Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

میکرون کا فسادیوں کو انتباہ: “لوٹنے والے نقصان کا ہرجانہ دیں گے” — نانٹس میں پولیس اہلکار ہلاک

فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون (دائیں) پیرس میں یوکرینی صدر وولوڈیمیر زیلنسکی کے ساتھ

پیرس — فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے اتوار کی شام قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ ہفتے کے روز مہنگائی کے خلاف مظاہروں کے دوران فسادات برپا کرنے والوں سے “قانون کی مکمل طاقت” سے نمٹا جائے گا۔ فرانس میں گزشتہ کئی دہائیوں کے بدترین فسادات کے بعد یہ ان کا پہلا براہِ راست خطاب تھا۔

میکرون نے کہا: “لوٹ مار کرنے والوں کو نقصان کا ہرجانہ دینا ہوگا۔ اور جو ریپبلک کو گرانے کی کوشش کریں گے انہیں جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔” انہوں نے مزید کہا: “آج رات ہم سب غصے اور شرم محسوس کرتے ہیں — بے لگام تشدد کا کوئی جواز نہیں۔”

فرانسیسی صدر نے جائز مطالبات کے ساتھ پرامن مظاہرہ کرنے والوں اور “جنہوں نے تباہی مچائی، توڑ پھوڑ کی اور لوٹ مار کی” ان کے درمیان واضح فرق کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے عوامی شکایات سننے کی ضرورت بھی تسلیم کی اور عوامی تحفظ پر بات کے لیے کل میئروں کے ساتھ ہنگامی اجلاس کا اعلان کیا۔

اسی دوران ایک اور ہلاکت کی تصدیق ہوئی: وزیر داخلہ لوراں نونیز کے مطابق نانٹس شہر میں 22 سالہ پولیس اہلکار ایک “تیسرے فریق کی گاڑی” کی ٹکر سے ہلاک ہو گیا۔ یہ ہفتے کے فسادات کی دوسری موت ہے — اس سے قبل پیرس میں ایک مظاہرین دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہوا تھا۔

نونیز کے مطابق اب تک 2,000 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں اور 600 سے زائد پولیس اہلکار، جنڈارمز اور فائر فائٹرز زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کی تعداد ابھی عارضی بتائی گئی ہے۔

اتوار کو بھی کشیدگی رہی: سوشل میڈیا پر “تحریک جاری رکھنے” کی اپیلوں کے بعد درجنوں افراد پلیس ڈے لا ریپبلک پر جمع ہوئے، جہاں پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن استعمال کیے۔ قریبی گلی میں آگ لگنے کی بھی اطلاعات ہیں۔

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی معاملے میں دخل دیا — ٹرتھ سوشل پر لکھا کہ “فرانس جل رہا ہے” اور امیگریشن کو موردِ الزام ٹھہراتے ہوئے سرحدیں بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ایکس پر اسی نوعیت کے تبصرے کیے۔

سیاق و سباق: ہفتے کو ملک بھر میں تقریباً پانچ لاکھ 50 ہزار افراد (سرکاری اعداد) سڑکوں پر نکلے تھے، جب کہ یونین سی جی ٹی کا دعویٰ آٹھ لاکھ کا ہے۔ لیموج کا تاریخی ٹاؤن ہال نذرِ آتش ہوا، مارسیل کے سٹی ہال میں نقاب پوش مظاہرین داخل ہوئے اور لیون کے سیاحتی دفتر کو آگ لگا دی گئی۔ یہ تحریک ستمبر کے آخر میں اسکولوں سے شروع ہوئی تھی اور اب ییلو ویسٹس، کسانوں، یونینوں اور طلبہ کی مشترکہ تحریک بن چکی ہے۔ وزیراعظم لیکورنو کا بین الوزارتی بحران اجلاس پیر کی صبح 10 بجے تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

تجزیہ: میکرون کا یہ خطاب محض مذمتی بیان نہیں — “ریپبلک کو گرانے کی کوشش” کے الفاظ فسادات کو ادارتی خطرے کے فریم میں ڈالتے ہیں، جب کہ میئروں سے ملاقات عوامی تحفظ کو سیاسی مرکز میں لاتی ہے۔ صدارتی انتخابات میں تقریباً چھ ماہ باقی ہیں اور میکرون کی مدت 2027 میں ختم ہو رہی ہے؛ ایسے میں یہ خطاب حکومت کی نئی پالیسی کا رخ متعین کرے گا۔ یورپ بھر میں مہنگائی کے خلاف اسی نوعیت کے احتجاج بیلجیم، پرتگال اور اٹلی میں بھی ہو رہے ہیں۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *