Tuesday, 27 October 2026
بریکنگ نیوز
کاروبار

اسٹیٹ بینک نے شرح سود 12 فیصد کر دی: قرض مہنگا ہو گا، مہنگائی قابو کرنے کی کوشش

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی عمارت

کراچی — اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پالیسی ریٹ میں 50 بیسز پوائنٹس کا اضافہ کرتے ہوئے اسے 12 فیصد کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ پیر 26 اکتوبر کو مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا اور نئی شرح منگل 27 اکتوبر سے نافذ ہے۔ کمیٹی کے 10 میں سے 9 ارکان نے اضافے کے حق میں ووٹ دیا۔ اس سے قبل شرح 11.5 فیصد تھی، اور جون کے بعد سے اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی۔

اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے کراچی میں پریس کانفرنس میں بتایا کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع میں شدت اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی کے امکانات کو خراب کر دیا ہے۔ ان کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار ہیں، اور گندم کی رسد میں رکاوٹیں بھی مہنگائی بڑھا رہی ہیں۔ ستمبر میں مجموعی مہنگائی 10.3 فیصد سالانہ رہی، جو کمیٹی کی توقع سے زیادہ تھی، جب کہ بنیادی مہنگائی تقریباً 8.4 فیصد پر برقرار ہے۔

کمیٹی کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مہنگائی کی توقعات کو قابو میں رکھنے، رسد کے جھٹکے کے اثرات کو پوری معیشت میں پھیلنے سے روکنے اور مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کے ہدف کی حد میں واپس لانے کے لیے ضروری تھا۔ اس کے ساتھ ہی کمیٹی نے واضح کیا کہ معاشی نمو اور بیرونی کھاتوں کا منظرنامہ مجموعی طور پر بدلا نہیں ہے، مگر خطرات بڑھ گئے ہیں۔

اعداد و شمار کی زبان میں معیشت کی تصویر ملی جلی ہے۔ رواں مالی سال میں نمو 3.5 سے 4.5 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، برآمدات 32.5 ارب ڈالر اور درآمدات 71 ارب ڈالر تک پہنچنے کا اندازہ ہے، جب کہ ترسیلات زر 45 ارب ڈالر تک متوقع ہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 21.5 ارب ڈالر پر مستحکم ہیں، جو تین ماہ کی درآمدات کے برابر ہیں۔ ایف بی آر نے مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ٹیکس وصولی میں 7 فیصد سالانہ اضافہ کیا اور ہدف سے 33 ارب روپے زیادہ جمع کیے۔

عام آدمی کے لیے اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ بینکوں سے قرض لینا مہنگا ہو جائے گا — چاہے وہ کاروباری قرض ہو یا گھر اور گاڑی کی قسط۔ اس کا مقصد خرچ کم کر کے مہنگائی کا دباؤ گھٹانا ہے، مگر اس کی قیمت معاشی سرگرمی کی سست روی کی صورت میں بھی ادا ہو سکتی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے سامنے یہی توازن سب سے مشکل ہے: مہنگائی قابو کرے تو نمو دبتی ہے، نمو بچائے تو قیمتیں بے قابو ہوتی ہیں۔

آنے والے مہینوں میں اس فیصلے کا اصل امتحان یہ ہو گا کہ آیا توانائی اور گندم کی قیمتیں مستحکم ہوتی ہیں یا مشرق وسطیٰ کی کشیدگی ان میں مزید اضافہ کرتی ہے۔ اگر بیرونی دباؤ برقرار رہا تو شرح سود میں مزید اضافے کا امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: آئی ایم ایف مذاکرات اختتامی مرحلے میں: پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی امید — مگر اصل امتحان ابھی باقی ہے اور آئی ایم ایف کا اعلان: پاکستان کے لیے 1.21 ارب ڈالر کی قسط کی راہ ہموار — اب بورڈ کی منظوری درکار

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *