Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

روس کے یوکرین پر تازہ حملے: 8 افراد ہلاک، دس لاکھ سے زائد بجلی سے محروم

رات میں کیف کا میدان نیزالیجنوستی — فائل تصویر

یوکرین کی سردیاں ابھی شروع بھی نہیں ہوئیں، اور روس نے اس کی بجلی کا گلا گھونٹنا شروع کر دیا ہے۔ جمعے 16 اکتوبر کو روس نے یوکرین کے توانائی کے انفراسٹرکچر پر ایک اور بڑا حملہ کیا — دارالحکومت کیف سمیت چھ علاقوں میں بجلی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔ یوکرین کی وزارتِ توانائی کے مطابق دس لاکھ سے زائد صارفین کسی نہ کسی وقت بجلی کی بندش کا شکار ہوئے، اور کئی علاقوں میں ایمرجنسی پاور کٹ نافذ کر دیے گئے۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق جمعے کے حملوں میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور قریب ساٹھ زخمی ہوئے۔ متاثرہ علاقوں میں خارکیف، دونیتسک، دنیپروپیتروفسک، ولین، سومے اور ریونے شامل ہیں۔

سب سے زیادہ خونریز حملے مشرقی شہر خارکیف میں ہوئے۔ گورنر اولے سینے ہوبوف کے مطابق شہر کے تین اضلاع پر حملوں میں ایک 71 سالہ خاتون اور 58 سالہ شخص ہلاک جبکہ 12 افراد زخمی ہوئے۔ شام کو بعد میں ہونے والے حملوں میں مزید نو افراد زخمی ہو گئے۔ فرنٹ لائن کے شہر کراماتورسک میں دو افراد جان سے گئے، اور جنوب مشرقی دنیپروپیتروفسک میں بھی دو ہلاکتیں ہوئیں۔

لیکن اس حملے کی سب سے نمایاں خصوصیت بجلی کے نظام پر وار تھا۔ شمال مغربی علاقے ولین میں، جو پولینڈ کی سرحد سے متصل ہے، ایک روسی ڈرون فوڈ پروسیسنگ پلانٹ سے ٹکرایا — ایک شخص ہلاک اور آٹھ زخمی ہو گئے۔ گورنر رومن رومانیوک کے مطابق حملوں کے بعد تقریباً تین لاکھ ستر ہزار افراد بجلی سے محروم ہو گئے۔ صبح تک مرمتی عملے نے ایک لاکھ افراد کی بجلی بحال کر دی تھی، مگر علاقائی دارالحکومت لوتسک کے میئر اینڈرئی رازوموفسکی نے خبردار کیا کہ بجلی کی یہ بندش کم از کم 24 گھنٹے جاری رہ سکتی ہے۔

حملوں کا دائرہ صرف بجلی کے تنصیبات تک محدود نہیں تھا۔ فرنٹ لائن کے قریب شمالی شہر سومے اور پڑوسی علاقے ریونے میں دو شاپنگ سینٹرز کو بھی نشانہ بنایا گیا — ریونے میں سات افراد زخمی ہوئے۔ ایمرجنسی سروسز کی جاری کردہ تصاویر میں سومے کے شاپنگ سینٹر کے خراب دروازے اور فرش پر خون کے نشان دکھائے گئے۔ یہ شہری مراکز اور بازاروں پر روسی حملوں کے حالیہ سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے۔

یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر مسلسل روسی حملے اور سردیوں کی سختیاں مزید یوکرینیوں کو گھر چھوڑنے پر مجبور کر سکتی ہیں۔ عالمی تنظیم برائے نقل مکانی (آئی او ایم) کے مطابق قابلِ اعتماد پانی کی فراہمی بھی خطرے میں ہے کیونکہ پانی کے نظام بجلی پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ ایجنسی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ یوکرین کے لیے اس کے 2026 کے امدادی منصوبے کی فنڈنگ سات فیصد سے بھی کم حاصل ہو سکی ہے — ضرورت کے مقابلے میں انتہائی کم رقم۔

یہ سب کیوں اہم ہے

روس کی حکمتِ عملی واضح ہوتی جا رہی ہے — سردیوں سے پہلے یوکرین کے بجلی کے نظام کو تباہ کر کے عوام کو ٹھنڈ اور اندھیرے میں ڈالنا۔ یہ وہی حکمت ہے جو زیلنسکی نے خود یورپی رہنماؤں کے سامنے پیش کی تھی جب انہوں نے سردیوں کے لیے توانائی، فضائی دفاع اور فنڈنگ کا خصوصی پیکج مانگا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ حملے اسی ہفتے ہوئے جب یوکرین نے روسی آئل ریفائنریوں پر حملے دوبارہ شروع کیے اور اسٹار لنک کی رفتار سست کرنے کے تنازع عروج پر پہنچا — یعنی بجلی کی جنگ اب دونوں سمتوں میں چل رہی ہے۔ پاکستان کے لیے بھی اس کے براہِ راست اثرات ہیں: عالمی توانائی منڈی میں ہر ایسے حملے سے تیل کے دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے، اور پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں کے روزانہ نظام کو یہ عالمی ہلچل براہِ راست متاثر کرتی ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *