Tuesday, 27 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

مصر کی پارلیمنٹ نے سعودی عرب کے دفاع کے لیے فوجی مدد کی منظوری دے دی

مصری صدر عبدالفتاح السیسی

قاہرہ — مصر کی پارلیمنٹ نے پیر 26 اکتوبر کو سعودی عرب کے دفاع کے لیے فوجی مدد کی منظوری دے دی، جس سے عرب دنیا کی سب سے بڑی فوج خطے کی جاری جنگ میں براہ راست داخل ہونے کے ایک قدم اور قریب آ گئی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ارکانِ پارلیمنٹ نے صدر عبدالفتاح السیسی کو اختیار دیا ہے کہ وہ سعودی عرب کی حمایت کے لیے ضروری اقدامات کریں۔ سرکاری اخبار الاہرام نے ایوان کے فیصلے کی خبر دیتے ہوئے لکھا ہے کہ “ایوان نے صدر عبدالفتاح السیسی کو مملکت سعودی عرب کی حمایت کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا اختیار دے دیا۔”

یہ منظوری صدر السیسی کی گزشتہ ہفتے کی درخواست پر سامنے آئی ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ سے کہا تھا کہ اگر ریاض مدد مانگے تو مصر اپنے خلیجی اتحادی کے دفاع کے لیے تیار رہے۔ اس درخواست کی خبر 17 اکتوبر کو سامنے آئی تھی، جب السیسی نے کہا تھا کہ اگر سعودی عرب کہے تو مصر اس کے دفاع کے لیے “کوئی بھی اقدام” اٹھائے گا۔

فیصلے کا پس منظر یمن کے حوثیوں کے سعودی عرب پر بڑھتے ہوئے حملے ہیں۔ اس ماہ کے شروع میں ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ایئرپورٹ پر حملے میں 13 افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے، جسے ایک عشرے سے زیادہ عرصے میں مملکت پر سب سے مہلک حملہ قرار دیا گیا۔ پیر کو ہی سعودی قیادت والے اتحاد نے یمن میں حوثیوں کے میزائل لانچروں اور ذخیرہ گاہوں پر حملوں کا اعلان بھی کیا۔

مصر کے لیے یہ فیصلہ محض ایک رسمی کارروائی نہیں۔ حوثیوں کی پیش قدمی باب المندب آبنائے کو خطرے میں ڈال رہی ہے، جو مصر کی نہر سوئز کا دروازہ ہے — اور نہر سوئز مصر کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ اسی لیے قاہرہ اب تک حوثی حملوں کی مذمت تو کرتا رہا ہے، مگر براہ راست لڑائی سے دور رہا ہے۔

تاریخ بھی اس احتیاط کی وجہ بتاتی ہے۔ مصر 2015 میں سعودی قیادت والے اتحاد میں بحری شراکت دار کے طور پر شامل ہوا تھا اور اس نے تقریباً 800 زمینی فوجی بھیجے تھے، مگر اس کا کردار محدود رہا۔ اس سے پہلے 1960 کی دہائی میں یمن میں مصر کی مداخلت بہت مہنگی ثابت ہوئی تھی، اور 1991 کی خلیجی جنگ کے بعد سے مصر نے بیرونِ ملک کوئی بڑی زمینی فوجی مہم نہیں چلائی۔

ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ مصر اگست میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا رکن نہیں ہے۔ مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے اس ماہ کہا تھا کہ اس معاہدے میں مصر کی شمولیت “سنجیدہ غور” میں ہے۔ آج ہی تہران میں اسی معاہدے کے ممالک کے اعلیٰ حکام ایرانی حکام سے ملاقات کر رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں سفارت کاری اور فوجی تیاری دونوں ایک ساتھ چل رہی ہیں۔

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پارلیمنٹ کی منظوری کا مطلب فوجیوں کی فوری روانگی نہیں ہے۔ منظوری اس صورت میں نافذ ہوگی جب ریاض باضابطہ طور پر مدد مانگے گا، اور اب تک ایسی کسی درخواست کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ لیکن قانونی اور سیاسی رکاوٹ کا ہٹ جانا خود ایک بڑا اشارہ ہے: قاہرہ نے حوثیوں اور ان کے حامیوں کو بتا دیا ہے کہ سعودی عرب پر حملے کا دائرہ اب صرف ریاض تک محدود نہیں رہے گا۔

اس فیصلے کے بعد سب کی نظریں تین چیزوں پر ہوں گی: کیا ریاض مصر سے باضابطہ مدد مانگتا ہے، تہران میں جاری ملاقاتوں سے کوئی مشترکہ بیان سامنے آتا ہے یا نہیں، اور منگل کو اسرائیل کے انتخابات کے بعد خطے کی صورت حال کس رخ پر جاتی ہے۔ مصر کی پارلیمنٹ نے دروازہ کھول دیا ہے — اب یہ دیکھنا ہے کہ اس دروازے سے گزرا کب اور کیسے جاتا ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *