Monday, 21 September 2026
صحت

بڑی عمر میں الرجی کیسے پیدا ہو جاتی ہے؟ کووڈ، اینٹی بائیوٹکس، ہارمونز اور ٹک کا کردار

مدافعتی نظام کا خلیہ اور الرجی کے محرکات: وائرس، پولن، ٹک، دوا اور آنتوں کے بیکٹیریا

عام طور پر لوگ الرجی کو بچپن کی بیماری سمجھتے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اگر بچپن میں الرجی نہیں ہوئی تو پھر عمر بھر نہیں ہوگی۔ لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ یہ تصور غلط ہے، اور بڑی عمر میں الرجی پیدا ہونا کوئی انوکھی بات نہیں۔ الرجی ماہر ڈاکٹر کیلی کولس کا کہنا ہے کہ:

“کوئی بھی شخص اپنی زندگی کے کسی بھی مرحلے پر نئی الرجی کا شکار ہو سکتا ہے۔”

سائنسدان اب یہ جاننے لگے ہیں کہ بڑی عمر میں الرجی پیدا ہونے کے پیچھے کئی عجیب وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ان میں کووڈ جیسے وائرس، اینٹی بائیوٹکس کا زیادہ استعمال، حمل کے دوران ہارمونز کی تبدیلیاں اور یہاں تک کہ ٹک (ایک قسم کا کیڑا) کا کاٹنا بھی شامل ہیں۔ یہ رپورٹ بی بی سی فیوچر کی تحقیق پر مبنی ہے۔

کووڈ اور دوسرے وائرس الرجی کا سبب بن سکتے ہیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ الرجی صرف جینز کی وجہ سے نہیں ہوتی۔ اکثر کوئی چیز مدافعتی نظام کو “آن” کر دیتی ہے۔

۲۰۲۶ کی ایک تحقیق کے مطابق کووڈ-۱۹ کے مریضوں میں بعد میں الرجک رائنائٹس (ناک بہنا، چھینک آنا) اور دمہ پیدا ہونے کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔ سویڈن کے ماہر فلپ کرمن کے مطابق انفیکشن کے دوران مدافعتی نظام میں شدید سوزش پیدا ہو جاتی ہے، جو الرجی کی بنیاد بن سکتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ویکسینیشن نے اس خطرے کو کم کیا۔

اسی طرح آر ایس وی اور عام زکام کا وائرس بھی بچوں اور بڑوں میں الرجی کا سبب بن سکتا ہے۔ ماہرہ روچی گپتا کہتی ہیں کہ جب جسم وائرس سے لڑ رہا ہوتا ہے اور اسی دوران کوئی الرجین (جیسے پولن یا کوئی کھانا) جسم میں داخل ہو جائے تو مدافعتی نظام الجھن کا شکار ہو جاتا ہے اور بے ضرر چیزوں کو بھی دشمن سمجھنے لگتا ہے۔

اینٹی بائیوٹکس اور آنتوں کا بیکٹیریا

اینٹی بائیوٹکس کے بار بار استعمال کو بھی الرجی سے جوڑا گیا ہے۔ ان ادویات سے آنتوں کا مائیکرو بایوم (اچھے بیکٹیریا کی کالونی) متاثر ہوتا ہے۔ جب یہ توازن بگڑتا ہے تو مدافعتی نظام میں “الجھن” پیدا ہو جاتی ہے اور وہ عام چیزوں کے خلاف ردعمل ظاہر کرنے لگتا ہے۔

ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ اینٹی بائیوٹکس کے ساتھ دہی، پروبائیوٹکس اور خمیری غذائیں استعمال کی جائیں تاکہ آنتوں کا توازن برقرار رہے۔

حمل اور مینوپاز کے دوران الرجی

حمل کے دوران خواتین کے جسم میں ہارمونز کی بڑی تبدیلی آتی ہے۔ تقریباً ایک تہائی خواتین جنہیں پہلے سے الرجی ہوتی ہے، ان کی علامات حمل میں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ کچھ خواتین میں پہلی بار “حمل کی رائنائٹس” پیدا ہو جاتی ہے، جس میں ناک بند ہونا، چھینکیں اور ناک بہنا شامل ہے۔ یہ عام طور پر عارضی ہوتی ہے اور بچے کی پیدائش کے بعد ختم ہو جاتی ہے۔

مینوپاز (ماہواری بند ہونے) کے بعد بھی کچھ خواتین میں نئی الرجیاں دیکھنے میں آتی ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ایسٹروجن اور پروجیسٹیرون جیسے ہارمونز مدافعتی نظام پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

ٹک کے کاٹنے سے سرخ گوشت کی الرجی

سب سے حیرت انگیز وجہ لون سٹار ٹک کا کاٹنا ہے۔ یہ کیڑا شمالی امریکہ میں پایا جاتا ہے اور موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے مزید علاقوں میں پھیل رہا ہے۔ اس کے کاٹنے سے “الفا-گیل سنڈروم” نامی حالت پیدا ہو سکتی ہے، جس میں انسان کو سرخ گوشت (گائے، بھیڑ، بکرے کا گوشت) سے الرجی ہو جاتی ہے۔

اس الرجی کی علامات عام طور پر گوشت کھانے کے کئی گھنٹے بعد ظاہر ہوتی ہیں۔ امریکہ میں گزشتہ چند سالوں میں اس بیماری کے دسیوں ہزار کیسز سامنے آ چکے ہیں۔

کیا بڑی عمر میں پیدا ہونے والی الرجی کا علاج ممکن ہے؟

زیادہ تر صورتوں میں نئی الرجی مستقل ہو جاتی ہے۔ مدافعتی نظام ایک بار کسی چیز کے خلاف اینٹی باڈیز بنا لے تو پھر ہر بار اس چیز سے رابطے پر ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ تاہم کچھ امید افزا پیشرفت ہوئی ہے:

  • اینٹی بائیوٹکس کے ساتھ آنتوں کی صحت کا خیال رکھنا خطرے کو کم کر سکتا ہے۔
  • وائرل بیماری کے دوران سوزش کو کنٹرول کرنا ممکنہ طور پر الرجی سے بچا سکتا ہے۔
  • زولیر جیسی دوائیں مدافعتی نظام کے شدید ردعمل کو روکتی ہیں اور دمہ کے ساتھ کھانے کی الرجی میں بھی فائدہ مند ثابت ہوئی ہیں۔
  • سائنسدان الرجی کے لیے خاص ویکسین اور ایک خوراک والے نئے علاج پر بھی کام کر رہے ہیں جو مدافعتی نظام کو دوبارہ تربیت دے سکیں۔

ماہرہ روچی گپتا کہتی ہیں کہ فی الحال نئی الرجی کو مکمل طور پر ختم کرنے کا کوئی یقینی طریقہ نہیں، لیکن اس شعبے میں تیزی سے ترقی ہو رہی ہے اور مستقبل امید افزا نظر آتا ہے۔

خلاصہ

الرجی صرف بچپن تک محدود نہیں۔ وائرس، ادویات، ہارمونز اور ماحولیاتی عوامل بڑی عمر میں بھی الرجی کا سبب بن سکتے ہیں۔ اگر اچانک نئی علامات ظاہر ہوں تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

ماخذ: بی بی سی فیوچر کی رپورٹ۔

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *