جمعرات کے روز سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے مدینہ منورہ کے علاقے میں ایک کروز میزائل روک کر تباہ کر دیا۔ اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ میزائل کو روکا اور تباہ کر دیا گیا، تاہم ان کے بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ میزائل کس نے داغا تھا اور اس کا اصل ہدف کیا تھا۔
حوثیوں نے فوری ردعمل میں اس دعوے کو یکسر مسترد کر دیا۔ ان کے فوجی ترجمان یحییٰ ساری نے ایکس پر لکھا: “یمنی مسلح افواج تصدیق کرتی ہیں کہ آج سعودی علاقے پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔” انہوں نے سعودی دعوے کو “بے شرمانہ اور کھلا جھوٹ” قرار دیا۔ واضح رہے کہ حوثیوں نے اس سے قبل اتوار کے روز وعدہ کیا تھا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب پر حوثی حملوں کا سلسلہ مسلسل تیز ہو رہا ہے۔ اسی جمعرات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک مشترکہ بیان میں حوثیوں کے “بڑھتے ہوئے” حملوں کی سخت مذمت کی، جن میں ریاض کے ہوائی اڈے پر “بے احتیاط حملے” بھی شامل ہیں۔ کونسل کے صدر، یونان کے ایوینجیلوس سیکیریس کی جانب سے جاری اس بیان میں سعودی عرب کے اپنے دفاع کے بنیادی حق کی بھی تائید کی گئی اور بحیرہ احمر و باب المندب میں تجارتی جہازوں کو لاحق خطرات کی مذمت کی گئی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یکم اکتوبر کے بعد سے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو 20 مرتبہ نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ گذشتہ ہفتے کے آخر میں ایک حملے میں 13 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
اسی روز ایک اور اہم پیش رفت میں یورپی یونین اور خلیج تعاون کونسل کے درمیان 24 اکتوبر کو ریاض میں طے شدہ دوسرا سربراہی اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ فیصلہ حوثی خطرات کے پیش نظر کیا گیا، جبکہ خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے کنگ خالد ایئرپورٹ پر آپریشن کی مسلسل معطلی کا حوالہ بھی دیا۔
دوسری جانب یمن کے اندر بھی کشیدگی بڑھی ہے۔ حوثیوں نے عدن میں یمنی حکومت کے صدارتی محل پر میزائل حملہ کیا، جس میں یمنی وزیر صحت قاسم بوحیبہ کے مطابق پانچ افراد ہلاک اور سولہ زخمی ہوئے۔
مزید پڑھیے:
- محمد بن سلمان کی سیکیورٹی سخت ہونے کی رپورٹ
- ریاض ایئرپورٹ پر حوثی حملوں کی تفصیل
- آرامکو کے ہیڈکوارٹر پر میزائل حملہ
یہ کیوں اہم ہے
مدینہ منورہ کا نام اس تنازع کو ایک نئی اور خطرناک سطح پر لے جاتا ہے۔ حوثیوں کا مقدس شہروں کو بچانے کا وعدہ اس جنگ کی واحد “سرخ لکیر” تھی جسے دونوں فریق تسلیم کرتے تھے۔ اب ایک فریق کہہ رہا ہے کہ اسی علاقے میں میزائل روکا گیا، دوسرا اسے کھلا جھوٹ کہہ رہا ہے — سچ جو بھی ہو، یہ دعویٰ اور تردید بتاتی ہے کہ اعتماد کا آخری پل بھی ٹوٹنے کے قریب ہے۔
پاکستان کے لیے یہ خبر دوہری اہمیت رکھتی ہے۔ لاکھوں پاکستانی ہر سال عمرے اور حج کے لیے سعودی عرب جاتے ہیں، اور مدینہ منورہ ہر پاکستانی مسلمان کے دل میں خاص مقام رکھتا ہے۔ دوسری طرف سلامتی کونسل کا متفقہ بیان اور یورپی یونین کے اجلاس کا ملتوی ہونا بتا رہا ہے کہ عالمی برادری اب اس کشیدگی کو محض علاقائی جھگڑا نہیں سمجھ رہی — اور جب تیل کی سپلائی اور فضائی راستے متاثر ہوتے ہیں تو اس کی قیمت پاکستان جیسے ممالک کو بھی چکانی پڑتی ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)