یروشلم: اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اتوار کو اپنے سیکیورٹی نظریے کی پیشکش کے موقع پر ایک ایسا انتباہ جاری کیا جو ان کی اپنی سیاست کے لیے غیر معمولی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو سال میں امریکا میں کوئی ایسا صدر بھی اقتدار میں آ سکتا ہے جو اسرائیل کا “بہت بڑا دشمن” ہو — اور اسرائیل کو اس دن کی تیاری ابھی سے کرنی چاہیے۔
نیتن یاہو کے الفاظ یہ تھے: “دو سال میں ایک صدر، مرد ہو یا عورت، اقتدار میں آ سکتا ہے جو اسرائیل کا بہت دشمن ہو۔ آپ اس سے کیسے نمٹیں گے؟ امریکا کے حوالے سے آپ کیسے کام کریں گے؟ اور اس کے علاوہ کن حلوں کی ضرورت ہوگی؟” ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو ٹرمپ کی صدارت کے باقی سالوں میں واشنگٹن میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنی چاہیے — “اچھے وقتوں میں بھی اور برے میں بھی” — اور ساتھ ہی نئے اتحاد بنانے چاہئیں۔
“دوسری چیز نئے اتحاد بنانا ہے۔ یہی وہ کام ہے جو میں اب خطے اور اس سے باہر کے کئی ممالک کے ساتھ کر رہا ہوں۔ بھارت کوئی چھوٹا ملک نہیں، اور بہت سے دوسرے بھی ہیں،” اسرائیلی وزیراعظم نے زور دے کر کہا۔ لاطینی امریکا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا: “لاطینی امریکا میں بڑی تبدیلی آ رہی ہے، اور صرف چند دنوں میں برازیل میں زبردست تبدیلی ہو سکتی ہے۔ ہمیں اپنے اتحادوں کا دائرہ بڑھانا ہوگا اور ایسی صلاحیتیں تیار کرنی ہوں گی جو ہمیں سب کے لیے قیمتی بنائیں۔”
یہ بیانات 27 اکتوبر کو ہونے والے اسرائیلی پارلیمانی انتخابات سے ٹھیک نو روز قبل سامنے آئے ہیں — یہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد پہلے انتخابات ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی اتوار کو چند گھنٹے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کی دوبارہ انتخابی مہم کی “مکمل اور غیر مشروط حمایت” کا اعلان کر دیا۔ سروے میں نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی اپوزیشن رہنما گاڈی آئزن کوٹ کی یاشار پارٹی سے پیچھے دکھائی دے رہی ہے۔
آئزن کوٹ نے نیتن یاہو کے سیکیورٹی نظریے پر سخت تنقید کی ہے اور ان پر الزام لگایا ہے کہ وہ انتخابات سے قبل رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کے لیے خوف پھیلا رہے ہیں۔
یہاں ایک عجیب تضاد ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ نیتن یاہو نے اپنی پوری سیاسی زندگی “مضبوط اسرائیل” کا نعرہ لگایا ہے — وہ رہنما جو اتحادیوں کو بھی ڈانٹنے سے نہیں ہچکچاتا۔ مگر اب وہ کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ اسرائیل کی قسمت کا انحصار اس بات پر ہے کہ وائٹ ہاؤس میں کون بیٹھا ہے۔ یہ اعتراف دراصل ان کی انتخابی حکمت عملی کا حصہ ہے: وہ اسرائیلی رائے دہندگان کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ صرف وہی ٹرمپ کے ساتھ تعلقات سنبھال سکتے ہیں، اور صرف وہی آنے والے “مشکل” امریکی صدر کے لیے تیاری کر سکتے ہیں۔ خوف یہاں ہتھیار ہے، اور ہدف ووٹر ہے۔
بھارت کا بار بار ذکر بھی سوچا سمجھا ہے۔ نیتن یاہو مئی میں بھارت کو “منفرد تعلق” والی بڑی طاقت قرار دے چکے ہیں، اور وہ وزیراعظم نریندر مودی سے اپنے ذاتی تعلقات کو اس بات کے ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ اسرائیل سفارتی طور پر تنہا نہیں۔ برازیل کی طرف اشارہ بھی خالی نہیں — وہاں جلد سیاسی تبدیلی کی توقع ہے، اور نیتن یاہو پہلے سے ہی اس نئے منظرنامے میں اپنی جگہ بنانا چاہتے ہیں۔
پاکستان سمیت دنیا کے لیے اس بیان کا اصل مطلب یہ ہے کہ اسرائیل اپنی خارجہ پالیسی میں امریکا پر انحصار کم کرنے کی تیاری کا عندیہ دے رہا ہے — کم از کم لفظوں میں۔ 27 اکتوبر کے انتخابات کا نتیجہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے اور عالمی تیل کی قیمتوں پر بھی اثر ڈالے گا، اور یہ دونوں چیزیں پاکستان کی معیشت کے لیے براہ راست اہمیت رکھتی ہیں۔ نیتن یاہو کا انتباہ دراصل ایک سوال بھی ہے: اگر اسرائیل کو ہی واشنگٹن کے موڈ کی فکر ہے، تو باقی دنیا کا کیا حال ہوگا؟

قارئین کے تبصرے (0)