Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
سیاست

اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات: 21 اکتوبر کو اہم سماعت، خیبر پختونخوا کا کیس فہرست سے خارج

اسلام آباد کی جناح ایونیو اور بلیو ایریا کی اسکائی لائن کی تصویر

اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا پانچ سال سے زائد عرصے پر محیط تعطل ختم ہونے کے قریب پہنچ گیا ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان بدھ، 21 اکتوبر کو وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات کے طویل التواء کا معاملہ باقاعدہ سماعت کے لیے لے گا، جس کے لیے سیکرٹری داخلہ اور چیف کمشنر اسلام آباد کو طلب کر لیا گیا ہے۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا کیس — جو 20 اکتوبر کو سماعت کے لیے مقرر تھا — الیکشن کمیشن کی فہرست سے خارج کر دیا گیا ہے۔

دی نیوز کی پیر کی رپورٹ کے مطابق، چند روز قبل ہونے والی ایک رسمی سماعت کے بعد کمیشن نے اشارہ دیا تھا کہ انتخابات اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 کے تحت کرائے جا سکتے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی صدارت میں ہونے والے خصوصی اجلاس میں اراکین، سیکرٹری اور سینئر افسران نے شرکت کی، جس میں طے پایا کہ وفاقی دارالحکومت کے انتخابات کے لیے سیکرٹری داخلہ اور چیف کمشنر کو معاونت کے لیے نوٹس جاری کیے جائیں۔

اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات کی تاخیر کی اصل وجہ قانونی خلا ہے۔ اسلام آباد لوکل گورنمنٹ (ترمیمی) آرڈیننس 2026 کی مدت 6 ستمبر کو ختم ہو گئی، جبکہ وفاقی حکومت اس سے پہلے مطلوبہ قانون سازی مکمل نہ کر سکی۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے 3 ستمبر کو متعلقہ بل کی منظوری تو دے دی تھی، مگر قانون سازی کا عمل آرڈیننس کی میعاد ختم ہونے سے پہلے پورا نہ ہو سکا۔ اس کے بعد وزارت قانون نے مسودہ قواعد وزارت داخلہ کو یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ ختم شدہ آرڈیننس کے تحت قواعد بنانے کا کوئی اختیار باقی نہیں رہا۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اس نے حلقہ بندی کا عمل مکمل کر کے حتمی فہرستیں شائع کر دی ہیں، اور اب سماعت کے بعد پرانے 2015 کے قانون کے تحت انتخابی شیڈول جاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تاخیر کا پیمانہ حیران کن ہے: وفاقی دارالحکومت میں آخری منتخب بلدیاتی نظام کی مدت 21 فروری 2021 کو ختم ہوئی تھی، یعنی اسلام آباد کے شہری ساڑھے پانچ سال سے زائد عرصے سے اپنے مقامی نمائندوں کے بغیر ہیں — جبکہ الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 219(4) کے تحت مدت ختم ہونے کے 120 دن کے اندر نئے انتخابات کرانا لازم ہے۔

خیبر پختونخوا کے معاملے میں الیکشن کمیشن نے باقاعدہ نوٹس جاری کیا: “عوام اور فریقین کی اطلاع کے لیے مشتہر کیا جاتا ہے کہ 20 اکتوبر 2026 کو سماعت کے لیے مقرر مذکورہ کیس فہرست سے خارج کر دیا گیا ہے۔ سماعت کی اگلی تاریخ بعد میں بتائی جائے گی۔” یہ نوٹس اس وقت جاری ہوا جب کے پی کے چیف سیکرٹری کو بنچ کے سامنے پیش ہونے کے نوٹس پہلے ہی جاری کیے جا چکے تھے۔

مسئلہ قانون کا نہیں، ترجیحات کا ہے

بلدیاتی انتخابات کی یہ کہانی صرف اسلام آباد یا خیبر پختونخوا تک محدود نہیں — یہ پاکستان کی ہر حکومت کی کہانی ہے۔ صوبائی حکومتیں بلدیاتی اداروں کو اختیارات اور فنڈز دینے سے کتراتی ہیں کیونکہ ترقیاتی فنڈز پر کنٹرول ہی سیاسی اثر و رسوخ کی کنجی ہے۔ اسلام آباد کا معاملہ سب سے نمایاں ہے کیونکہ یہاں کوئی صوبائی اسمبلی نہیں — دارالحکومت کے شہریوں کے پاس 2021 کے بعد سے کوئی منتخب نمائندہ ہی نہیں۔

خیبر پختونخوا میں تصویر اور بھی دھندلی ہے۔ صوبہ اس وقت ایمرجنسی اور گورنر راج کے تحت ہے، اور اب بلدیاتی انتخابات کا کیس بھی فہرست سے خارج ہو گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صوبے کے شہریوں کو مقامی حکومت کے لیے ابھی مزید انتظار کرنا پڑے گا — ایک ایسے وقت میں جب صوبے میں پہلے ہی منتخب صوبائی حکومت معطل ہے۔

21 اکتوبر کی سماعت تین میں سے ایک نتیجہ دے سکتی ہے: کمیشن 2015 کے قانون کے تحت شیڈول جاری کر دے، حکومت قانون سازی کے بہانے مزید وقت مانگ لے، یا معاملہ عدالتوں میں الجھ جائے۔ اسلام آباد کے شہریوں کے لیے سوال سیدھا ہے — کیا انہیں اس بار واقعی اپنا ووٹ ڈالنے کا موقع ملے گا، یا بلدیاتی حکومت کا خواب ایک بار پھر ملتوی ہو جائے گا؟

مزید پڑھیے

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *