Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
شوبز و ثقافت

“تمہیں شرم نہیں آتی؟” — مشی خان کا ارجن بج لانی کی اہلیہ پر سخت اعتراض، جوڑے نے معافی مانگ لی

فلم کی شوٹنگ کے دوران کیمرہ عملہ

بھارتی ٹیلی ویژن اداکار ارجن بج لانی کی اہلیہ ناہا سوامی بج لانی کی ایک ٹی شرٹ نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ کھڑا کر دیا ہے، اور اب پاکستانی اداکارہ و میزبان مشی خان بھی اس تنازع میں کود پڑی ہیں۔

معاملہ ممبئی میں اداکار کنال ورما اور پوجا بنرجی کے بیٹے کی سالگرہ کی تقریب کا ہے، جہاں ناہا ایک ایسی ٹی شرٹ پہنے نظر آئیں جس پر مکی ماؤس کے کارٹون کے ساتھ اردو میں اللہ، رسول اور پیغمبر اسلام سے متعلق الفاظ لکھے تھے۔ پاکستانی ذرائع کے مطابق شرٹ پر مہر نبوت جیسا مقدس نشان بھی تھا۔ تقریب کی تصاویر سامنے آتے ہی سوشل میڈیا صارفین نے اسے مذہبی جذبات کی توہین قرار دیتے ہوئے شدید تنقید شروع کر دی۔

مشی خان نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو میں سخت ردعمل ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا “خون کھول رہا ہے” اور انہوں نے ناہا سے سوال کیا: “تمہیں شرم نہیں آتی؟” مشی خان نے مطالبہ کیا کہ جوڑا عوامی معافی مانگے، اور کہا کہ پاکستانی فنکاروں نے کبھی کسی کے مذہب کی اس طرح توہین نہیں کی۔

تنقید بڑھنے پر ارجن اور ناہا نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں معافی مانگ لی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ شرٹ بینکاک کے ایک مال میں ایک مداح نے تحفے میں دی تھی اور انہیں اس پر لکھے الفاظ کے معنی کا علم نہیں تھا۔ جوڑے نے کہا کہ وہ تمام تہوار مناتے ہیں اور کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا ارادہ نہیں تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنے خلاف آن لائن ہراسانی اور دھمکیوں کی بھی مذمت کی اور لوگوں سے اپیل کی کہ معاملے کو سمجھداری اور برداشت سے دیکھا جائے۔ واضح رہے کہ یہ جوڑا ان دنوں ریئلٹی شو “پتی پتنی اور پنگا 2” میں نظر آ رہا ہے۔

مزید پڑھیے:

معافی کے بعد بھی سوال باقی ہیں

جوڑے کی معافی نے تنازع کو تو ٹھنڈا کر دیا ہے، مگر اس واقعے نے دو بڑے سوال چھوڑے ہیں۔ پہلا: فیشن برانڈز مقدس الفاظ اور نشانات کو ڈیزائن میں استعمال کرنے سے پہلے سوچتے کیوں نہیں؟ ایک مداح کا تحفہ کہہ کر جان چھڑانا آسان ہے، مگر جس کمپنی نے یہ شرٹ چھاپی، اس کی ذمہ داری کہاں گئی؟ دوسرا: سوشل میڈیا کے دور میں غصہ اتنی تیزی سے دھمکیوں میں کیسے بدل جاتا ہے کہ خود معافی مانگنے والوں کو ہراسانی سے بچنے کی اپیل کرنا پڑے؟ مشی خان کا غصہ سمجھ میں آتا ہے — مگر جس رفتار سے یہ معاملہ بائیکاٹ کی مہم میں بدلا، وہ بھی اتنا ہی سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *