ریاض: سعودی عرب کے محکمہ شہری ہوا بازی (جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن) نے جمعے، نو اکتوبر کو تصدیق کی ہے کہ جمعرات، آٹھ اکتوبر کو ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ایئرپورٹ پر یمن کے حوثی باغیوں کے دو الگ الگ میزائل حملوں میں تین سعودی شہری ہلاک اور مختلف قومیتوں کے متعدد افراد زخمی ہوئے۔ یہ سعودی عرب کے خلاف شروع ہونے والی حالیہ جارحیت کا اب تک کا سب سے ہلاکت خیز واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
سعودی ہوا بازی کے ادارے کے مطابق پہلا حملہ ایئرپورٹ کی عمارتوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا، جبکہ دوسرے حملے میں ایئرپورٹ پر کھڑے سعودی عرب کی قومی فضائی کمپنی “سعودیہ” کے ایک طیارے کو نقصان پہنچا۔ حملے کے وقت طیارے میں کوئی مسافر سوار نہیں تھا۔ سعودیہ ائیرلائنز نے باضابطہ بیان میں اپنے پائلٹ کیپٹن حمود علی القلتھامی کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ یہ نیا حملہ کے آغاز کے بعد سعودی قومی فضائی کمپنی کے کسی اہلکار کی پہلی تصدیق شدہ موت ہے۔
حوثیوں کی طرف سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے ریاض کے ایئرپورٹ پر دو کروز میزائل داغے۔ ان کے ترجمان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ حملوں میں جنوبی سرحد کے قریب نجران ایئرپورٹ اور خمیس مشیط میں سعودی فضائیہ کے کنگ خالد ایئربیس کو بھی نشانہ بنایا گیا، تاہم سعودی حکام نے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی ہے۔
سعودی حکام کے مطابق جمعرات کو ہی ریاض کی طرف داغے گئے دو بیلیسٹک میزائلوں کو فضا میں روک کر تباہ کر دیا گیا، مگر ان کا ملبہ شہر کے ایک کنڈرگارٹن اور ایک طبی مرکز پر گرا اور عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ متعدد ائیرلائنز نے ریاض کے لیے پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار کر دیں، سفارت کاروں کو اپنے مقامات پر ہی رہنے کی ہدایت دی گئی، اور بین الاقوامی اسکولوں نے حفاظتی اقدامات اختیار کیے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ پر فضائی آپریشن بحال کر دیا گیا ہے اور پروازیں بتدریج معمول پر آ رہی ہیں۔
سعودی حکام نے اس سے ایک روز قبل، بدھ کو یہ بھی بتایا تھا کہ اسی ہفتے کے اوائل میں ریاض اور ابھا ایئرپورٹس پر ہونے والے حملوں میں مزید تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔ رائٹرز کے مطابق جمعرات کے حملے سعودی عرب کے لیے اس ہفتے کے آخر میں حوثیوں کے خلاف شروع کی گئی بڑی فوجی کارروائی کے بعد کا سب سے خطرناک واقعہ ہیں۔
اتحادی فوج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے سخت ردعمل کا اعلان کرتے ہوئے کہا: «بے گناہ شہریوں اور شہری تنصیبات پر دہشت گرد حوثی ملیشیا کے وحشیانہ حملے بے سزا نہیں رہیں گے»۔ ان کا کہنا تھا کہ اتحادی افواج نے یمن بھر میں حوثیوں کے درجنوں فوجی اہداف تباہ کیے ہیں، جن میں تین میزائل لانچنگ پلیٹ فارم بھی شامل ہیں۔ حوثی میڈیا کے مطابق سعودی طیاروں نے رات کے وقت یمن کے دارالحکومت صنعا میں حوثی اہداف پر بھی بمباری کی۔
یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب چند روز بعد ریاض میں عالمی تیل کمپنیوں کے سربراہوں کا اہم اجلاس ہونے والا ہے۔ اجنسی فرانس پریس سے گفتگو میں ایک علاقائی ذریعے کا کہنا تھا کہ ریاض حوثیوں کے “فوجی بلیک میل” کے آگے نہیں جھکے گا اور اس وقت تک جنگ بندی پر آمادہ نہیں ہوگا جب تک یمنی حکومت حالیہ ہفتوں میں کھویا ہوا تمام علاقہ واپس نہیں لے لیتی۔
یہ خبر کیوں اہم ہے
سعودی عرب وہ ملک ہے جہاں لاکھوں پاکستانی روزگار کے لیے مقیم ہیں، اور ریاض کا ایئرپورٹ پاکستان سے آنے جانے والے مسافروں کے لیے سب سے اہم راستہ ہے۔ اسی ہفتے پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز کو ریاض کی پروازیں معطل کرنی پڑیں، جس سے ہزاروں پاکستانی مسافر متاثر ہوئے۔ اب جب سعودی عرب کی قومی فضائی کمپنی کے طیارے اور اس کے پائلٹ کو نشانہ بنایا گیا ہے، تو یہ صرف ایک عسکری واقعہ نہیں رہا — یہ ایک ایسی نفسیاتی حد عبور کرتا ہے جو خطے میں ہر پاکستانی خاندان کو براہ راست متاثر کرتی ہے۔
دوسرا پہلو تیل اور پٹرول کی قیمتوں کا ہے۔ سعودی عرب دنیا کا سب سے بڑا خام تیل برآمد کرنے والا ملک ہے، اور اس کے ایئرپورٹس اور تنصیبات پر حملے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو بڑھاتے ہیں — جس کا اثر سیدھا پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں پر پڑتا ہے، جو پہلے ہی چار سو روپے فی لیٹر کے قریب پہنچ چکی ہیں۔
تیسرا پہلو پاکستان کے لیے دفاعی ہے۔ اگست میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدہ طے پایا تھا، اور گزشتہ ہفتے تینوں ممالک کے نمائندوں کا ہنگامی اجلاس ریاض میں ہوا۔ سعودی عرب پر بڑھتے ہوئے حملے اس معاہدے کو عملی امتحان میں ڈال رہے ہیں، اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے یہ ایک نازک موڑ ہے جس پر اسلام آباد کی ہر نظر ٹکی ہوئی ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)