Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

فرانس میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے فسادات میں بدل گئے — ایک دن میں 1200 گرفتاریاں، درجنوں شہروں میں آگ اور لوٹ مار

پیرس میں 17 اکتوبر 2026 کے مظاہرے کے دوران ایک مظاہرین کا ہاتھ سے بنا احتجاجی پوسٹر

پیرس — فرانس میں ہفتے کے روز مہنگائی اور عوامی سہولتوں کی خستہ حالی کے خلاف نکالے گئے ملک گیر مظاہرے کئی دہائیوں کے بدترین فسادات میں بدل گئے۔ وزیرِ اعظم سیبسٹین لیکورنو کے مطابق پولیس نے ایک ہی دن میں تقریباً 1200 افراد کو گرفتار کیا اور 150 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

داخلی وزیر لاراں نونیز کا کہنا ہے کہ ہفتے کو فرانس بھر کے درجنوں شہروں میں پانچ لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد سڑکوں پر نکلے، جبکہ مزدور یونین سی جی ٹی کا دعویٰ ہے کہ شرکا کی تعداد آٹھ لاکھ تھی۔ مظاہروں کا بڑا حصہ پُرامن رہا، مگر کئی شہروں میں نقاب پوش نوجوانوں نے دکانوں کو لوٹا، گاڑیوں اور عمارتوں کو آگ لگائی اور پولیس پر پتھراؤ کیا۔ 17 اکتوبر کے ملک گیر یومِ احتجاج کی رپورٹ یہاں پڑھیں

جنوبی فرانس کے شہر لیموژ میں تاریخی ٹاؤن ہال کو آگ لگا دی گئی — عمارت کا مینار شعلوں میں گھر کر گر گیا۔ مرسیلی میں سیاہ لباس میں ملبوس مظاہرین سٹی ہال میں گھس گئے اور دیواروں پر انارکسٹ نعرے لکھ ڈالے۔ لیون میں شہر کے ٹورسٹ آفس کو نذرِ آتش کر دیا گیا۔ پیرس کے مشہور بولیوارڈ ہاسمین پر آگ کے شعلے اٹھتے رہے اور درجنوں دکانوں کے شیشے توڑ کر لوٹ مار کی گئی۔ مونپیلیے میں بھی ایک پولیس اہلکار جلتی ہوئی عمارت کے قریب رنگ سے لت پت نظر آیا۔

پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ سینٹ اتین میں ایک 17 سالہ لڑکے کا دایاں ہاتھ ہجوم کو منتشر کرنے والے گرینیڈ سے اڑ گیا۔ پیرس کے میئر ایمانوئل گریگوار نے کہا کہ “پیرس کی پوری سڑکیں تباہ ہو گئیں”۔ ان کے بقول نقاب پوش نوجوانوں نے کھڑی گاڑیوں کو آگ لگائی اور بند دکانوں کو توڑ کر سامان لوٹا۔

وزیرِ اعظم لیکورنو نے فسادات کا الزام “انتہا پسند بائیں بازو” اور مجرموں پر عائد کیا۔ ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا: “ہم خود کو ڈرانے نہیں دیں گے۔ کوئی بھی تشدد کے ذریعے اپنا سیاسی ایجنڈا مسلط نہیں کر سکے گا۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ “پُرامن مظاہروں کا ہماری جمہوریہ میں جائز مقام ہے، مگر آگ لگانے، لوٹ مار اور حملوں کی کوئی جگہ نہیں”۔ صدر ایمانوئل میکرون نے ایکس پر لکھا کہ “ہم سب انتشار پھیلانے والوں کے خلاف متحد کھڑے ہوں گے” اور حملہ آوروں کے خلاف قانونی کارروائی کا وعدہ کیا۔ داخلی وزیر نونیز نے کہا کہ پُرامن مظاہرے کو “موقع پرست مجرموں” نے ہائی جیک کیا جو “لوٹ مار کا موقع دیکھ کر آئے تھے”۔

یہ مظاہرے ایک ماہ قبل پیرس کے محنت کش شمالی مضافات کے اسکولوں سے شروع ہوئے تھے، جہاں طلبہ اساتذہ کی کمی اور اسکولوں کی خستہ حالت پر سراپا احتجاج تھے۔ ہفتے کے مظاہروں میں ییلو ویسٹ تحریک کے پرانے کارکن، طلبہ، کسان، مزدور یونینیں اور ماحولیاتی کارکن بھی شامل ہوئے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ زندگی کی قیمت ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے، ایندھن مہنگا ہے اور احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس تشدد کر رہی ہے۔ 7 اکتوبر کے طلبہ احتجاج کی تفصیل یہاں پڑھیں

تجزیہ: یہ فرانس کے لیے 2023 کی پنشن اصلاحات کے خلاف مظاہروں کے بعد سب سے بڑا امتحان ہے — اور صدارتی انتخابات میں اب صرف چھ ماہ باقی ہیں، جن میں میکرون کی جگہ نیا صدر آئے گا۔ شرکا کی تعداد ییلو ویسٹ تحریک کے عروج سے بھی زیادہ رہی۔ فرانس یورپی یونین کی دوسری بڑی معیشت ہے اور اس کے سرکاری قرضے پر سود کی شرح دو دہائیوں کی بلند ترین سطح پر ہے۔ سڑکوں پر اتنی بڑی تعداد کا نکلنا یورپ بھر میں مہنگائی کی لہر کا حصہ ہے: ہفتے کو بیلجیئم، پرتگال اور اٹلی میں بھی چھوٹے پیمانے پر مظاہرے ہوئے، جبکہ البانیہ میں حکومت مخالف مظاہرین پولیس سے بھڑتے رہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *