اسلام آباد (خصوصی رپورٹ): پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل خدمات کی برآمدات میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 35 فیصد غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق فری لانسرز، سافٹ ویئر ہاؤسز اور مقامی ٹیک اسٹارٹ اپس نے مشترکہ طور پر عالمی منڈی میں اپنی پوزیشن مستحکم کی ہے۔ اس اضافے میں کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت کے حل اور فائنٹیک سروسز کا سب سے بڑا حصہ رہا۔
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے آئی ٹی انڈسٹری کو ٹیکس چھوٹ اور ہموار انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کی فراہمی جاری رکھی تو آئندہ تین برسوں میں آئی ٹی برآمدات کا حجم 10 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک بھر کے کالجز اور یونیورسٹیوں میں 2 لاکھ سے زائد نوجوانوں کو کلاؤڈ اور کوڈنگ کی مفت تربیت فراہم کر رہی ہے تاکہ پاکستان کو خطے کا آئی ٹی حب بنایا جا سکے۔
اس موقع پر مختلف ٹیک کمپنیوں کے سربراہان نے حکومت کے اصلاحاتی اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں آسانی سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔
اہم نکات
- آئی ٹی اور ڈیجیٹل سروسز برآمدات میں 35 فیصد سالانہ اضافہ
- فری لانسرز اور فائنٹیک سیکٹر کی ریکارڈ کارکردگی
- آئندہ تین برسوں میں 10 ارب ڈالر کا ہدف مقرر
- نوجوانوں کے لیے جدید تربیتی پروگرام کا آغاز
