اسلام آباد: نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی (NAC) نے مالی سال 2025-26 کے لیے پاکستان کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو میں معمولی کمی کرتے ہوئے اسے 3.65 فیصد پر نظرثانی کر دیا ہے، جو مئی 2026 میں حکومت کے اپنے 3.70 فیصد کے تخمینے سے کم ہے۔ زیادہ فکر کی بات یہ ہے کہ مالی سال کی آخری سہ ماہی (اپریل تا جون) میں نمو صرف 2 فیصد رہی، جبکہ صنعتی سرگرمیاں 4.7 فیصد سکڑ گئیں۔
کمیٹی کا 118 واں اجلاس 19 اکتوبر کو پاکستان بیورو آف شماریات کے ہیڈکوارٹر میں وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے سیکرٹری کی صدارت میں ہوا، جس میں تازہ درآمدی اعدادوشمار کو قومی حسابات میں شامل کرتے ہوئے مالی سال 21 سے 25 تک کے اعدادوشمار اور مالی سال 26 کی سہ ماہی نمو کی نظرثانی منظور کی گئی۔
اعداد کی کہانی
نظرثانی شدہ اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 26 میں معیشت کا حجم 126.4 کھرب روپے رہا، جو ڈالر میں 450.4 ارب ڈالر بنتا ہے، جبکہ فی کس آمدنی 5,31,897 روپے یعنی 1,896 ڈالر ریکارڈ کی گئی۔ مالی سال 25 کی نمو بھی 3.18 فیصد سے گھٹا کر 3.11 فیصد کر دی گئی۔
سہ ماہی اعدادوشمار ایک واضح لکیر کھینچتے ہیں: پہلی سہ ماہی کی نمو 3.92 سے کم کر کے 3.89 فیصد، دوسری کی 4.05 سے بڑھا کر 4.31 فیصد اور تیسری کی 3.99 سے بڑھا کر 4.42 فیصد کر دی گئی۔ یعنی نو ماہ تک معیشت بہتر رفتار پر رہی، مگر آخری سہ ماہی میں رفتار ٹوٹ گئی — مالی سال 25 کی اسی سہ ماہی میں 6.07 فیصد نمو ہوئی تھی۔
آخری سہ ماہی میں صنعت کی 4.7 فیصد سکڑن کے پیچھے بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی میں 33.2 فیصد کی گراوٹ ہے۔ بیورو آف شماریات کے مطابق یہ بڑی حد تک “بیس ایفیکٹ” ہے — گزشتہ برس اسی سہ ماہی میں یہ شعبہ سولر پاور کے اعدادوشمار کی شمولیت کے باعث تقریباً 123 فیصد بڑھا تھا، اس لیے موازنہ انتہائی سخت تھا۔ مینوفیکچرنگ 3 فیصد، چھوٹے پیمانے کی مینوفیکچرنگ 9.5 فیصد اور معدنیات 8.9 فیصد بڑھیں، جبکہ زراعت اور خدمات میں مثبت نمو جاری رہی۔
بین الاقوامی اداروں کے تخمینے
دلچسپ بات یہ ہے کہ نظرثانی شدہ 3.65 فیصد تقریباً تمام بڑے اداروں کے اندازوں کے قریب ہے — آئی ایم ایف نے مالی سال 26 کے لیے 3.6 فیصد، ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے 3.7 فیصد کا تخمینہ لگایا ہے، جبکہ اسٹیٹ بینک بھی نمو 3.7 فیصد کے قریب رہنے کی توقع رکھتا ہے۔ ڈان اخبار نے نشاندہی کی کہ ڈالر میں فی کس آمدنی خطے میں سب سے کم ہے۔
اس کا مطلب کیا ہے؟
عام پاکستانی کے لیے اصل خبر آخری سہ ماہی کی سست روی ہے۔ صنعتی سکڑن کا مطلب فیکٹریوں میں کم پیداوار اور نئے روزگار کے مواقع کی کمی ہے — اور یہ اس وقت ہوا جب ملک کی برآمدات میں بہتری کے آثار تھے — ٹیکسٹائل برآمدات میں 5.26 فیصد اضافے کی خبر اور ستمبر میں آئی ٹی برآمدات کا ریکارڈ اس کے ثبوت ہیں۔ یہ تضاد دراصل مستقبل کی سمت بتاتا ہے: مقامی صنعت کو سستی بجلی، مستحکم ٹیکس نظام اور مسلسل پالیسیوں کی ضرورت ہے، ورنہ نمو کا پہیہ برآمدات اور خدمات تک محدود رہے گا۔
حکومت کا اصل امتحان اب مالی سال 27 کی پہلی سہ ماہی میں ہوگا — اگر صنعت کی سکڑن ایک بیس ایفیکٹ کا وقتی عکس تھی تو اعداد بحال ہوں گے، اور اگر یہ بجلی کی قیمتوں اور مہنگے خام مال کی ساختاری رکاوٹ ہے تو کمیٹی کے اگلے اجلاس میں 3.65 فیصد کا یہ عدد مزید دباؤ میں آ سکتا ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)