پاکستان آج بدھ 21 اکتوبر کو ایک ایسے دفاعی معاہدے کا دستخط کرنے جا رہا ہے جو خطے کے دفاعی نقشے پر ترکیہ کی بڑھتی ہوئی صنعتی قیادت کی ایک اور نشانی ہے۔ دوحہ میں پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کے درمیان دفاعی صنعت کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط متوقع ہیں۔ پاکستان کی نمائندگی وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کریں گے، جو اس وقت قطر میں گلوبل سیکیورٹی فورم میں شرکت کے لیے موجود ہیں، جب کہ ترکیہ کے وزیرِ دفاع یشار گولر تقریبِ دستخط کے لیے خصوصی طور پر دوحہ جائیں گے۔
اس معاہدے کا اعلان ترکیہ کے دفاعی صنعتی ادارے (ایس ایس بی) نے منگل کو کیا۔ ادارے کے بیان کے مطابق یہ ایم او یو مشترکہ تحقیق و ترقی کے منصوبوں، مخصوص پرزوں کی مشترکہ پیداوار، ٹیکنالوجی اور فنی مہارت کی منتقلی، تکنیکی عملے کی تربیت، انجینئرنگ کے تجربے کے تبادلے، مصنوعات کو فریقوں کی ضروریات کے مطابق ڈھالنے اور بین الاقوامی سطح پر ان کی مارکیٹنگ جیسے شعبوں کا احاطہ کرے گا۔ البتہ معاہدے کی مکمل شرائط، مخصوص منصوبوں اور مالی حجم کا اعلان ابھی نہیں کیا گیا۔
معاہدے کی بنیاد پہلے سے رکھی گئی تھی
یہ چار ملکی انتظام کوئی اچانک قدم نہیں۔ انقرہ پہلے ہی ان تینوں ملکوں کے ساتھ بڑے دفاعی منصوبوں پر کام کر رہا ہے — پاکستان کے لیے کارویٹ (ملجم/بابر کلاس) جنگی جہاز اور انڈونیشیا کے لیے ٹینکوں کے منصوبے اس کی مثالیں ہیں۔ ترکیہ اور قطر نے اکتوبر 2025 میں بھی دفاعی صنعت میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ ایس ایس بی کے بیان میں کہا گیا کہ یہ معاہدہ “دفاعی صنعت میں ترکیہ کی تیار کردہ کثیرالجہتی تعاون کی ٹھوس مثالوں میں سے ایک ہے” — یعنی انقرہ اب صرف ہتھیار بیچنے سے آگے بڑھ کر مشترکہ پیداوار اور سپلائی چین کے انضمام کی طرف جا رہا ہے۔
قطر کے وزیرِ مملکت برائے امورِ دفاع شیخ سعود بن عبدالرحمٰن الثانی نے پیر کو گلوبل سیکیورٹی فورم میں کہا کہ قطر جلد مقامی دفاعی پیداوار کے ایک مرکز کے قیام کا اعلان کرے گا۔ ان کے مطابق قطر ایک علاقائی شراکت دار کے ساتھ ساتھ امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے ساتھ مل کر مقامی دفاعی صلاحیتوں کی ترقی پر کام کر رہا ہے، اور بیلسٹک میزائلوں، ڈرونز اور سائبر حملوں سے نمٹنے کے لیے نئی شراکت داریوں کا اعلان بھی متوقع ہے — تاہم اس کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔
جنگ کے سائے میں دستخط
یہ دستخط ایسے وقت ہو رہے ہیں جب امریکہ-ایران جنگ خلیج کی معیشت اور تجارت کو براہِ راست متاثر کر رہی ہے۔ قطر نے جنگ کے آغاز کے بعد راس لفان میں اپنا بڑا ایل این جی کمپلیکس جزوی طور پر بند کر دیا تھا، اور آبنائے ہرمز میں تیل بردار ٹینکرز پر حملے عالمی تجارت کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ اسی پس منظر میں محسن نقوی کی اپنے قطری ہم منصب شیخ خلیفہ بن حمد بن خلیفہ الثانی — جو قطر کی داخلی سیکیورٹی فورس لخویہ کے سربراہ بھی ہیں — سے ملاقات ہوئی، جس میں علاقائی امن اور داخلی سیکیورٹی میں تعاون بڑھانے پر بات ہوئی۔
یہ معاہدہ پاکستان کے لیے کیوں اہم ہے؟
یہ محض ایک اور دستاویز نہیں۔ ترکیہ کی دفاعی برآمدات 2012 سے ستمبر 2026 تک تقریباً 54 ارب ڈالر رہیں، اور ان میں سے 30 ارب ڈالر سے زیادہ صرف آخری چار برسوں میں برآمد ہوئے — یعنی انقرہ کی دفاعی صنعت تیزی سے پھیل رہی ہے، اور اس کی حکمت عملی اب “پلیٹ فارم بیچنے” سے “مشترکہ پیداوار” کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔ پاکستان کے لیے اس کا مطلب ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی پیداوار میں شریک ہونا ہے، جو طویل عرصے میں درآمدی انحصار کم کرنے کی طرف ایک قدم ہے۔
اس معاہدے کو سعودی عرب کے دفاع کے لیے برطانوی ٹائیفون طیاروں کی حالیہ تعیناتی اور امریکہ-ایران کشیدگی میں پاکستان کی ثالثی کے تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے: پاکستان نہ صرف سفارتی بلکہ دفاعی-صنعتی سطح پر بھی مشرقِ وسطیٰ میں ایک فعال فریق کے طور پر ابھر رہا ہے۔
اگلا سوال اب یہ ہے کہ ایم او یو کی دستاویز کے بعد اصل منصوبے کیا ہوں گے۔ کون سے ہتھیار یا نظام مشترکہ طور پر تیار ہوں گے، اور قطر کا پیداواری مرکز کس کی ٹیکنالوجی سے چلے گا؟ ایم او یوز کی قدر انہی جوابوں سے طے ہوتی ہے — دستخط تو بس آغاز ہیں۔

قارئین کے تبصرے (0)