Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
سیاست

گورنر شپ کی “ناراضی” نے سیکیورٹی کے بیانیے کو سیاست کی لڑائی میں بدل دیا

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی

جمعے کو لاہور میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی بحث کا رخ ہی موڑ دیا۔ ایک ہفتہ قبل تک یہ بحث آئین، دہشت گردی اور پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے گرد گھوم رہی تھی — اب اس کا مرکز ایک سوال بن گیا ہے: گورنر شپ کس کو ملے گی، اور کس کو نہیں ملی؟

نقوی نے نام لیے بغیر دعویٰ کیا کہ ایک سیاسی جماعت کا سربراہ خیبر پختونخوا کی گورنر شپ یا گورنر راج کے نئے سیٹ اپ میں کوئی کردار نہ ملنے پر “شدید ناراض” ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ رہنما دہائیوں تک اسٹیبلشمنٹ کی حمایت سے سیاست کرتا رہا — «ان کے حالات یہ تھے کہ ان کی جماعت کے ہوائی ٹکٹ تک اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے بنتے تھے»۔ نقوی کے بقول ایسے سیاست دانوں کو آج دوسروں پر انگلیاں اٹھانا زیب نہیں دیتا، اور سیاسی اختلافات دلائل و حقائق پر ہونے چاہئیں، “غیر مہذب زبان” اور الزامات پر نہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل پر آواز اٹھانے والے رہنماؤں سے سوال کیا: جب ان اضلاع کو برسوں تک ان کا حصہ نہیں مل رہا تھا، تو یہ لوگ خاموش کیوں تھے؟

نقوی نے نام نہیں بتایا، مگر اشارہ اتنا واضح تھا کہ ٹریبیون نے لکھا — یہ بظاہر جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی طرف تھا، جنہوں نے ایمرجنسی اور گورنر راج کو کھل کر مسترد کر رکھا ہے۔ اور اسی روز ملتان میں مفتی محمود کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فضل الرحمان نے جوابی وار بھی کر دیا۔ ان کا الزام تھا کہ ایمرجنسی کے ذریعے سابق قبائلی اضلاع کے وسائل وفاق کے حوالے کر دیے گئے ہیں — «فاٹا کے وسائل صوبے کا حصہ بن گئے تھے، مگر ایمرجنسی لگا کر آپ نے انہیں وفاق کے حوالے کر دیا»۔ انہوں نے معدنی وسائل پر امریکا سے معاہدوں کا الزام بھی لگایا اور کہا: «یاد رکھیں، ہم اب اس طرح کی سیاست قبول نہیں کریں گے۔»

پس منظر یہ ہے کہ حکومت نے گورنر فیصل کریم کنڈی کو برقرار رکھا ہے، جن کی معاونت 11 رکنی مشاورتی کونسل کرے گی، جبکہ صوبائی اسمبلی کے اختیارات پارلیمنٹ استعمال کرے گی۔ پی ٹی آئی یہ اقدام پہلے ہی عدالت میں چیلنج کر چکی ہے۔

یہ بیان حکومت کے لیے الٹا کیوں پڑ سکتا ہے؟

یہیں نقوی کی حکمت عملی کمزور پڑتی ہے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی توثیق کا دفاع سیکیورٹی کی بنیاد پر کیا گیا تھا — دہشت گرد حملے، صوبائی انتظامیہ کی ناکامی، آئینی مشینری کی خرابی (ایمرجنسی کے نفاذ کی تفصیل)۔ مگر اب وزیر داخلہ خود اس لڑائی کو عہدوں کی تقسیم کی لڑائی بنا رہے ہیں۔ اگر گورنر راج کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ “گورنر کس کو بنایا گیا اور کس کو نہیں”، تو اپوزیشن کا بنیادی الزام — کہ یہ فیصلہ سیاست تھا، سیکیورٹی نہیں — حکومت کے اپنے وزیر کے منہ سے ثابت ہو جاتا ہے۔

دوسرا نکتہ نام نہ لینے کی چال کا ہے۔ الزام اتنا واضح کہ ہر کوئی سمجھ جائے، مگر اتنا غیر واضح کہ جواب دہی نہ ہو۔ یہ وہی “الزامات کی سیاست” ہے جس کی نقوی خود مذمت کر رہے تھے — فرق صرف یہ ہے کہ اس بار الزام لگانے والا حکومت میں بیٹھا ہے۔

تیسرا اور سب سے اہم نکتہ فضل الرحمان کے وسائل والے جواب میں ہے۔ یہ شخصیات کی لڑائی سے آگے کی بات ہے: چھ ماہ تک خیبر پختونخوا پر وفاقی کنٹرول کا مطلب اس کی معدنی پٹی پر کنٹرول بھی ہے۔ “تم اس وقت کہاں تھے جب فاٹا کو حصہ نہیں ملتا تھا” ایک اچھا جوابی وار ضرور ہے، مگر یہ اس سوال کا جواب نہیں دیتا کہ وفاق کو ان وسائل پر براہ راست اختیار کیوں چاہیے۔

بحث اب “ایمرجنسی آئینی ہے یا نہیں” سے نکل کر “اس سے فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے” پر آ گئی ہے — اور یہ وہ میدان ہے جہاں حکومت کے لیے جیتنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہوگا۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *