پیر کے روز ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے یمن کے جنوبی صوبے شبوہ میں حکومتی فورسز کے ایک فوجی کیمپ پر تین بیلسٹک میزائل داغے، جس میں 30 سے زائد افراد ہلاک اور کم از کم 70 زخمی ہو گئے۔ حملہ صبح کے وقت اس وقت ہوا جب کیمپ میں نئے بھرتی شدہ فوجیوں کی تربیت جاری تھی۔
حملے کا نشانہ العلم کیمپ بنا، جو صوبائی دارالحکومت عتق کے شمال میں جرڈان ضلع میں واقع ہے۔ یمنی مسلح افواج کے ترجمان کرنل ماجد النزیلی نے تصدیق کی کہ حوثیوں نے سیکیورٹی اور پولیس اہلکاروں کے ٹریننگ سینٹر پر تین بیلسٹک میزائل داغے، تاہم انہوں نے ہلاکتوں کے اعداد و شمار پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
دو فوجی ذرائع نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ 30 سے زائد افراد مارے گئے اور 70 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ ایسوسی ایٹڈ پریس نے دو یمنی فوجی افسران کے حوالے سے کم از کم 20 فوجیوں کی ہلاکت اور دو درجن سے زائد کے زخمی ہونے کی خبر دی ہے۔ پاکستانی میڈیا میں بھی اس حملے میں تقریباً 40 ہلاکتیں اور زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
العلم کیمپ پہلے متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ ملیشیا کے زیر استعمال تھا۔ یہ اس راستے پر واقع ہے جو حکومتی کنٹرول والے صوبے مأرب کی طرف جاتا ہے، اور حکومتی فورسز کی اہم سپلائی لائنوں کے لیے مرکزی اہمیت رکھتا ہے۔ نشانہ بننے والوں میں “ریپڈ انٹروینشن” نامی نئی فورس کے جوان بھی شامل تھے، جنہیں اس علاقے کے دفاع کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
شبوہ میں تعینات ایک حکومتی فوجی ذریعے نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ حملے ممکنہ طور پر ایک زمینی کارروائی کا پیش خیمہ ہو سکتے ہیں، “جیسا کہ موخہ میں ہوا تھا” — جہاں حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساحل پر ایک اسٹریٹجک بندرگاہ پر قبضہ کر لیا تھا۔ ذریعے کے مطابق حوثیوں نے اتوار کو حکومتی کنٹرول والے شبوہ کو حوثی کنٹرول والے صوبے البیضاء سے جوڑنے والی سڑک بھی کاٹ دی تھی۔
اے پی کے مطابق یہ حالیہ لڑائی کی لہر کے سب سے مہلک حملوں میں سے ایک ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے پس منظر میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومت کی فورسز کے درمیان کشیدگی کئی ماہ سے بڑھ رہی ہے، اور 2022ء کی جنگ بندی، جو بڑی حد تک جاری تھی، اس سال مکمل طور پر ٹوٹ چکی ہے۔
صرف ایک روز قبل اتوار کو حوثی کنٹرول والے صوبے صعدہ میں ایک فضائی حملے میں کم از کم 9 افراد — جن میں پانچ بچے اور دو خواتین شامل تھیں — ہلاک ہوئے تھے۔ حوثیوں کی وزارت صحت کے مطابق 19 زخمیوں میں 11 بچے شامل تھے، اور حوثیوں نے حملے کا ذمہ دار سعودی عرب کو ٹھہرایا، تاہم سعودی عرب کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں آیا۔
دوسری جانب راولپنڈی میں انٹرسروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے انڈیپینڈنٹ عربیہ کو انٹرویو میں کہا ہے کہ اگر یمن کی تسلیم شدہ حکومت کی جانب سے براہِ راست فوجی مدد کی کوئی باقاعدہ درخواست موصول ہوتی ہے تو پاکستان اس کا جائزہ لے سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا: “مجھے نہیں لگتا کہ میرے علم میں کوئی رسمی درخواست آئی ہو۔ اگر کوئی درخواست آتی ہے تو یہ حکومت پاکستان کا کام ہے کہ وہ اس کا جائزہ لے اور جواب دے۔” ڈی جی آئی ایس پی آر نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے اور فوجی تصادم کی صورت پیدا ہوئی تو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی اجتماعی روک تھام حرکت میں آ جائے گی، اور سعودی عرب کی خودمختاری اور ارضی سالمیت پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔
تجزیہ: حوثیوں نے گزشتہ دو ہفتوں میں سعودی عرب کے خلاف حملوں میں تیزی دکھائی ہے — ریاض کے کنگ خالد ایئرپورٹ، ینبع اور دمام کے حملے اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں — لیکن اب وہ یمن کے اندر بھی براہِ راست زمینی جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ایک تربیتی تنصیب کو نشانہ بنانا دوہرا پیغام ہے: حکومتی فورسز کو بھی کمزور کیا جا رہا ہے، اور باب المندب کے اسٹریٹجک سمندری راستے پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ پاکستان کے لیے اس کی دوہری اہمیت ہے — خلیج میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کی سلامتی، اور خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جو پندرہ روزہ پٹرول کی قیمتوں پر براہِ راست اثر ڈالتا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا بیان اسی پس منظر میں پڑھا جانا چاہیے: پاکستان جنگ چاہتا نہیں، لیکن دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)