Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
سیاست

پشاور ہائی کورٹ 20 اکتوبر کو خیبر پختونخوا ایمرجنسی کیس سنے گی — پانچ فیصلہ کن قانونی سوالات

پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے

منگل کو پشاور ہائی کورٹ ایک ایسا مقدمہ سنے گی جو محض ایک صوبے کے انتظامی انتظام کا نہیں، بلکہ آئین کے ہنگامی اختیارات کی حدود کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ عدالت نے 20 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف دائر درخواستوں کی ابتدائی سماعت مقرر کی ہے۔ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، ایڈووکیٹ سلمان خان، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے محسن داوڑ اور بشریٰ گوہر، اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت — سب اسی روز عدالت کے روبرو ہوں گے۔

عدالت کے سامنے پانچ فیصلہ کن سوالات

گوہر علی خان کی درخواست — جو آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت 14 اکتوبر کو دائر ہوئی اور جس کی پیروی بیرسٹر سمیر کھوسہ، سلمان اکرم راجہ، علی زمان، سردار حسیب احمد اور زینب شاہد کریں گے — پانچ نکات پر وفاقی اقدام کو چیلنج کرتی ہے۔ پہلا سوال: کیا “داخلی انتشار” کا آئینی معیار واقعی پورا ہوا؟ آرٹیکل 232 کی شق ایک کے تحت ایمرجنسی کے لیے جنگ یا بیرونی جارحیت سے پیدا شدہ سنگین صورتحال درکار ہے، اور درخواست کا موقف ہے کہ اعلان میں اس کا کوئی “آبجیکٹو میٹیریل” دکھایا ہی نہیں گیا۔

دوسرا سوال امتیازی سلوک کا ہے، اور یہ سیاسی طور پر سب سے تیز دھار والا نکتہ ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ “بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات کی افسوسناک حد تک بڑی تعداد کے باوجود وہاں ایمرجنسی کا اعلان نہ کیا گیا، نہ کبھی سوچا گیا” — یعنی خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کا جواز “محض ایک بہانہ ہے جو آرٹیکل 25 کی صریح خلاف ورزی میں استعمال کیا گیا”۔ درخواست یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ 2007 سے 2015 تک دہشت گردی کے عروج کے دور میں بھی “پاکستان میں کہیں ایمرجنسی نافذ نہیں کی گئی”۔

تیسرا سوال اعلان کے پیراگراف 2 پر ہے، جس کے تحت خیبر پختونخوا اسمبلی کے قانون سازی کے اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل کر دیے گئے — بغیر اس اسمبلی قرارداد کے جو آرٹیکل 232 کی شق ایک تقاضا کرتی ہے۔ درخواست اسے “ابتدا سے ہی کالعدم اور صوبائی خودمختاری پر ناجائز قبضہ” قرار دیتی ہے اور عدالت سے وفاق کو پارلیمنٹ میں خیبر پختونخوا سے متعلق قانون سازی پیش کرنے سے روکنے کی استدعا کرتی ہے۔

چوتھا سوال متوازی انتظامی ڈھانچوں کا ہے: گورنر فیصل کریم کنڈی کی سربراہی میں 11 رکنی ٹیکنوکریٹ ایڈوائزری کونسل، 12 اضلاع میں ایریا ڈیویلپمنٹ سیکرٹریٹ، خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل کی برطرفی، اور آرٹیکل 245 کے تحت فوج کی تعیناتی کا وہ حکم جو صوبائی حکومت کی درخواست کے بغیر جاری ہوا۔ ٹی ٹی اے پی کی درخواست کا جملہ اس نکتے کا خلاصہ ہے: “آئین کسی غیر متعین یا غیر منضبط ہنگامی اختیار کو تسلیم نہیں کرتا۔”

پانچواں سوال ریکارڈ کا ہے: گوہر علی خان نے گورنر کنڈی کی رپورٹ اور کابینہ سمری سمیت وہ تمام “آبجیکٹو میٹیریل” طلب کیا ہے جس کی بنیاد پر ایمرجنسی لگائی گئی۔ — ساتھ ہی سہیل آفریدی اور کابینہ و اسمبلی ارکان کی رہائی اور آفریدی کو عدالت میں پیش کرنے کا مطالبہ بھی ہے۔ این ڈی ایم نے حتمی فیصلے تک اعلان معطل کرنے کی عبوری ریلیف بھی مانگی ہے۔

سماعت سے دو روز پہلے دونوں فریق سخت

ہفتے کو وزیراعظم شہباز شریف نے پہلی بار کھل کر اپنا دفاع کیا اور کہا کہ حکومت “مجبور” تھی۔ ان کے مطابق حکمران اتحاد اور اپوزیشن کے مشترکہ وفد نے پی ٹی آئی سے “دن رات، 48 گھنٹے” مذاکرات کیے اور ایک مسودہ تیار تھا جس کے تحت پی ٹی آئی لانگ مارچ منسوخ کرتی۔ وزیراعظم نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے خود سہیل آفریدی اور علی امین گنڈاپور سے کئی ملاقاتیں کیں اور یقین دلایا کہ انتظامی و وسائل کے فیصلے وزیراعلیٰ سے مشاورت سے ہوں گے۔ یہ بیان اسی ہفتے آیا ہے جب ٹی ٹی اے پی نے وفاق سے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا — یعنی سیاسی راستہ بند، اب میدان صرف عدالت ہے۔

تجزیہ: اصل داؤ 20 اکتوبر کے فیصلے سے بڑا ہے

منگل کی سماعت کے تین ممکنہ راستے ہیں۔ پہلا: عدالت نوٹس جاری کر کے عبوری ریلیف دے دے — ایمرجنسی معطل، تو یہ سیاسی زلزلہ ہو گا اور گورنر راج کا پورا ڈھانچہ ایک ہی سماعت میں لرز جائے گا۔ دوسرا: عدالت فوری مداخلت سے انکار کرے — تو موجودہ انتظام برقرار رہے گا اور جنگ طویل ہو گی۔ تیسرا اور قرین قیاس راستہ: عدالت وفاق سے “آبجیکٹو میٹیریل” طلب کرے — اور یہیں مقدمے کا رخ طے ہو گا، کیونکہ اگر حکومت گورنر کی رپورٹ اور کابینہ سمری پیش نہ کر سکی تو درخواست گزاروں کا ہاتھ مضبوط ہو جائے گا۔

لیکن اصل نکتہ آگے ہے: یہ پہلا موقع ہے جب آرٹیکل 232 اور 234 کے ہنگامی اختیارات کو اس شکل میں عدالتی جانچ کا سامنا ہے — کیا ان کی کوئی عدالتی حد باقی ہے، یا “داخلی انتشار” کا لیبل لگا کر کسی بھی منتخب صوبائی حکومت کو ہٹایا جا سکتا ہے؟ دلچسپ ستم ظریفی یہ ہے کہ پی ٹی آئی کا سب سے مضبوط دلیل بلوچستان ہے — وہی بلوچستان جہاں اسی ہفتے 20 پولیس اہلکار اغوا ہوئے۔ وفاق اسے اپنے موقف کی تائید سمجھے گا، پی ٹی آئی اسے امتیاز کا ثبوت۔ 20 اکتوبر کو عدالت صرف ایک سماعت نہیں کرے گی؛ وہ یہ طے کرے گی کہ پاکستان میں ایمرجنسی کے اختیارات کی کوئی حد ہے بھی یا نہیں۔

مزید پڑھیے

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق کر دی

گورنر شپ کی “ناراضی” نے سیکیورٹی کے بیانیے کو سیاست کی لڑائی میں بدل دیا

قومی اسمبلی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی منظوری دے دی

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *