اہم نکات
- امریکا کے محکمہ خزانہ کی جانب سے عالمی دہشت گرد قرار دیے گئے محمد سرور اتوار کو لاہور میں انتقال کر گئے۔ وہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ (پی ایم ایم ایل) کے پنجاب کے صدر تھے۔
- جماعت کے ترجمان کے مطابق سرور نماز کے لیے گھر سے مسجد جا رہے تھے کہ راستے میں گر پڑے؛ پاکستانی چینل 24 نیوز کی رپورٹ کے مطابق سیڑھیوں سے گرنے سے سر پر چوٹ لگی۔ موت کی اصل وجہ سرکاری طور پر واضح نہیں کی گئی۔
- 2016 میں امریکی پابندیوں کا نشانہ بنے تھے؛ ان پر لشکر طیبہ کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے اور منتقل کرنے کا الزام تھا۔
- نماز جنازہ اتوار کی رات لاہور کے چوبورجی میں جماعت الدعوۃ کے مرکز جامعہ القدسیہ میں ادا کی جانی تھی۔
لاہور: امریکا کی جانب سے عالمی دہشت گرد قرار دیے گئے محمد سرور اتوار کے روز لاہور میں انتقال کر گئے۔ وہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے پنجاب کے صدر کے عہدے پر فائز تھے۔
جماعت کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ “پاکستان مرکزی مسلم لیگ پنجاب کے صدر محمد سرور انتقال کر گئے ہیں۔ وہ گھر سے مسجد کی طرف نماز کے لیے جا رہے تھے کہ گر پڑے اور دم توڑ گئے۔” تاہم جماعت نے موت کی اصل وجہ واضح نہیں کی۔ پاکستانی ٹی وی چینل 24 نیوز کی رپورٹ کے مطابق سرور سیڑھیوں سے گرنے کے باعث سر پر لگنے والی چوٹ سے جاں بحق ہوئے۔
پاکستان مرکزی مسلم لیگ ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ حافظ سعید کی جماعت الدعوۃ کی سیاسی شاخ ہے۔ حافظ سعید خود 2019 سے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں ہیں، جہاں انہیں دہشت گردی کی مالی معاونت کے متعدد مقدمات میں کئی سال کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔
جماعت کے رہنماؤں خالد مسعود سندھو، سیف اللہ قصوری، حافظ طلحہ سعید، یعقوب شیخ، خالد نائیک گجر اور مزمل اقبال ہاشمی نے سرور کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ مزمل اقبال ہاشمی نے کہا کہ “محمد سرور کی موت سے جماعت نے ایک مضبوط اور نڈر رہنما کھو دیا ہے۔”
امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (او ایف اے سی) نے 2016 میں محمد سرور اور لشکر طیبہ کے ایک اور سینئر رہنما شاہد محمود کو خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا۔ اس اقدام کا مقصد لشکر طیبہ کے فنڈز اکٹھا کرنے اور معاونت کے نیٹ ورکس کو توڑنا تھا، اور دونوں افراد کی امریکی دائرہ اختیار میں موجود جائیدادوں اور مفادات کو منجمد کر دیا گیا تھا۔
امریکی حکام کے مطابق سرور اور محمود لشکر طیبہ کی کارروائیوں کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے اور منتقل کرنے کے ذمہ دار تھے۔ امریکی ریکارڈ کے مطابق سرور کم از کم 2015 سے لشکر طیبہ کے لاہور کے سربراہ تھے، 2009 تک وہ لاہور میں تنظیم کے مالی ونگ کے دو اہم ترین عہدیداروں میں شامل ہو چکے تھے، اور 2008 سے ہی وہ تاجروں کے وفود کو عطیات کی درخواست کے لیے تنظیم کی تنصیبات پر لے جایا کرتے تھے۔
سرور کی موت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان پر دہشت گرد تنظیموں کے مالی نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کا بین الاقوامی دباؤ برسوں سے جاری ہے۔ جماعت الدعوۃ نے پابندیوں کے بعد خود کو سیاسی جماعت کی شکل میں ڈھالنے کی کوشش کی تھی، مگر اس کے اہم رہنما ایک ایک کر کے منظر سے ہٹ رہے ہیں — حافظ سعید جیل میں ہیں اور اب پنجاب کے صوبائی صدر بھی نہیں رہے۔ موت کے حالات پر اٹھنے والے سوالات — جماعت کا “گر پڑے” کا مختصر بیان اور ٹی وی رپورٹ کی “سیڑھیوں سے گرنے” کی وضاحت — اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ ان تنظیموں کے اندرونی معاملات آج بھی عوامی نظر سے دور ہیں، اور ان پر ہونے والی ہر خبر میں متضاد بیانیے سامنے آتے ہیں۔
بہرحال، ایک ایسے شخص کا باب بند ہو گیا ہے جسے امریکا نے ایک دہائی قبل دہشت گردی کی مالی معاونت کے نیٹ ورک کا اہم کردار قرار دیا تھا — اور جس کی موت کی خبر بھی اسی طرح کے سوالات چھوڑ گئی ہے جیسے اس کی زندگی کی سرگرمیاں۔

قارئین کے تبصرے (0)