Thursday, 22 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

ایران کا سات جہازوں پر حملہ، امریکی اڈوں کے خلاف “وسیع جواب” کی دھمکی — ٹرمپ: “جلد کچھ ہوگا”

بندرعباس میں آئی آر جی سی نیوی کا شاہد سلیمانی جنگی جہاز (فائل تصویر)

تہران / دبئی: ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی نیوی نے جمعرات کے روز اعلان کیا کہ اس نے بدھ کو خلیج کے شمالی حصے میں تیل کی “غیر قانونی” منتقلی میں ملوث چار جہازوں کو بیک وقت نشانہ بنایا، جس کے بعد ان میں آگ بھڑک اٹھی — جبکہ آبنائے ہرمز کے مغرب میں تین مزید جہاز بحری کانوں سے ٹکرا گئے۔ اسی بیان میں امریکی فوج کو صاف لفظوں میں خبردار کیا گیا کہ اگر “اشتعال انگیزیاں” جاری رہیں تو خطے میں موجود امریکی اڈوں کے خلاف “وسیع جواب” دیا جا سکتا ہے۔

آئی آر جی سی نیوی کے بیان کے مطابق ایرانی فورسز نے ان چاروں جہازوں کو پہلے بدھ کے دن ٹریک کیا اور پھر ایک ہی وقت میں حملہ کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ چاروں جہازوں میں حملے کے بعد آگ لگ گئی۔ تاہم جہازوں کے نام، نقصان کی مقدار یا کسی جانی نقصان کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی — یہی طرز عمل ایران کے ماضی کے ایسے بیانات میں بھی دیکھا گیا ہے۔

الگ پیش رفت میں آئی آر جی سی نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کے مغرب میں مزید تین جہاز بحری کانوں سے ٹکرائے۔ ان جہازوں کی شناخت، واقعے کے حالات یا کسی کے زخمی ہونے کے بارے میں بھی بیان خاموش ہے۔ یہ دعویٰ اسی ہفتے کے تیسرے اور چوتھے ایسے واقعے کی نشاندہی کرتا ہے: منگل کو ایران نے دو جہازوں کے کانوں سے ٹکرانے کا اعلان کیا تھا، اور بدھ کو ایک تیسرے ٹینکر کی خبر سامنے آئی تھی۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی شب جنوبی کیرولینا میں ایک ریلی سے واپسی پر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ امریکہ اس وقت ایران کے ساتھ مذاکرات نہیں کر رہا۔ ان کے الفاظ تھے: “نہیں، میرے خیال میں ہم مذاکرات نہیں کر رہے۔ جلد ہی کسی نہ کسی سمت میں کچھ ہوگا۔” ٹرمپ نے مزید کہا کہ “زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ یہ انتخابات کے بعد ہوگا۔”

ریلی میں اپنے خطاب کے دوران ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ ابھی ایران کے ساتھ جنگ ختم کر سکتا ہے، مگر وہ اس کا “پائیدار” حل چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ایران کو فوجی اور مالی طور پر شکست دے دی ہے اور تہران “کبھی جوہری ہتھیار نہیں رکھے گا۔”

ان بیانات کے ساتھ ہی نیویارک ٹائمز نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکی اور اسرائیلی فوجوں نے نومبر میں امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر نئے حملوں کے منصوبے تیار کر لیے ہیں۔ اخبار کے مطابق یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ ان حملوں کی منظوری دیں گے یا نہیں — اس سال وہ کئی بار ایران پر بڑے حملوں کے منصوبے مسترد کر چکے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں کشیدگی روز بروز بڑھ رہی ہے۔ بدھ ہی کو امریکہ نے سعودی عرب سے اپنے غیر ضروری سفارتی عملے اور ان کے اہل خانہ کی واپسی کا حکم دیا تھا، اور اسی شام دمام کے کنگ فہد ایئرپورٹ پر حملے میں ایک شخص ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے تھے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے بعد یہ ہفتہ اب تک کا سب سے تیز رفتار ہفتہ ثابت ہو رہا ہے۔

یہ خبر کیوں اہم ہے: ایران کا یہ بیان محض ایک اور دعویٰ نہیں — یہ پہلی بار ہے کہ آئی آر جی سی نے براہ راست امریکی اڈوں کے خلاف “وسیع جواب” کی دھمکی دی ہے۔ اس سے پہلے ایران کے بیانات تیل بردار جہازوں اور “غیر قانونی راستوں” تک محدود تھے۔ امریکی اڈوں کا ذکر جنگ کے دائرے کو خلیج کے سمندری راستوں سے بڑھا کر پورے خطے تک پھیلا دیتا ہے۔ اور جب ٹرمپ خود کہہ رہے ہوں کہ “جلد ہی کچھ ہوگا” اور اخبارات انتخابات کے بعد کے حملوں کے منصوبوں کی خبریں دے رہے ہوں، تو تہران کی یہ وارننگ محض لفاظی نہیں لگتی۔

پاکستان کے لیے اس کشیدگی کے دو براہ راست مطلب ہیں: پہلا، تیل کی قیمتوں کا دباؤ — برینٹ کروڈ پہلے ہی 110 ڈالر فی بیرل سے اوپر ہے اور پاکستان میں پٹرول کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر نظرثانی کے نظام سے جڑی ہیں۔ دوسرا، خلیج میں مقیم لاکھوں پاکستانی اور سعودی عرب میں تعینات پاکستانی دستے — کسی بھی وسیع تصادم کی صورت میں یہ دونوں براہ راست متاثر ہوں گے۔

نوٹ: اس خبر میں آئی آر جی سی کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔ جہازوں کی شناخت اور نقصان کی تفصیلات ایران نے جاری نہیں کیں۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *