اسرائیل میں آج منگل 27 اکتوبر کو عام انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ یہ 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد ملک کے پہلے انتخابات ہیں، اور انہیں وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی سیاسی زندگی کا فیصلہ کن امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔ پولنگ مقامی وقت صبح 7 بجے شروع ہوئی، جو پاکستانی وقت کے مطابق صبح 10 بجے بنتی ہے، اور رات 10 بجے تک جاری رہے گی۔ ووٹنگ ختم ہوتے ہی ایگزٹ پولز سامنے آ جائیں گے۔
اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ کی 120 نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں، اور حکومت بنانے کے لیے 61 نشستوں کی اکثریت درکار ہے۔ گزشتہ ہفتے سامنے آنے والے تینوں آخری ٹیلی ویژن پولز میں نیتن یاہو کے بلاک کو 50 نشستیں ملیں، یعنی اکثریت سے 11 نشستیں کم۔ اپوزیشن کو 52 سے 56 نشستوں کے درمیان دکھایا گیا، جبکہ سابق آرمی چیف گاڈی آئزن کوٹ کی جماعت یاشار تینوں پولز میں نیتن یاہو کی لیکود سے آگے رہی۔ عرب جماعتوں کو ان اعداد میں الگ شمار کیا گیا ہے۔
نیتن یاہو اسرائیل کے طویل ترین عرصے تک رہنے والے وزیر اعظم ہیں، مجموعی طور پر 19 سال اقتدار میں رہے ہیں۔ وہ اپنی مہم میں جنگی قیادت اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنے اتحاد کو مرکزی دلیل بنا رہے ہیں۔ اتوار کو انہوں نے کہا کہ ٹرمپ ایرانی خطرے کو “ہمیشہ کے لیے” ختم کرنے کے لیے دوبارہ کارروائی کو تیار ہیں، لیکن صرف اس صورت میں جب نیتن یاہو اقتدار میں رہیں۔
دوسری طرف آئزن کوٹ، جو خود سابق فوجی سربراہ اور سخت گیر سیکیورٹی موقف کے حامل ہیں، کو دائیں اور مرکز دونوں حلقوں کی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے نیتن یاہو پر “خوف پھیلانے، جھوٹ اور دھمکیوں کی مہم” پر انحصار کا الزام لگایا ہے، اور کہا ہے کہ انہیں یقین ہے ٹرمپ “عوام کے منتخب کردہ کسی بھی رہنما کے ساتھ مکمل تعاون” کریں گے۔
نیتن یاہو کو حکومت بنانے کے لیے ایک بار پھر انتہائی دائیں بازو کے رہنماؤں ایتمار بن گویر اور بزلیل سموٹرچ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ دونوں پر بعض مغربی ممالک نے فلسطینیوں کے خلاف تشدد پر اکسانے کے الزام میں پابندیاں لگا رکھی ہیں، جبکہ بن گویر کی جماعت جیوش پاور حالیہ پولز میں مقبولیت حاصل کرتی دکھائی دی ہے۔ اگر کوئی بھی فریق اتحادی حکومت نہ بنا سکا تو نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم کے طور پر برقرار رہ سکتے ہیں اور اگلے سال دوبارہ انتخابات ہو سکتے ہیں۔
انتخابی نظام کے تحت کسی جماعت کو پارلیمنٹ میں آنے کے لیے 3.25 فیصد ووٹ درکار ہیں۔ صدر حکومت سازی کا مینڈیٹ دیں گے اور نامزد رہنما کے پاس حکومت بنانے کے لیے 42 دن ہوں گے۔ حتمی گنتی 30 اکتوبر تک متوقع ہے، جبکہ سرکاری نتائج 4 نومبر کو جاری ہوں گے۔
انتخابات سے دو دن پہلے اسرائیل نے مغربی کنارے سے تمام زمینی گزرگاہیں بند کر دی تھیں اور ہزاروں فلسطینی مزدوروں کا داخلہ معطل کر دیا تھا، جسے انتخابی سیکیورٹی کا حصہ قرار دیا گیا تھا۔
یہ انتخابات صرف اسرائیل کا اندرونی معاملہ نہیں ہیں۔ ان کا نتیجہ ایران کے ساتھ جنگ، غزہ کی صورت حال اور امریکہ کی مشرق وسطیٰ پالیسی کی سمت طے کرے گا۔ ٹرمپ کی نیتن یاہو کے لیے کھلی حمایت نے اسے واشنگٹن کے لیے بھی فیصلہ کن بنا دیا ہے، جس پر ہم پہلے تفصیل سے لکھ چکے ہیں۔ پاکستان سمیت خطے کے لیے بھی یہ نتیجہ اہم ہے، کیونکہ ایران کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورت حال توانائی کی قیمتوں پر براہ راست اثر ڈالتی ہے۔
پولنگ رات 10 بجے مقامی وقت پر ختم ہوگی، اور ایگزٹ پولز سے پہلی تصویر سامنے آئے گی، لیکن اصل اور حتمی تصویر اگلے چند دنوں میں ہی واضح ہو سکے گی۔

قارئین کے تبصرے (0)