Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے حوثی حملوں کی سخت مذمت کر دی — سعودی عرب کے دفاع کے حق کی توثیق

نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ہال

نیویارک — اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کر دی ہے۔ جمعرات کو جاری مشترکہ بیان میں کونسل کے پندرہ ارکان نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے “لاپرواہ حملوں” کی مذمت کی اور سعودی عرب کے بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے دفاع کے حق کی توثیق کی۔ یہ اس جارحانہ دور کا پہلا موقع ہے جب سلامتی کونسل نے بطور ادارہ اس بڑھتی کشیدگی پر موقف اختیار کیا ہے۔

مشترکہ بیان سلامتی کونسل کے صدر، یونان کے ایوینجلوس سیکیریس کی طرف سے جاری کیا گیا۔ اس میں بحیرہ احمر اور باب المندب میں تجارتی جہازوں پر حوثیوں کے مسلسل حملوں اور دھمکیوں کی بھی مذمت کی گئی، اور تجارتی جہازوں اور ملاحوں کی سلامتی، بین الاقوامی قانون — خصوصاً اقوام متحدہ کے سمندری قانون کے کنونشن — اور آزادی نقل و حمل کے احترام پر زور دیا گیا۔

بیان کا وقت اہم ہے: سعودی زیرِ قیادت اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے اسی دن ریاض میں پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ اکتوبر کے آغاز سے اب تک حوثیوں نے ریاض کے ایئرپورٹ کو تقریباً 20 بار نشانہ بنایا ہے، اور دو ہفتوں میں 17 افراد ہلاک اور 330 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ سعودی حکام کی جانب سے دکھائی گئی نگرانی کی فوٹیج میں 7 اکتوبر کو ابھا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ بھی دکھایا گیا، جس میں 2 افراد ہلاک اور 28 زخمی ہوئے تھے۔

المالکی نے حوثیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ “شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے اپنے دہشت گردانہ اقدام” فوری طور پر روک دیں۔ ان کے مطابق اتحاد نے صنعاء کے گرد پہاڑی علاقوں میں میزائل ذخائر سمیت حوثی اہداف پر بار بار حملے کیے ہیں۔

دوسری طرف حوثیوں نے جمعرات کو ایک بار پھر خبردار کیا کہ سعودی فضائی حدود اور ایئرپورٹس غیر محفوظ ہیں، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو انہوں نے اس سے مستثنیٰ قرار دیا۔ حوثی ترجمان یحییٰ سریع کا دعویٰ ہے کہ سعودی عرب نے بارہ سالوں میں یمن پر دو لاکھ 74 ہزار سے زائد فضائی حملے کیے، اور ان کی کارروائیاں “دفاعی” نوعیت کی ہیں جو سعودی “جارحیت اور ناکہ بندی” رکنے تک جاری رہیں گی۔

اسی دن یمن کے تسلیم شدہ حکومت کے عبوری دارالحکومت عدن میں حوثیوں کے میزائل حملے نے صورتحال کی سنگینی اور بڑھا دی — عدن کے صدارتی محل پر حملے میں پانچ افراد ہلاک اور 16 زخمی ہوئے۔ یہ جولائی میں جنگ بندی کے خاتمے کے بعد اس کمپلیکس پر پہلا براہِ راست حملہ تھا۔ اسی روز اتحاد کے مدینہ منورہ کے علاقے میں کروز میزائل روکنے کا دعویٰ بھی سامنے آیا، جس کی حوثیوں نے تردید کی۔

اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام (WFP) نے بھی جمعرات کو خبردار کیا کہ بڑھتی لڑائی کے باعث یمن میں 8 لاکھ افراد امداد سے محروم ہو گئے ہیں، اور 2027 تک ہنگامی خوراک کی امداد کے لیے 26 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی ضرورت ہے۔

یہ کیوں اہم ہے: سعودی عرب پاکستان کا قریب ترین خلیجی اتحادی ہے، اور وہاں لاکھوں پاکستانی کام کرتے ہیں۔ سلامتی کونسل کا بیان صرف مذمت نہیں — “دفاع کے حق” کی توثیق ریاض کو مزید جوابی کارروائی کی سفارتی چھتری دیتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ لڑائی اب صرف میزائلوں اور ڈرونز کی نہیں، سلامتی کونسل کی میز کی بھی ہو گئی ہے۔ اور ہر بڑا حملہ تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھاتا ہے — پاکستان میں پٹرول کی قیمت پہلے ہی فی لیٹر تقریباً 399 روپے ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *