گزشتہ دو دن سے سوشل میڈیا پر یہ خبر گردش کر رہی تھی کہ اداکار عمران عباس نے شوبز کو خیرباد کہہ دیا ہے۔ مگر 19 اکتوبر کو اداکار خود سامنے آئے اور اس افواہ کی تردید کر دی — ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا کہ وہ ان دنوں کر کیا رہے ہیں۔ پورا معاملہ سوال جواب میں:
کیا عمران عباس نے واقعی شوبز چھوڑ دیا ہے؟
نہیں۔ اداکار نے تھریڈز پر “Facts over rumours” یعنی “افواہوں پر حقائق کو ترجیح دیں” کے عنوان سے لکھا کہ سوشل میڈیا پر ان کے شوبز چھوڑنے کی جو خبریں گردش کر رہی ہیں، وہ سراسر غلط ہیں اور ان کے الفاظ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ ایک اور پوسٹ میں انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ انہیں تو سوشل میڈیا سے پتا چلا ہے کہ انہوں نے شوبز چھوڑ دیا ہے۔
یہ افواہ پھیلی کیسے؟
معاملے کی جڑ مشی خان کے مارننگ شو میں ان کا ایک فون انٹرویو ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے ٹی وی ڈرامے چھوڑ دیے ہیں اور اب ٹیلی وژن میں کام نہیں کر رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دو سے تین سال سے وہ ٹی وی ڈراموں سے دور ہیں۔ سوشل میڈیا نے “ٹی وی ڈرامے چھوڑنے” کو “شوبز چھوڑنے” بنا دیا — اور یہیں سے غلط فہمی نے افواہ کی شکل اختیار کر لی۔
تو وہ ان دنوں کر کیا رہے ہیں؟
عمران عباس کے مطابق گزشتہ دو سال سے ان کی ترجیحات بدل چکی ہیں۔ وہ اپنے کاروبار اور فلاحی کاموں پر توجہ دے رہے ہیں — اور اس دوران انہوں نے بے شمار ٹی وی اور فلم آفرز ٹھکرا دی ہیں، جن میں کچھ ایسی بھی تھیں جنہیں سرکاری فلم فنڈز کی پشت پناہی حاصل تھی۔ پیشے کے اعتبار سے وہ آرکیٹیکٹ ہیں، اور ان دنوں اسلام آباد میں تعمیرات کے شعبے میں سرگرم ہیں: اسلام آباد ایئرپورٹ کے قریب ممتاز سٹی میں ان کا 12 منزلہ ٹاور “ایری” زیر تعمیر ہے، جس کی تکمیل میں تقریباً ڈھائی سال لگنے کا امکان ہے۔
فلاحی کاموں کی طرف ان کے رجحان کی ایک ذاتی وجہ بھی ہے — ان کے والدین انتقال کر چکے ہیں اور ان کی کوئی اولاد نہیں، اس لیے وہ ایسا کام کرنا چاہتے ہیں جو لوگوں کے کام آئے اور جس کا اجر انہیں آخرت میں ملے۔
کیا وہ اداکاری میں واپس آئیں گے؟
ہاں — مگر اپنی شرائط پر۔ ان کے الفاظ میں شوبز سے ان کا رشتہ برقرار ہے، مگر ترجیحات بدل چکی ہیں، اور وہ ضرور ٹیلی وژن اور سینما کا حصہ بنیں گے جب کوئی ایسا پراجیکٹ ملے گا جس میں وہ مواد، مقصد اور تخلیقی گہرائی ہو جس پر وہ یقین رکھتے ہیں۔ یعنی دروازہ بند نہیں ہوا، بس معیار کی شرط لگ گئی ہے۔
ان کے کیریئر کا پس منظر کیا ہے؟
عمران عباس کا شمار پاکستان کے نمایاں ٹی وی اداکاروں میں ہوتا ہے — “خدا اور محبت” میں حماد رضا کا کردار ان کے کیریئر کا اہم موڑ تھا، اس کے علاوہ “کوئی چاند رکھ”، “تم کون پیا”، “میری ذات ذرہ بے نشاں” اور “نور العین” میں بھی انہیں پذیرائی ملی۔ بالی وڈ میں انہوں نے بپاشا باسو کے مقابل “کریچر 3 ڈی” سے ڈیبیو کیا تھا جس پر انہیں فلم فیئر بہترین ڈیبیو کی نامزدگی بھی ملی، اور “اے دل ہے مشکل” میں مختصر کردار بھی نبھایا۔ ماہرہ خان اور مہوش حیات کی ٹی وی واپسی جیسے رجحانات کے اس دور میں عمران کا یہ فیصلہ ایک مختلف راستے کی نشاندہی کرتا ہے۔
اس پورے معاملے میں اصل کہانی افواہ سے زیادہ اس کی رفتار ہے — ایک فون انٹرویو کا ایک جملہ، اور دو دن میں “شوبز چھوڑ دیا” کی سرخیاں۔ عمران عباس نے جس تحمل سے اس کی تردید کی، وہ بھی قابل غور ہے: نہ غصہ، نہ الزام، بس الفاظ کی درستگی۔ اور ان کا یہ کہنا کہ وہ ایسے پراجیکٹ کا انتظار کریں گے جس میں مواد، مقصد اور تخلیقی گہرائی ہو، دراصل پاکستانی ڈراما انڈسٹری کے لیے بھی ایک سوال چھوڑ جاتا ہے — کہ کیا ہمارے پاس ایسے پراجیکٹ بن بھی رہے ہیں؟

قارئین کے تبصرے (0)