بینکاک — پاکستان کی معاشی سفارت کاری کے لیے ایک تاریخی لمحہ: وفاقی وزارتِ اقتصادی امور نے جمعے کے روز اعلان کیا کہ پاکستان 2027 میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) اور ورلڈ بینک گروپ کے بورڈ آف گورنرز کی صدارت سنبھالے گا۔ یہ 1953 کے بعد پہلی بار ہے کہ پاکستان ان دونوں عالمی مالیاتی اداروں کے اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارے کی سربراہی کرے گا — یعنی تقریباً تین چوتھائی صدی بعد واپسی۔
اعلان بینکاک میں جاری 2026 کے سالانہ اجلاسوں کے مکمل اجلاس (پلینری سیشن) کے دوران کیا گیا، جس میں 191 ممالک کے 15 ہزار سے زائد مندوبین شریک ہیں۔ وزارت کے بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ اقتصادی امور احد خان چیمہ — جو ورلڈ بینک گروپ میں پاکستان کے گورنر بھی ہیں — 2027 کے لیے دونوں اداروں کے بورڈ آف گورنرز کے نامزد چیئر ہوں گے۔
بورڈ آف گورنرز آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سب سے بڑے فیصلہ ساز ادارے ہیں؛ ان میں رکن ممالک کے نمائندے شامل ہوتے ہیں اور یہ اداروں کی مجموعی پالیسی کی سمت طے کرتے ہیں۔ وزارت نے اس پیش رفت کو “تاریخی سنگِ میل” قرار دیا اور کہا کہ آنے والی صدارت پاکستان کو عالمی معاشی اور ترقیاتی مباحث میں اپنا کردار ادا کرنے اور رکن ممالک کے درمیان تعمیری مکالمے کی سہولت کا موقع دے گی۔
اعلان کے بعد ورلڈ بینک گروپ کے کارپوریٹ سیکریٹریٹ نے چیمہ کو صدارت کی ذمہ داریوں پر بریفنگ دی۔ انہوں نے ورلڈ بینک گروپ کی نائب صدر اور کارپوریٹ سیکریٹری ارادھنا کمار-کپور سے بھی ملاقات کی، جس میں پاکستان کی مدت کے دوران ادارہ جاتی معاونت اور ہم آہنگی پر تبادلہ خیال ہوا۔ چیمہ نے سبکدوش ہونے والے چیئر — پیراگوئے کے مرکزی بینک کے گورنر کارلوس کاروالو سپالڈنگ — سے بھی ملاقات کی، ان کی مدت کی تکمیل پر مبارکباد دی اور ان کے تجربے سے استفادے پر بات کی۔
ان ملاقاتوں میں چیمہ نے پاکستان کی ترجیحات بھی واضح کیں: ترقی پذیر ممالک کی آواز مضبوط کرنا، ترقیاتی مالیات کو مؤثر اور قابلِ پیشگوئی بنانا، کثیرالجہتی ترقیاتی اداروں کے درمیان ہم آہنگی بہتر کرنا اور پائیدار و جامع ترقی کے لیے نجی سرمائے کو متحرک کرنا۔
یہ خبر اس لیے اہم ہے کہ پاکستان اس وقت خود انھی اداروں کا قرض دار ہے — گزشتہ ہفتے ہی آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ 1.21 ارب ڈالر کے اسٹاف لیول معاہدے کا اعلان کیا تھا، جس کی منظوری تاحال ایگزیکٹو بورڈ سے درکار ہے۔ ایک ایسا ملک جو دہائیوں سے قرض کی شرائط پر مذاکرات کرتا آیا ہے، اب قرض دینے والے اداروں کے گورنروں کی میز کی صدارت کرے گا — یہ علامتی طور پر بڑی بات ہے، اور علامتیں معاشی سفارت کاری میں بے معنی نہیں ہوتیں۔
البتہ حدیں بھی واضح رہنی چاہئیں: بورڈ آف گورنرز کی صدارت بڑی حد تک رسمی اور اعزازی ہوتی ہے — روزمرہ کے اصل فیصلے واشنگٹن میں بیٹھے ایگزیکٹو بورڈ کرتے ہیں، جہاں ووٹنگ پاور کا تناسب امیر ممالک کے حق میں ہے۔ صدارت سے پاکستان کی قرض کی شرائط نہیں بدلیں گی۔ مگر 2027 کی صدارت اسلام آباد کو ایک ایسا پلیٹ فارم دے گی جہاں وہ قرضوں کے بوجھ تلے دبے درمیانے درجے کے ممالک کا مقدمہ عالمی ایجنڈے پر رکھ سکے — اور یہ وہ مقام ہے جہاں پاکستان کی آواز کو برسوں سے کمی محسوس ہو رہی تھی۔
مزید برآں، عالمی بینک کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان خطے کے تقریباً نصف انتہائی غریبوں کا گھر ہے — ایسے میں ترقیاتی مالیات کے ایجنڈے پر پاکستان کی صدارت محض پروٹوکول نہیں، ایک عملی ذمہ داری بھی ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)