کسی بھی قوم کی حقیقی ترقی کا پیمانہ اس کی سڑکیں یا عمارتیں نہیں بلکہ اس کے تعلیمی اداروں میں پروان چڑھنے والی فکری بالیدگی اور اخلاقی اقدار ہوتی ہیں۔
آج ہماری جامعات کو ایسے گریجویٹس پیدا کرنے کی ضرورت ہے جو نہ صرف جدید ترین ٹیکنالوجی کے شناسا ہوں بلکہ انسانی ہمدردی، سچائی اور سماجی انصاف کے پرچم بردار بھی ہوں۔
استاد کا کردار محض نصاب ختم کرانے والے کا نہیں بلکہ چراغ سے چراغ جلانے والے مشعل بردار کا ہے۔ جب تک ہم استاد کے احترام اور تحقیقی کلچر کو واپس نہیں لائیں گے، ترقی کا سفر ادھورا رہے گا۔
