبا ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)