دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سے ایک مائیکروسافٹ نے اپنے تقریباً 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ طور پر کمپنی چھوڑنے کی پیشکش کر دی ہے۔ یہ تعداد کمپنی کے کل ملازمین کا تقریباً 27 فیصد بنتی ہے، اور اس اقدام کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر بڑھتے ہوئے اخراجات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
یہ پیشکش پیر 26 اکتوبر کو کمپنی کی ایگزیکٹو وائس پریزیڈنٹ اور چیف پیپل آفیسر ایمی کولمین کی جانب سے ملازمین کو بھیجے گئے پیغام میں سامنے آئی، جسے مائیکروسافٹ نے اپنے آفیشل بلاگ پر بھی شائع کیا۔ اسے “رضاکارانہ رخصتی کی پیشکش” (Voluntary Exit Offer) کا نام دیا گیا ہے — یعنی کسی کو زبردستی نہیں نکالا جا رہا، بلکہ اہل ملازمین کو مالی مدد اور کیریئر کی منصوبہ بندی کی سہولت کے ساتھ رخصت کا اختیار دیا جا رہا ہے۔
کون اہل ہے، اور کہاں؟
یہ پیشکش امریکا، کینیڈا، برطانیہ اور بھارت میں حصہ لینے والی ٹیموں کے ان ملازمین کے لیے ہے جو لیول 70 یا اس سے نیچے ہیں — یعنی نائب صدر (وائس پریزیڈنٹ) کے عہدے تک کے ملازمین۔ مائیکروسافٹ نے خود اہل ملازمین کی تعداد نہیں بتائی، لیکن سی این بی سی اور بلومبرگ کی رپورٹوں کے مطابق یہ تعداد تقریباً 60 ہزار ہے۔ کمپنی کے کل وقتی ملازمین کی تعداد 30 جون تک تقریباً 2 لاکھ 23 ہزار تھی۔
ہر ٹیم اس پروگرام میں شامل نہیں۔ رپورٹوں کے مطابق ونڈوز، کوپائلٹ، کور اے آئی، ایکس باکس، فنانس اور انسانی وسائل کی ٹیمیں شامل ہیں، جبکہ ڈیٹا سینٹرز، سیلز، مارکیٹنگ اور سکیورٹی جیسی ٹیمیں اس سے باہر ہیں۔ کولمین نے اپنے پیغام میں کہا کہ شرکت کا فیصلہ ہر کاروباری شعبے کی ترجیحات، صارفین سے وعدوں اور افرادی قوت کی ضروریات پر منحصر ہے۔
شرائط کیا ہیں؟
اہل ملازمین کو فیصلے کے لیے دسمبر کے اوائل تک کا وقت دیا گیا ہے — بھارت میں رپورٹوں کے مطابق آخری تاریخ یکم دسمبر ہے — اور جو ملازمین پیشکش قبول کریں گے، وہ 31 دسمبر کو کمپنی چھوڑ دیں گے، بشرطیکہ کمپنی ان کی درخواست منظور کرے۔ اہم عہدوں پر موجود ملازمین اگر درخواست دیں تو کمپنی انہیں روکنے کی کوشش بھی کر سکتی ہے۔
پیکیج مائیکروسافٹ کے معیاری سیورنس پیکیج جیسا بتایا گیا ہے: امریکا میں اہل ملازمین کو کم از کم 60 دن کی بنیادی تنخواہ ملازمت کے دوران ملے گی، اس کے علاوہ عہدے اور مدتِ ملازمت کے حساب سے اضافی ادائیگی ہوگی۔ بعض ملازمین کو توسیع شدہ ہیلتھ انشورنس اور اسٹاک کی سہولت بھی دی جا سکتی ہے۔
یہ قدم کیوں اٹھایا گیا؟
مائیکروسافٹ اس سال اے آئی انفراسٹرکچر پر تقریباً 175 ارب ڈالر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ڈیٹا سینٹرز، چپس اور کمپیوٹنگ کی یہ دوڑ کمپنیوں کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ دوسری جگہوں سے اخراجات کم کریں۔ یہی وجہ ہے کہ رضاکارانہ رخصتی کو جبری برطرفیوں کا متبادل سمجھا جا رہا ہے — کمپنی افرادی قوت کم کرنا چاہتی ہے، لیکن بڑے پیمانے پر جبری نکالنے کے منفی اثرات سے بچنا بھی چاہتی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں۔ جولائی میں مائیکروسافٹ نے تقریباً 4,800 عہدے ختم کیے تھے، اور اس سے پہلے ریٹائرمنٹ کی عمر کے 8,750 ملازمین کو خریداری (بائی آؤٹ) کی پیشکش کی گئی تھی، جسے 30 فیصد سے زیادہ ملازمین نے قبول کیا تھا۔ اس کے باوجود کمپنی کی کل افرادی قوت 2022 سے تقریباً 2 لاکھ 23 ہزار کے آس پاس ہی رہی ہے — یعنی نئی بھرتیاں اور اندرونی تبادلے کمی کو پورا کرتے رہے ہیں۔
60 ہزار کا مطلب کیا ہے — اور کیا نہیں؟
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ 60 ہزار اہل ملازمین کی تعداد کا مطلب یہ نہیں کہ 60 ہزار ملازمتیں ختم ہو رہی ہیں۔ یہ صرف وہ لوگ ہیں جنہیں پیشکش ملی ہے۔ اصل میں کتنے لوگ جائیں گے، یہ ابھی معلوم نہیں — مائیکروسافٹ نے روانگی کا کوئی ہدف نہیں بتایا۔ گوگل نے 2025 میں اسی طرح کے پروگرام میں دیکھا تھا کہ صرف 3 سے 5 فیصد اہل ملازمین نے پیشکش قبول کی۔ اگر مائیکروسافٹ میں بھی یہی شرح رہی تو تقریباً 1,800 سے 3,000 ملازمین رخصت ہوں گے۔
لیکن اس اقدام کا پیغام واضح ہے: اے آئی کی دوڑ میں سب سے بڑی کمپنیاں بھی اب اپنی افرادی قوت کو نئے سرے سے ترتیب دے رہی ہیں۔ ملازمین کے لیے یہ ایک مشکل فیصلہ ہے — ایک طرف مالی مدد کے ساتھ رخصت کا محفوظ راستہ، دوسری طرف ایک ایسی صنعت میں غیر یقینی مستقبل جہاں اے آئی تیزی سے کام کے طریقے بدل رہی ہے۔ دسمبر تک ملازمین کے فیصلے بتائیں گے کہ یہ رضاکارانہ پیشکش واقعی کتنی بڑی تبدیلی لائے گی۔

قارئین کے تبصرے (0)