Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
پاکستان

قومی اسمبلی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی توثیق کر دی: قرارداد اکثریت سے منظور، اب سینیٹ کی باری

اسلام آباد میں پاکستان کا پارلیمان ہاؤس

اسلام آباد — خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے معاملے پر وفاقی حکومت کو آج ایک بڑی آئینی فتح حاصل ہو گئی۔ قومی اسمبلی نے بدھ کو صدر مملکت کے 11 اکتوبر کے اعلانِ ایمرجنسی کی توثیق کی قرارداد اکثریت سے منظور کر لی۔ اس طرح آرٹیکل 232 کے تحت دونوں ایوانوں کی منظوری کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا — اب نگاہیں سینیٹ کے اجلاس پر ہیں جہاں شام پانچ بجے سے اسی قرارداد پر بحث جاری ہے۔

ایوان میں ہنگامہ آرائی کے بجائے آج غیر معمولی سنجیدہ ماحول رہا۔ وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے ایمرجنسی کے اعلان سے متعلق تحریک پیش کی، جس سے پہلے سوالات کے وقفے کو اکثریتی ووٹ سے معطل کیا گیا — اپوزیشن نے اس کی مخالفت کی لیکن اکثریت نے تحریک پاس کرا دی۔ قانون کے وزیر اعظم نذیر تارڑ نے بحث کا آغاز کیا اور قرارداد کو ایوان کی منظوری کے لیے رکھا۔

قومی اسمبلی کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ کے مطابق قرارداد میں لکھا تھا: “قومی اسمبلی 11 اکتوبر 2026 کو صوبہ خیبر پختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 کی شق (1) کے دوسرے پروویزو کے تحت صدر مملکت کے جاری کردہ اعلانِ ایمرجنسی کی منظوری دیتی ہے۔” مزید تفصیل قومی اسمبلی کی سرکاری ویب سائٹ پر دیکھی جا سکتی ہے۔

سب سے تیز بات چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کی۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے موجودہ حالات کی ذمہ دار پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت خود ہے، اور ان کے بقول پی ٹی آئی نے اپنی ہی صوبائی حکومت پر “سیاسی خودکش حملہ” کیا ہے۔ بلاول نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا مؤقف تھا کہ اس “آئینی ایٹم بم” کو استعمال کرنے سے پہلے اپوزیشن سے مذاکرات کیے جائیں اور وفاق کے تحفظات دور کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکز نے ہر ممکن کوشش کی کہ یہ نوبت نہ آئے، لیکن پی ٹی آئی کی قیادت، خصوصاً صوبے میں، موجودہ سیاسی و آئینی حالات کی ذمہ دار ہے۔

اجلاس کے دوران ایک دلچسپ لمحہ بھی آیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اجلاس کے ایک حصے میں شریک ہوئے اور قومی اسمبلی کی جاری کردہ تصاویر میں انہیں قائدِ حزب اختلاف محمود خان اچکزئی سے مصافحہ کرتے دیکھا گیا — یہ اس ہفتے کی سخت سیاسی تقسیم کے پس منظر میں ایک غیر متوقع منظر تھا۔ ڈان کے مطابق اپوزیشن اراکین نے بھی آج پر سکون انداز میں شرکت کی اور ماضی کی طرح شور شرابا نہیں کیا۔

وفاقی وزرا نے ایمرجنسی کے فیصلے کا دفاع کیا اور پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں “ارادے کی کمی” کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ سے دانستہ کنارہ کشی اختیار کی تھی — یہی وہ نکتہ ہے جس کی بنیاد پر 11 اکتوبر کو صدر آصف علی زرداری نے کابینہ کی سفارش پر ایمرجنسی اور گورنر راج لگایا تھا۔

اب آگے کیا ہوگا؟

آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت چونکہ صدر نے اپنی صوابدید پر ایمرجنسی لگائی ہے، اس لیے اسے 10 روز کے اندر قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں سے منظور کرانا لازم ہے — یعنی آخری تاریخ 21 اکتوبر ہے۔ قومی اسمبلی کا مرحلہ آج مکمل ہو گیا۔ سینیٹ کا اجلاس شام پانچ بجے چیئرمین یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت شروع ہوا، جہاں طارق فضل چودھری نے قرارداد پیش کر دی ہے۔ جیو نیوز کے مطابق سینیٹ میں پی ٹی آئی احتجاج کر رہی ہے۔

دوسری طرف آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کے اعلان کی توثیق کے لیے جمعرات 15 اکتوبر کو صبح ساڑھے گیارہ بجے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ اگر مشترکہ اجلاس نے دو ماہ کے اندر توثیق نہ کی تو ایمرجنسی ختم ہو جائے گی، جبکہ گورنر راج کو دو دو ماہ کے وقفوں میں بڑھایا جا سکتا ہے — مگر مجموعی طور پر چھ ماہ سے زیادہ نہیں۔ آج کے اجلاسوں کا پیش منظر یہاں پڑھیں اور آرٹیکل 232 اور 234 کی وضاحت یہاں۔

یہ فیصلہ کیوں اہم ہے؟

خیبر پختونخوا کی تاریخ میں یہ پہلی بار نہیں کہ صوبہ وفاق کے براہِ راست انتظام میں آیا ہے — لیکن آج کی توثیق اس لیے فیصلہ کن ہے کہ یہ ایمرجنسی کو محض انتظامی حکم سے آئینی منظوری کی مضبوط بنیاد پر منتقل کرتی ہے۔ اگر سینیٹ نے بھی منظوری دے دی تو حکومت کے پاس دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے دو ماہ کا بلا روک ٹوک آئینی مارجن ہوگا، اور پی ٹی آئی کا واحد فوری راستہ پشاور ہائی کورٹ میں دائر درخواست ہوگی — جو پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے۔ دوسری طرف، اپوزیشن کے پر سکون رویے اور اچکزئی سے وزیراعظم کے مصافحے سے ایک اور اشارہ ملتا ہے: شاید بند دروازوں کے پیچھے بات چیت کا راستہ اب بھی کھلا ہے، اور یہی وہ نکتہ ہے جس پر بلاول نے بھی زور دیا۔ آئندہ 48 گھنٹے — سینیٹ کی ووٹنگ اور جمعرات کا مشترکہ اجلاس — اس بحران کا رخ طے کریں گے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *