Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

کینیڈا کے فوجی اڈے میں خوفناک آگ — کئی اہلکار ہلاک و زخمی، تحقیقات جاری

البرٹا کے سی ایف بی وین رائٹ میں تربیتی مشق کے دوران فوجی گاڑیاں

ہفتے کے روز کینیڈا کے صوبے البرٹا میں فوجی اڈے “سی ایف بی وین رائٹ” میں ایک سنگین واقعے کے بعد بڑی آگ لگ گئی۔ ملک کے وزیر دفاع ڈیوڈ مک گنٹی نے تصدیق کی ہے کہ اس واقعے میں متعدد اہلکار ہلاک اور کئی زخمی ہوئے ہیں — تاہم انہوں نے نہ تو ہلاکتوں کی تعداد بتائی اور نہ ہی یہ بتایا کہ آگ آخر لگی کیسے۔

رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس (آر سی ایم پی) کو ہفتے کی شام تقریباً چار بجے اڈے کے تربیتی علاقے میں آگ لگنے کی اطلاع ملی۔ وین رائٹ کی مقامی میونسپلٹی کے مطابق آگ اڈے کی باڑ پار کر کے باہر نکل گئی اور تیز ہواؤں کے باعث تیزی سے پھیلتی جا رہی ہے۔ کئی علاقوں کے فائر فائٹرز آگ بجھانے میں مصروف ہیں، اور آگ کے دو الگ مراکز — ایک اڈے کے جنوب میں اور ایک ٹاؤن شپ روڈ 44-0 کے جنوب میں — فعال بتائے جا رہے ہیں۔ ابھی تک علاقہ خالی کرانے کا کوئی حکم جاری نہیں ہوا۔

وزیر دفاع مک گنٹی نے اوٹاوا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا: “مجھے یہ بتاتے ہوئے افسوس ہے کہ اس واقعے میں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں اور زخمی بھی۔” انہوں نے تحقیقات کو “انتہائی فعال اور نازک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکام ابھی یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ بالآخر ہوا کیا تھا۔ مک گنٹی نے اعتراف کیا کہ انہیں حالیہ برسوں میں ایسا کوئی واقعہ یاد نہیں آتا۔

وزیر اعظم مارک کارنی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا: “البرٹا میں سی ایف بی وین رائٹ میں ایک سنگین واقعہ پیش آیا جس سے بڑی آگ لگی ہے۔ ہماری ہمدردیاں تمام متاثرہ بہادر خواتین و مردوں کے ساتھ ہیں۔” انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت اور مقامی حکام کے ساتھ قریبی رابطہ ہے اور وہ البرٹا کی وزیر اعلیٰ کے ساتھ مسلسل بات چیت میں ہیں۔ البرٹا کی وزیر اعلیٰ ڈینیئل سمتھ نے آگ کو “انتہائی سنگین اور المناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے فوج کے متعدد اہلکار متاثر ہو رہے ہیں۔

سی ایف بی وین رائٹ ایڈمنٹن سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے اور کینیڈا کے مصروف ترین فوجی تربیتی اڈوں میں سے ایک ہے۔ یہاں کینیڈین مینوور ٹریننگ سینٹر اور تھرڈ کینیڈین ڈویژن ٹریننگ سینٹر قائم ہیں، جہاں فوجی جنگ کی حقیقی صورتحال کے قریب تربیت حاصل کرتے ہیں۔ 2021ء کی مردم شماری کے مطابق یہاں 1,310 فوجی اور سول اہلکار تعینات تھے۔ قریبی قصبے وین رائٹ کی آبادی صرف 6,600 ہے — اور یہی چھوٹا قصبہ اب اسپتال اور فائر فائٹنگ کی سہولت فراہم کر رہا ہے۔

یہ خبر کیوں اہم ہے: کینیڈا جیسے پرامن ملک میں فوجی اڈے پر اتنا بڑا حادثہ خود ایک بڑی خبر ہے۔ تربیتی اڈوں پر لائیو فائر اور دھماکہ خیز مواد روزمرہ کا حصہ ہوتا ہے، مگر ہلاکتیں غیر معمولی ہیں — اسی لیے وزیر دفاع کا “ایسا واقعہ یاد نہیں” والا جملہ اس کی سنگینی بیان کرتا ہے۔ ابھی تک وجہ نامعلوم ہے، اور کوئی قیاس آرائی جلد بازی ہوگی۔ کینیڈین افواج کے سربراہ جنرل جینی کیریگنن نے کہا ہے کہ افواج کی اولین ترجیح متاثرہ اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کی بہبود ہے، جبکہ ساسکاچیوان صوبے نے بھی امداد بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ آر سی ایم پی کی تحقیقات کا رخ اس حادثے کے اگلے مرحلے کا تعین کرے گا۔

مزید پڑھیے: کوئٹہ میں آرمی ایوی ایشن کا مشاق طیارہ گر کر تباہ، انسٹرکٹر پائلٹ اور اسٹوڈنٹ پائلٹ شہید

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *