Wednesday, 28 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

سمندری طوفان ارناب آندھرا پردیش سے ٹکرا گیا: 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی ہوائیں، ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد محفوظ مقامات پر

وشاکھاپٹنم میں خلیج بنگال کے کنارے ساحلی سڑک

بھارت کی مشرقی ساحلی ریاست آندھرا پردیش میں بدھ کی صبح شدید سمندری طوفان ارناب ساحل سے ٹکرا گیا۔ خلیج بنگال سے اٹھنے والا یہ طوفان تیز ہواؤں، موسلا دھار بارش اور سمندر کی بلند لہروں کے ساتھ ساحل پر پہنچا، جس کے بعد کئی ساحلی اضلاع میں درخت اکھڑ گئے اور بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق طوفان نے بدھ کی صبح سویرے آندھرا پردیش میں لینڈ فال کا عمل شروع کیا۔ بھارتی محکمہ موسمیات نے بتایا کہ لینڈ فال کے دوران ہواؤں کی رفتار 125 سے 135 کلومیٹر فی گھنٹہ رہی، جب کہ جھکڑ 150 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچے۔ محکمے نے خبردار کیا ہے کہ اگلے چھ گھنٹوں کے دوران سمندر کی سطح معمول سے ڈیڑھ سے ڈھائی میٹر تک بلند ہو سکتی ہے، جس سے نشیبی ساحلی علاقے زیر آب آ سکتے ہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان نے آندھرا پردیش اور پڈوچیری کے قصبے یانم کے ساحل کو باپٹلہ اور وشاکھاپٹنم کے درمیان عبور کیا۔ طوفان کی رفتار پہلے اندازوں سے زیادہ رہی، اسی لیے لینڈ فال کا وقت بھی آگے آ گیا — مقامی وقت کے مطابق رات دو سے چار بجے کے درمیان، یعنی پاکستانی وقت کے مطابق رات ڈیڑھ سے ساڑھے تین بجے کے درمیان۔

طوفان سے پہلے بڑے پیمانے پر نقل مکانی کی گئی۔ آندھرا پردیش میں 89 ہزار سے زیادہ افراد کو ساحلی علاقوں سے نکال کر امدادی کیمپوں میں منتقل کیا گیا، جب کہ پڑوسی ریاست اڈیشہ میں بھی تقریباً 48 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا۔ دونوں ریاستوں میں مجموعی طور پر چار ہزار کے قریب پناہ گاہیں قائم کی گئیں، اور نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس کی 31 ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں تعینات کی گئیں۔

محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل مرنجے مہاپاترا نے خبردار کیا تھا کہ اس رفتار کی ہوائیں املاک کو بڑا نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ ان کے مطابق سمندر میں لہریں 14 میٹر تک بلند ہو چکی تھیں، جس سے سمندری سفر خطرناک ہو گیا تھا۔ ریاستی حکومت نے فصلوں، بجلی کے نظام اور مواصلاتی ڈھانچے کو نقصان کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔

اب تک جانی نقصان کی صورت حال واضح نہیں۔ آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ کے دفتر نے روئٹرز کو بتایا کہ لینڈ فال کے وقت تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تھی، اگرچہ کئی مقامات پر درخت گرے اور بجلی منقطع ہوئی۔ دوسری طرف مقامی ذرائع نے منگل کو ایک ہلاکت کی خبر دی تھی — منگلاپالم میں 65 سالہ شخص ٹوٹی ہوئی بجلی کی تار سے کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوا۔ یہ ہلاکت لینڈ فال سے پہلے کی ہے، اور حکام نے ابھی اسے طوفان سے ہونے والی سرکاری ہلاکتوں میں شامل نہیں کیا۔

نقل و حمل بھی بری طرح متاثر ہوا۔ جنوبی ساحلی ریلوے سمیت مختلف زونز نے 50 سے زیادہ ٹرینیں منسوخ کیں، جب کہ وجے واڑہ اور وشاکھاپٹنم کے ہوائی اڈوں پر منگل کو 21 سے زیادہ پروازیں منسوخ ہوئیں اور بدھ کے لیے بھی 15 پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔ اسکول بند رہے اور ماہی گیروں کو سمندر میں نہ جانے کی ہدایت کی گئی۔

یہ طوفان خلیج بنگال کے اسی خطے سے آیا ہے جو دنیا کے مہلک ترین طوفانوں کا گھر رہا ہے۔ اکتوبر 1999 میں اڈیشہ سے ٹکرانے والے سپر سائیکلون نے تقریباً دس ہزار افراد کی جان لی تھی۔ اس کے بعد سے بھارت نے انتباہی نظام، پناہ گاہوں اور پیشگی نقل مکانی پر بہت سرمایہ لگایا ہے — اور ارناب کے معاملے میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد کی بروقت منتقلی اسی نظام کا نتیجہ ہے۔

لیکن سوال اب بھی وہی ہے جو ہر بڑے طوفان کے بعد اٹھتا ہے: کیا انفرااسٹرکچر اس شدت کی ہواؤں اور طوفانی لہروں کو سہہ پائے گا؟ ہوائیں کم ہونے کے بعد اصل تصویر سامنے آئے گی — کتنے گھر تباہ ہوئے، کتنی فصلیں ڈوبیں، اور بجلی و سڑکوں کی بحالی میں کتنا وقت لگے گا۔ آندھرا پردیش اور اڈیشہ کے ساحلی اضلاع میں اگلے چوبیس گھنٹے اسی لیے فیصلہ کن ہیں: بارش کا زور برقرار رہا تو سیلاب کا خطرہ نشیبی علاقوں میں مزید بڑھ جائے گا۔

مزید پڑھیں: اس سے پہلے امریکی ساحل سے ٹکرانے والے سمندری طوفان ایسائیس کی صورت حال پر ہماری رپورٹ یہاں پڑھیں، اور اسپین میں طوفان آدم سے ہونے والی تباہی کی خبر یہاں ملاحظہ کریں۔ بھارتی محکمہ موسمیات کی تازہ ترین بلیٹن یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *