Tuesday, 20 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

کیا نہرو واقعی 1960 میں غزہ گئے تھے؟ اسرائیلی طیاروں کا واقعہ اور بھارت کی بدلتی فلسطین پالیسی

جولائی 2017 میں اسرائیل کے اولگا ساحل پر بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو گفتگو کرتے ہوئے

سوشل میڈیا پر گردش کرتی ایک تصویر میں بھارت کے پہلے وزیرِ اعظم نہرو 1960 میں غزہ میں بھارتی فوجیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، اور دعویٰ ہے کہ واپسی پر دو اسرائیلی جنگی طیاروں نے ان کے طیارے کا پیچھا کیا۔ لیکن یہ کہانی من گھڑت نہیں — یہ بھارت کے اپنے پارلیمانی ریکارڈ میں درج ہے۔

19 مئی 1960 کو نہرو لندن سے واپسی پر بیروت کے راستے غزہ پہنچے۔ مقصد اقوام متحدہ کی امن فوج (UNEF) کے بھارتی دستے سے ملاقات تھی، جو سویز جنگ کے بعد کی جنگ بندی لائن پر تعینات تھی؛ اس کے کمانڈر بھی بھارتی تھے: لیفٹیننٹ جنرل پی ایس گیانی۔ نہرو نے شہید فوجیوں کی قبروں پر حاضری دی اور اگلے دن دیر البلح میں بھارتی دستے سے خطاب بھی کیا۔

طیارے والا واقعہ: ریکارڈ کیا کہتا ہے؟

دو اسرائیلی جیٹ طیارے نہرو کے اقوام متحدہ کے طیارے کے بالکل قریب آ گئے۔ اقوام متحدہ نے احتجاج کیا؛ سیکریٹری جنرل نے افسوس ظاہر کیا۔ البتہ ذرائع میں فرق ملتا ہے: راجیہ سبھا کے سوال کے مطابق یہ غزہ جاتے ہوئے ہوا، بعض بعد کی رپورٹس اسے بیروت واپسی سے جوڑتی ہیں۔ اسرائیل نے کہا طیارہ اس کی حدود میں آ گیا تھا؛ معافی کبھی نہ مانگی۔ یکم اگست 1960 کو نہرو نے لوک سبھا میں اس عمل کو “بلا جواز” قرار دیا، اور 8 اگست کو نائب وزیرِ خارجہ لکشمی مینن نے راجیہ سبھا کے سرکاری ریکارڈ میں تصدیق کی: “دو اسرائیلی جیٹ طیارے واقعی اس اقوام متحدہ کے طیارے کے قریب اڑے تھے جس میں وزیرِ اعظم نے غزہ کا سفر کیا۔ یہ عمل مکمل طور پر بلا جواز لگا۔”

نہرو کے دور کی پالیسی: فلسطین کے ساتھ کھڑا بھارت

یہ دورہ محض رسمی نہ تھا۔ نومبر 1947 میں بھارت نے فلسطین کی تقسیم کے منصوبے کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ مئی 1949 میں بھارت نے اسرائیل کو اقوام متحدہ کی رکنیت دینے کے بھی خلاف ووٹ دیا۔ 17 ستمبر 1950 کو بھارت نے اسرائیل کو تسلیم تو کر لیا، مگر سفارت خانہ نہ کھولا — صرف بمبئی میں قونصل خانے کی اجازت ملی۔ مکمل تعلقات کے لیے جنوری 1992 تک انتظار کرنا پڑا۔ وجوہات تہہ در تہہ تھیں: کانگریس مذہب کی بنیاد پر ریاست کے تصور ہی کے خلاف تھی، ساتھ عرب دنیا سے یکجہتی اور عملی مفادات بھی تھے: تیل، حج، اور خلیج میں مقیم بھارتیوں کی سلامتی۔ 1974 میں بھارت PLO کو فلسطینی عوام کا واحد جائز نمائندہ تسلیم کرنے والا پہلا غیر عرب ملک بنا، اور نومبر 1988 میں فلسطینی ریاست کے اولین تسلیم کنندگان میں شامل تھا۔

وہ سال جب نہرو نے اسرائیل سے ہتھیار مانگے

لیکن آرکائیو میں ایک کم زیرِ بحث موڑ بھی ہے۔ اکتوبر 1962 میں جب چین سے جنگ چھڑی تو نہرو نے اسرائیلی وزیرِ اعظم ڈیوڈ بن گوریان کو ذاتی خط لکھا۔ اسرائیل کے سرکاری آرکائیو کی دستاویزات کے مطابق — جن کی تفصیل اخبار “دی ہندو” نے شائع کی — بن گوریان نے مکمل ہمدردی کا اظہار کیا اور جنگ کے دوران اسرائیل نے بھارت کو ہتھیار فراہم کیے؛ نہرو نے 18 نومبر کے خط میں شکریہ ادا کیا۔ جس ملک میں سفارت خانہ کھولنے سے بھارت گریز کرتا رہا، مشکل گھڑی میں اسی سے خاموش مدد لی گئی۔

مودی کا دور: گلے ملنے کی سفارت کاری

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد وزیرِ اعظم نرسیمہا راؤ نے جنوری 1992 میں مکمل سفارتی تعلقات قائم کیے، اور 1999 کی کرگل جنگ میں اسرائیل نے بھارت کو فوری گولہ بارود اور ڈرون دیے۔ مودی دور میں یہ تعلق کھل کر سامنے آ گیا۔ جولائی 2017 میں مودی اسرائیل جانے والے پہلے بھارتی وزیرِ اعظم بنے — دورہ جان بوجھ کر رام اللہ کے بغیر تھا۔ سات ماہ بعد فروری 2018 میں وہ فلسطین جانے والے بھی پہلے بھارتی وزیرِ اعظم بن گئے۔ “ڈی ہائیفینیشن” — دونوں سے الگ الگ، کھلا تعلق۔ SIPRI کے مطابق 2020-24 میں اسرائیل کی اسلحہ برآمدات کا 34 فیصد بھارت نے خریدا — کسی بھی ملک سے زیادہ۔ اسی خطے میں آج سعودی عرب کے دفاع کے لیے برطانوی ٹائیفون طیارے بھیجے جا رہے ہیں اور آبنائے ہرمز میں ٹینکرز آگ کی لپیٹ میں ہیں۔

غزہ جنگ میں بھارت کا اصل امتحان

7 اکتوبر 2023 کے حملے کے چند گھنٹوں کے اندر مودی نے اسے دہشت گردی قرار دے کر اسرائیل سے یکجہتی کا اعلان کیا اور تین دن بعد نیتن یاہو سے بات کی۔ لیکن 19 اکتوبر کو انہوں نے فلسطینی صدر عباس کو فون کر کے تعزیت کی اور “دیرینہ اصولی مؤقف” دہرایا۔ غزہ کے لیے مصر کے راستے تقریباً 70 ٹن امداد بھی بھیجی گئی۔ اقوام متحدہ میں ووٹنگ بھی یہی توازن دکھاتی ہے: اکتوبر 2023 میں جنگ بندی کی قرارداد پر غیر حاضر (متن میں 7 اکتوبر کے حملے کی مذمت نہ ہونے پر اعتراض تھا)، دسمبر 2023 اور دسمبر 2024 میں جنگ بندی کے حق میں ووٹ، اور جون 2025 میں پھر غیر حاضری (149 حق میں، بھارت 19 غیر حاضرین میں شامل)۔

کیا بدلا، اور کیا نہیں بدلا؟

محركات واضح ہیں: اسرائیل جدید دفاعی ٹیکنالوجی بغیر سیاسی شرائط دیتا ہے؛ خلیجی عرب ممالک خود اسرائیل سے معمول کے تعلقات بنا چکے ہیں؛ اور بھارت کی پالیسی اب کثیر الجہتی توازن ہے۔ لیکن کاغذ پر مؤقف آج بھی وہی ہے جو 1988 میں تھا — فلسطینی ریاست کی تسلیم شدہ حیثیت اور دو ریاستی حل کی حمایت۔ بدلا ہے تو صرف لہجہ اور قربت: جو تعلق کبھی خطوط اور خفیہ ہتھیاروں تک محدود تھا، وہ اب مشترکہ بیانات اور ساحل کی سیر تک کھل کر آ گیا ہے۔

اس مضمون کا انگریزی ورژن Informopedia پر پڑھیں: Nehru in Gaza, 1960: The Day Israeli Jets Buzzed India’s Prime Minister

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *