Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
پاکستان

خضدار میں ماربل کان پر مسلح دھاوا — 18 مزدور اغوا، ایک زخمی؛ بلوچستان میں دو دن کا دوسرا بڑا اغوا

ایک ماربل کان میں کھدائی کا منظر (علامتی تصویر)

خضدار — بلوچستان کے ضلع خضدار کے نال علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک ماربل کان اور فیکٹری پر دھاوا بول کر کم از کم 18 مزدور اغوا کر لیے۔ حملے میں ایک مزدور گولی لگنے سے زخمی بھی ہوا۔ نال تھانے کے ایس ایچ او غلام مصطفیٰ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اغوا کیے گئے افراد میں کان کے مالک کا بیٹا اور 17 مزدور شامل ہیں۔

واقعہ ہفتے کی رات دیر گئے بیسار اناری کے علاقے میں پیش آیا، جو خضدار شہر سے تقریباً 35 سے 40 کلومیٹر دور ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق درجنوں مسلح افراد موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں پر آئے، فائرنگ کی اور پھر مزدوروں کو نامعلوم مقام کی طرف لے گئے۔ حملہ آور کان سے دو گاڑیاں اور ایک لوڈر بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ اغوا کیے گئے مزدور خضدار کے نال اور وڈھ علاقوں کے رہائشی بتائے جاتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق یہ ماربل کان سابق صوبائی وزیر سردار اسلم بزنجو کے بیٹے شاہ میر بزنجو اور مقامی قبائلی شخصیت نعیر عالم بزنجو کی ملکیت ہے۔ ابھی تک کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مزدوروں کی تلاش جاری ہے، تاہم اغوا کا مقصد ابھی واضح نہیں۔

یہ بلوچستان میں دو دن کے اندر دوسرا بڑا اغوا ہے۔ جمعے کو مستونگ کے قریب کوئٹہ-کراچی شاہراہ پر 20 زیرِ تربیت پولیس اہلکاروں کو بس سے اتار کر اغوا کر لیا گیا تھا، جن کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں۔ اس سے ایک روز قبل خاران میں رخشان ڈویژن کے کمشنر اسد اللہ کاکڑ کو بھی اغوا کیا گیا تھا۔

دوسری جانب پاکستان کی فوج کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے اتوار کو بلوچستان میں تین انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں میں آٹھ مشتبہ عسکریت پسند ہلاک کر دیے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کوئٹہ میں عسکریت پسندوں کی ناکہ بندی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے پانچ، نوشکی میں ٹھکانہ تباہ کر کے دو، اور خضدار میں ایک عسکریت پسند مارا گیا — خضدار سے 490 کلو گرام دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا۔ فوج نے ان عسکریت پسندوں کو “فتنہ الہندوستان” قرار دیا، جسے وہ بھارت کی پراکسی سمجھتی ہے۔ نئی دہلی کی جانب سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں بھی نال کے علاقے میں ایک تعمیراتی کمپنی کے کیمپ سے 18 مزدور اغوا کیے گئے تھے، جنہیں بعد میں رہا کر دیا گیا تھا۔ خضدار بلوچستان کے ان اضلاع میں شامل ہے جہاں تعمیراتی کمپنیوں اور کانوں پر کام کرنے والے مزدوروں کو طویل عرصے سے سیکیورٹی خطرات کا سامنا ہے۔

تجزیہ: بلوچستان پاکستان کا معدنیات سے مالا مال مگر سب سے کم ترقی یافتہ صوبہ ہے، جہاں علیحدگی پسند شورش برسوں سے جاری ہے۔ مزدوروں اور ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بنانا اس شورش کی پرانی حکمتِ عملی ہے — جس سے نہ صرف انسانی جانیں خطرے میں ہیں بلکہ صوبے کے ترقیاتی منصوبے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے عسکری کارروائیاں تیز کرنے کے دعوؤں کے باوجود اغوا کی وارداتوں میں اضافہ سیکیورٹی چیلنج کی سنگینی ظاہر کرتا ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *