Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
سیاست

اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کی راہ ہموار؟ ECP نے 21 اکتوبر کو سماعت مقرر کر دی

اسلام آباد میں شاہ فیصل مسجد کا بیرونی نظارہ

اسلام آباد کے شہریوں کے لیے طویل انتظار کے بعد بلدیاتی انتخابات کی امید ایک بار پھر جاگی ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بدھ (14 اکتوبر) کو فیصلہ کیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات کے معاملے کی باضابطہ سماعت 21 اکتوبر کو ہو گی — اور سماعت کے بعد انتخابی شیڈول جاری کرنے کا عندیہ بھی دے دیا گیا ہے۔ پانچ سال سے زائد عرصے سے اسلام آباد کے باسی منتخب مقامی نمائندوں سے محروم ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سماعت واقعی پولنگ کی طرف لے جائے گی، یا یہ بھی پچھلے اعلانات کی طرح کاغذی کارروائی ثابت ہو گی؟

2021 — اسلام آباد کی بلدیاتی حکومت کی مدت ختم ہو گئی۔ قانون کے مطابق 120 دن کے اندر نئے انتخابات ہونے تھے — مگر وہ 120 دن کبھی نہیں آئے۔

2021 تا 2026 — ان پانچ برسوں میں الیکشن کمیشن کی جانب سے کئی اعلانات ہوئے، انتخابی شیڈول بھی جاری کیے گئے، مگر پولنگ کبھی نہ ہو سکی۔ دارالحکومت کے مقامی مسائل — پانی، صفائی، سڑکیں، تجاوزات — کا فیصلہ منتخب نمائندوں کے بجائے بیوروکریسی کے ہاتھوں میں رہا۔

20 اور 21 جولائی 2026 — وفاقی دارالحکومت اسلام آباد (ترمیمی) آرڈیننس 2026 نافذ ہوا۔ الیکشن کمیشن نے 21 جولائی کو حلقہ بندی کا عمل شروع کیا، جبکہ ایک روز قبل، 20 جولائی کو، اسلام آباد کے بلدیاتی رولز پر اپنی آراء وزارت داخلہ کو بھیج دیں۔

3 ستمبر 2026 — قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے مطلوبہ قانون سازی کی منظوری دے دی۔ لگ رہا تھا کہ اب راستہ صاف ہے۔

6 ستمبر 2026 — مگر قانون سازی مکمل ہونے سے پہلے ہی آرڈیننس کی میعاد ختم ہو گئی۔ وزارت قانون و انصاف نے بلدیاتی رولز کا مسودہ وزارت داخلہ کو یہ کہہ کر واپس بھیج دیا کہ ختم شدہ آرڈیننس کے تحت رولز بنانے کا کوئی قانونی اختیار باقی نہیں رہا۔

6 اکتوبر 2026 — چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی صدارت میں خصوصی اجلاس ہوا۔ کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے لیے تیاری مکمل قرار دی، مگر اسلام آباد، خیبر پختونخوا، کوئٹہ اور کنٹونمنٹ بورڈز میں قانونی اور انتظامی رکاوٹوں کی نشاندہی کی۔ اسلام آباد کے لیے وفاقی حکومت سے فوری قانون سازی کی اپیل کی گئی — اور ساتھ ہی خبردار کیا گیا کہ قانون سازی نہ ہوئی تو 2015 کے پرانے قانون کے تحت انتخابات کرا دیے جائیں گے۔

حالیہ دنوں میں — وزیراعظم کی تشکیل کردہ اعلیٰ سطحی کمیٹی، جس کے سربراہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ہیں، نے اسلام آباد کے لیے صوبائی طرز کی حکومت تجویز کی ہے۔ تجویز کے مطابق 27 رکنی اسمبلی ہو گی — 21 ارکان براہ راست منتخب ہوں گے (تینوں قومی اسمبلی حلقوں سے سات سات)، پانچ خواتین اور ایک اقلیتی نشست مخصوص ہو گی۔ اسمبلی اپنے سربراہ کا انتخاب کرے گی، جسے وزیراعلیٰ یا میئر کہا جائے گا، اور چیف کمشنر کی جگہ چیف سیکرٹری آئے گا۔

14 اکتوبر 2026 — الیکشن کمیشن نے معاملے کو باضابطہ سماعت کے لیے مقرر کر دیا۔ سیکرٹری وزارت داخلہ اور چیف کمشنر اسلام آباد کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں کہ وہ 21 اکتوبر کو کمیشن کی معاونت کے لیے پیش ہوں۔ حتمی حلقہ بندی فہرستیں شائع کر دی گئی ہیں، اور کمیشن کا ارادہ ہے کہ سماعت کے بعد اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 کے تحت انتخابی شیڈول جاری کیا جائے۔ کمیشن کے اعلامیے کے الفاظ یہ ہیں: “الیکشن کمیشن نے 21 اکتوبر 2026 کو کمیشن کے سامنے باضابطہ سماعت کا فیصلہ کیا ہے، اور سیکرٹری وزارت داخلہ اور چیف کمشنر اسلام آباد کو کمیشن کی معاونت کے لیے نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔”

تجزیہ: اس ٹائم لائن میں اصل کہانی تاریخوں میں نہیں، وفاقی حکومت کی ترجیحات میں ہے۔ ایک آرڈیننس لایا گیا، قائمہ کمیٹی نے منظوری بھی دے دی، مگر قانون سازی کی میعاد نکل گئی — یہ محض انتظامی سستی نہیں، سیاسی بے توجہی کی علامت ہے۔ الیکشن کمیشن اب 2015 کے قانون کے تحت آگے بڑھنے کی دھمکی دے رہا ہے، جو دراصل وفاقی حکومت پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی ہے: یا تو قانون سازی مکمل کرو، یا پرانے قانون کے تحت شیڈول کا سامنا کرو۔

مگر ایک پیچیدگی بھی ہے۔ احسن اقبال کمیٹی کی تجویز اگر آگے بڑھی تو اسلام آباد کا پورا انتظامی ماڈل ہی بدل جائے گا — ایسے میں 2015 کے قانون کے تحت ہونے والے انتخابات کی حیثیت کیا ہو گی؟ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب 21 اکتوبر کی سماعت میں سامنے آئے گا۔ اور یہ بات بھی یاد رہے کہ وفاقی حکومت کے آئینی اختیارات کا مباحثہ انہی دنوں ایک اور محاذ پر بھی جاری ہے — آرٹیکل 232 اور 234 کی صورتحال نے اس ہفتے پہلے ہی آئینی بحث چھیڑ رکھی ہے۔ دارالحکومت کے ووٹروں کے لیے اگلا ہفتہ فیصلہ کن ہو گا: یا تو پانچ سالہ انتظار ختم ہو گا، یا ایک اور تاریخ ملتوی ہو جائے گی۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *