Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
پاکستان

پاکستان نے ایران سے تجارت معطل کر دی — تفتان اور گبد رمڈان سرحدی گزرگاہیں عارضی طور پر بند

پاکستان ایران سرحد پر باڑ — گبد رمڈان اور تفتان کے راستے تجارت معطل

پاکستان نے ایران کے ساتھ تجارتی رابطے عارضی طور پر معطل کر دیے ہیں۔ وزارت تجارت نے جمعے کو ایک حکمنامے کے ذریعے تین اکتوبر کا پرانا حکم واپس لیتے ہوئے تفتان اور گبد رمڈان (250) کی سرحدی گزرگاہوں سے تمام تجارتی سرگرمیاں فوری طور پر روک دیں۔ یہ پیش رفت ہفتے کو سامنے آئی، اور دونوں سرحدی مقامات پر سینکڑوں مال بردار گاڑیاں پھنس گئیں۔

بلوچستان کے وزیراعلیٰ کے معاون برائے میڈیا و سیاسی امور شاہد رند نے ایکس پر جاری بیان میں سوشل میڈیا پر پھیلنے والی “افواہوں” کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ عارضی بندش کا مقصد “سیکیورٹی خدشات کا ازالہ، اسمگلنگ کی روک تھام اور سرحدی نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے”۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان انتظامی مسائل کے حل کے لیے پیش رفت جاری ہے اور “پاک ایران سرحد جلد دوبارہ کھلنے کا امکان ہے”۔

ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی تصدیق کی کہ بندش عارضی ہے، تاہم انھوں نے اس کی وجہ “تکنیکی مسائل” قرار دی اور کہا کہ معمول کی سرگرمیاں بحال کرنے کے لیے دونوں ممالک مشاورت میں مصروف ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق گبد رمڈان گزرگاہ سے مسافروں کی آمدورفت بدستور جاری ہے، صرف تجارتی سرگرمیاں روکی گئی ہیں۔ وانا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران کے روڈ مینٹیننس اینڈ ٹرانسپورٹیشن ادارے کے ٹرانزٹ دفتر کے ڈائریکٹر جنرل سید حسین حسینی نے ہفتے کو تجارتی سرگرمیوں کی معطلی کی تصدیق کی۔

بندش کا اثر فوری ہوا ہے۔ عرب نیوز کے مطابق گبد رمڈان گزرگاہ پر دو ہزار سے زائد کنٹینر پھنسے ہوئے ہیں، اور تاجروں کو اربوں روپے کے نقصان کا خدشہ ہے۔ تفتان میں ایل پی جی کے تاجر حاجی لیاقت عسازئی کا کہنا ہے کہ فیصلہ بغیر پیشگی اطلاع کے کیا گیا — “سینکڑوں ٹرک سرحد پر پھنسے ہیں اور ہمیں معلوم نہیں یہ بندش کب تک رہے گی”۔ ایک کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹ نے بتایا کہ اس کے کلیئر کیے گئے 65 کنٹینر پھنس گئے، جب کہ سندھ اور پنجاب سے تازہ غذائی اشیا لے جانے والے ٹرک بھی پھنسنے کے خطرے میں ہیں۔

پریشانی کی اصل وجہ توانائی ہے۔ گبد رمڈان پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کا بڑا راستہ بن چکی تھی — یہاں سے روزانہ چار ہزار ٹن سے زائد ایل پی جی درآمد ہوتی تھی، جب کہ پاکستانی چاول کی برآمد بھی بڑھی تھی جس سے ملینوں ڈالر کا زرِ مبادلہ آ رہا تھا۔ ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ بندش کراچی اور ملک کے دیگر حصوں میں ایل پی جی کی قلت بڑھا سکتی ہے اور کھلی منڈی میں قیمتیں بڑھنے کا خدشہ ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اس سے نہ صرف قومی خزانے کو بھاری نقصان اور کئی لوگوں کی روزی متاثر ہوگی بلکہ توانائی کا بحران بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

کوئٹہ چیمبر نے اپنے ارکان اور ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے کاروبار کو ہدایت کی ہے کہ اگلے احکامات تک نئے درآمدی اور برآمدی آرڈر نہ دیں۔ ضلع چاغی کے ڈپٹی کمشنر بختیار اسماعیل نے ایکس پر لکھا: “Pakistan-Iran border closure is temporary measure to improve border management to support counterterrorism efforts. The border will be opened as soon as effective measures are in place.” (سرحد کی بندش سرحدی انتظام بہتر بنانے اور دہشت گردی کے خلاف کوششوں کی حمایت کا عارضی اقدام ہے؛ مؤثر انتظامات ہوتے ہی سرحد کھول دی جائے گی۔)

پس منظر میں ایک دلچسپ تضاد بھی ہے۔ اس سال مارچ سے اسلام آباد اور تہران نے سرحدی تجارت آسان بنانے کے لیے اقدامات شروع کیے تھے — کسٹمز کے طریقے آسان کرنا، تفتان کو رسمی کسٹمز اسٹیشن قرار دینا اور نئے ٹرانزٹ راستے متعارف کرانا۔ اگست میں ایران کے وزیر تجارت و صنعت محمد اتابک نے دسویں پاک ایران مشترکہ تجارتی کمیٹی کے اجلاس کے لیے اسلام آباد کا دورہ کیا تھا، جہاں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں دونوں فریقوں نے گزرگاہیں چوبیس گھنٹے کھلی رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔ اب چند ہفتوں بعد وہی گزرگاہیں بند ہیں — جب کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں پہلے ہی بڑھی ہوئی ہیں اور علاقائی کشیدگی تیل کی عالمی منڈی کو بھی متاثر کر رہی ہے۔

یہ معاملہ کیوں اہم ہے: پاکستان کے لیے ایران صرف پڑوسی نہیں، توانائی کا ایک اہم ذریعہ ہے — گوادر سے کراچی تک ایل پی جی کی سپلائی کا ایک بڑا حصہ انہی دو گزرگاہوں سے آتا ہے۔ بندش کا ہر اضافی دن کراچی کے کچن اور بلوچستان کے تاجروں دونوں کی جیب پر بوجھ بڑھاتا ہے۔ دونوں حکومتوں کا لہجہ ایک ہے — “عارضی بندش” — مگر وجوہات کی تشریح مختلف: پاکستان سیکیورٹی اور اسمگلنگ کی بات کر رہا ہے، ایران “تکنیکی مسائل” کا حوالہ دے رہا ہے۔ اس فرق میں ہی اصل کہانی چھپی ہے: کیا یہ بلوچستان کی بدامنی کے خلاف محض انتظامی اقدام ہے، یا امریکا ایران جنگ کے دوران پابندیوں اور توانائی کی سیاست کا ایک نیا باب؟ اگلے چند دن میں سرحد کھلتی ہے یا نہیں — یہی اس سوال کا جواب دے گا۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *